“سونو نگم اور محمد رفیع کا اے آئی کے ذریعے شاندار لائیو ڈیوٹ”

بالی ووڈ کے معروف گلوکار سونونگم نےمحمد رفیع کے ساتھ لائیو ڈیوٹ پیش کیا، جس نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی۔

حال ہی میں مقبوضہ کشمیرکے دارالحکومت سرینگر کے شیری کشمیر انٹرنیشنل کانوکیشن کمپلیکس میں ایک یادگار کنسرٹ منعقد ہوا، جس میں سونو نگم نے اپنا مشہور گانا ”کل ہو نہ ہو“ کو رفیع صاحب کی آواز کے ساتھ پیش کیا۔ یہ گانا اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے تخلیق کیا گیا تھا۔ جس کی ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی۔

اس وقت جبکہ دنیا بھر کے تخلیقی فنکار اے آئی کے استعمال پر مختلف رائے رکھتے ہیں، سونو نگم نے اس نئے ٹیکنالوجی کا بہترین استعمال کرکے ایک منفرد سنگیت پیش کیا۔

ویڈیو جیسے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، مداحوں نے اس پرفارمنس کی بھرپور تعریف کی۔ ایک مداح نے لکھا، ”زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ“

دوسرے نے کہا، ”یہی ہے وہ طریقہ جسے AI کے ذریعے موسیقی میں شامل کیا جانا چاہیے۔“

سونو نگم نے اس پرفارمنس کے بعد دی انڈین ایکسپریس کے ساتھ بات کرتے ہوئے اے آئی کے موسیقی پر اثرات کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اس سوال کے جواب میں کہ آج کل مشہور گلوکاروں جیسے کیشور کمار اور محمد رفیع کی آوازوں کو ٹیکنالوجی کی مدد سے دوبارہ تخلیق کیا جا رہا ہے، سونو نے کہا، ’اے آئی کو ایک معاون کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ اسے آپ کا باس سمجھا جائے۔ یہ ایک ایسا ٹول ہے جو تخلیق میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، مگر یہ کبھی بھی انسان کی روح کی جگہ نہیں لے سکتا، جو موسیقی کو اس کی اصل حقیقت دیتی ہے۔‘

یہ کانسرٹ خاص طور پر اس لیے بھی یادگار رہا کہ یہ پہلگام حملے کے بعد وادی میں ہونے والا پہلا کنسرٹ تھا۔ سونونگم کی اس پرفارمنس نے نہ صرف موسیقی کے دلدادہ افراد کو محظوظ کیا، بلکہ کشمیری عوام کے لیے ا امید کی کرن بھی ثابت ہوا۔

سونو نگم نے اس پرفارمنس کے ذریعے ثابت کیا کہ ٹیکنالوجی کو صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو وہ ماضی کی یادوں اور حال کی تخلیق کو ایک ساتھ لا کر ایک نیا جادو تخلیق کر سکتی ہے۔