طیبہ متین کی سالگرہ، کی محفل

سچ تو یہ ہے،
بشیر سدوزئی
نومبر کا آخری عشرہ، کراچی کی فضا پر ایک خوشگوار تبدیلی کے ساتھ اُترا ہے۔ گرمی کا زور ٹوٹ رہا ہے، سمندر کی سمت سے چلتی ہوا شام ہوتے ہی شہر کو اپنی بانہوں میں لے لیتی ہے، اور لوگ گھروں سے یوں نکلتے ہیں جیسے موسم نے خصوصی دعوت نامہ بھیجا ہو۔
گزشتہ شب اسی دلکش موسم میں ایک ایسی یادگار تقریب منعقد ہوئی جس نے شہر کی سماجی زندگی میں ایک خوش رنگ اضافہ کیا۔ نامور سوشل ورکر، ٹور آپریٹر، بزمِ طلباء کی سرگرم رکن اور ہمہ جہت شخصیت طیبہ متین نے اپنی سالگرہ کے موقع پر مقامی ہوٹل میں ایسی خوب صورت محفل کا اہتمام کیا کہ دیکھنے والے دیر تک اس کے رنگوں میں بھیگے رہے۔
یہ تقریب محض سالگرہ کا جشن نہیں تھی؛ یہ دوستوں، رفیقوں اور ہمدموں کے مل بیٹھنے، پرانی یادیں تازہ کرنے اور نئی توانائی کی تجدید کا موقع تھی۔
جیسے ہی شام نے سمندر کی سمت سے ٹھنڈی سانس لی، ہوٹل کی چھت پر مدھم روشنیوں نے ماحول کو نرم اور دل آویز بنا دیا۔
طیبہ متین اپنے وقت کی پابندی کے لیے مشہور ہیں۔ ہم پورٹ گرانٹ پہنچے تو مقررہ وقت، شام چھ بجے، سے پندرہ منٹ تاخیر ہو چکی تھی، مگر میزبان دروازے پر موجود تھیں، اور چند مہمان پہلے ہی آ چکے تھے۔
رفتہ رفتہ دوست احباب پہنچنے لگے۔ ہر مصافحے میں رفاقت کی گرمی تھی اور ہر مسکراہٹ میں برسوں کی داستانیں۔
طیبہ نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا:
“مجھے خوشی ہے کہ میرے بچپن سے پچپن تک کے سارے دوست آج میرے ساتھ موجود ہیں۔ میں نے چاہا کہ اس خوشی کو سب مل کر سلیبریٹ کریں۔”
یہ جملہ ابھی فضا میں جھول ہی رہا تھا کہ علامہ خورشید احمد نے حسب روایت اپنی جملہ بازی سے محفل کو چٹخارا دار بنا دیا:
“طیبہ کی یہی دلیری اسے منفرد بناتی ہے کہ عمر چھپاتی نہیں۔ دیکھیں کس خوب صورتی سے اپنی عمر بھی بتا دی، حالانکہ خواتین عمر چھپاتی ہیں!” اطراف میں بیٹھے افراد نے قہقہ لگایا تاہم اسپیکر کی آواز میں یہ قہقہ اور تبصرے دب گئے۔
میزبان کی سادگی اور وقار، خوش اخلاقی اور گرمجوشی، مہمانوں سے ملنے کا انداز، منفرد تھا جس سے آنے والے مہمان اور بھی زیادہ محظوظ ہوئے اور سب نے مل کر تقریب کو ایک خاص حرارت دی۔ طیبہ جہاں بھی جاتی ہیں، مثبت توانائی کی روشنی ساتھ لے جاتی ہیں، اور اسی روشنی نے اس شام کو بھی مہکا دیا۔ جہاں طیبہ کے دوستوں، احباب اور رشتہ داروں کی کثیر تعداد جمع ہو چکی تھی۔
محفل میں قہقہوں کی کہکشاں، بچوں کے کیمرے کی فلیشیں، دوستوں کی گفتگو اور محبت بھری چھیڑ چھاڑ نے ماحول کو خوشیوں سے بھر دیا۔
کیک کاٹنے سے پہلے محفل میں ادب کی خوشبو بھی گھل گئی۔ طیبہ نے معروف شاعر انجم جاوید کو دعوت دی۔ انہوں نے اپنا تازہ کلام سنایا:
“اس کو ڈھونڈو، کہاں گیا جاوید
ہو گیا اب تو خواب سا جاوید”
پھر علامہ خورشید احمد نے بھی صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا کلام پیش کیا:
“گردشِ وقت سے آگئے میں، کدھر جاؤں گا؟
کسی ان دیکھے جزیرے میں اتر جاؤں گا”
جب اردو ادب کا معتبر نام زائد حسین جوہری سے کلام کی درخواست کی گئی تو کچھ حیل و حجت ہوئی، مگر طیبہ کے اصرار کے آگے نہ چل سکی۔ محفل ان کی آواز سے روشن ہوئی:
“زندگی سے فرار کرتے ہیں
شاعری اختیار کرتے ہیں”
اور پھر آیا کیک کا مرحلہ، لیکن یہاں منظر دلچسپ تھا۔ میز پر چار کیک رکھے دیکھ کر لوگ حیران ہوئے۔
طیبہ نے اعلان کیا:
“آج اس محفل میں ہر اس دوست کا کیک کاٹا جائے گا جو نومبر میں پیدا ہوا ہے۔”
یوں شیلہ سلیم، انجم جاوید، سلمان کے صاحبزادے اور خود طیبہ متین ایک ساتھ سامنے آئے۔ تالیوں کی گونج میں لالا سلیم کی لائق صاحبزادی سائرہ کی آواز کے ساتھ حاضرین نے آواز ملائی:
“تم جیو ہزاروں سال، ہماری ہے یہ دعا…”
محبت بھری دعاؤں اور مسکراہٹوں کے ساتھ چاروں نے اپنے اپنے کیک کاٹے۔
تحائف پیش ہوئے۔ پھولوں کے ہار اور گل دستوں نے ماحول کو مزید مہکا دیا۔
تقریب کے اختتام پر طیبہ نے نہایت دل نشین انداز میں اپنے دوستوں، رفقاؤں اور ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جو ان کے سماجی اور پیشہ ورانہ سفر میں ساتھ رہے۔
جب کھانے کا دور شروع ہوا تو میزبان ایک ایک میز پر گئیں، ایک ایک مہمان سے بات کی، اور حقِ میزبانی ادا کر دیا۔
آخر میں سائرہ اور شیلہ نے کلوکاری کے جوہر دکھائے اور خوب داد سمیٹی۔
یہ محفل صرف ایک سالگرہ کا جشن نہیں تھی، بلکہ محبت، رفاقت، اعتماد اور سماجی خدمت کے سفر کا ایک حسین پڑاؤ ثابت ہوئی۔ ایک ایسی شام، جو دیر تک دلوں میں اپنی روشن یادیں چھوڑ گئی۔