پاک افغان W@r نیوز ٹوڈے | بدخشاں جھڑپیں، حکومت کی تبدیلی | انڈیا بمقابلہ پاکستان | پاکستان جزیرہ | پاک افغان تجارت | ایران | سعودی عرب | USA


پاک افغان W@r نیوز ٹوڈے | بدخشاں جھڑپیں، حکومت کی تبدیلی | انڈیا بمقابلہ پاکستان | پاکستان جزیرہ | پاک افغان تجارت | ایران | سعودی عرب | USA

پاک افغان W@r نیوز ٹوڈے | بدخشاں جھڑپیں، حکومت کی تبدیلی | انڈیا بمقابلہ پاکستان | پاکستان جزیرہ | پاک افغان تجارت | ایران | سعودی عرب | USA
Pak-Afghan W@r News Today | Badakhshan Clashes, Regime Change | India Vs Pakistan | Pakistan Island | Pak-Afghan Trade | Iran | Saudi Arabia | USA
=================================

بھارت کو زناٹے دار تھپڑ، امریکی رپورٹ نے بھی پاکستان کی فتح پر مہر لگادی، بھارت چار دن میں گھٹنوں کے بل گرنے پر مجبور، وزیراعظم

بھارت کو زناٹے دار تھپڑ، امریکی رپورٹ نے بھی پاکستان کی فتح پر مہر لگادی، بھارت چار دن میں گھٹنوں کے بل گرنے پر مجبور، وزیراعظم
اسلام آ باد (نیو ز رپورٹر)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی فتوحات کا دائرہ معاشی میدان تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چار روزہ جنگ کے بعد بھارتی فوج گھٹنوں پر آ گئی،امریکی کانگریس کی حالیہ رپورٹ نے پاک۔بھارت جنگ میں پاکستان کی طرف سے بھارت کو زناٹے دار تھپڑ اور رسید کرنے اور پاکستان کی فتح پر مہر تصدیق ثبت کر دی ،بھارت چار دن میں گھٹنوں کے بل گرنے پر مجبور ہوا، بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام کو ان کا حق ملنے تک پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا،فیلڈ مارشل عاصم منیر، سیاسی و عسکری قیادت کی مشاورت سے بلاخوف و خطر فیصلے کئے،افواج کی دلیری اور فتوحات کے باعث پاکستان کا دنیا میں وقار بلند ہوا، آزاد کشمیر میں باغ دانش کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے، دانش سکولز سے فارغ التحصیل عام گھرانوں کے طلبا و طالبات بھی انجینئرز، ڈاکٹرز بن کر ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے علاقے ہاڑی گہل میں دانش سکول کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، وفاقی وزرا انجینئر امیر مقام، احسن اقبال، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خاں کے علاوہ معززین اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ باغ میں باغ دانش کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے، یہ وہ دانش گاہ ہے جس کا سفر ہم نے پنجاب سے شروع کیا تھا، آج پورے پاکستان میں یہ دانش گاہیں دن رات تعمیر و ترقی کے ذریعے پھیل رہی ہیں، بھمبر میں دانش سکول کا 35 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ محکمہ تعلیم کو باغ کے دانش سکول کا23 مارچ 2026ء کو افتتاح کرنے کی ہدایت کی ہے، دانش سکول کا دائرہ کار وادی نیلم تک پھیلایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نومنتخب وزیراعظم آزاد کشمیر نے فارورڈ کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کا مطالبہ کیا ہے، ان کی خواہش پر فارورڈ کہوٹہ کے لئے تحفتاً دانش سکول کا اعلان کرتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دانش سکول پاکستان کے نامور تعلیمی اداروں کے ہم پلہ ہیں، دانش سکولوں میں غریبوں کے بچے بہترین تعلیمی سہولیات حاصل کر رہے ہیں، میرٹ پر مفت اور بہترین تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دانش سکولوں کا جو خواب دیکھا تھا اس کی تکمیل کا وقت آ گیا ہے، عوام کو ایسی تعلیمی سہولیات کی فراہمی علامہ اقبال اور قائداعظم کا وژن تھا، دانش سکولوں میں پڑھنے والے بچے پاکستان کا نام روشن کریں گے اور اسے عظیم ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دانش سکولوں سے غریب اور یتیم بچوں کو بھی انجینئر، ڈاکٹر بننے کے مواقع ملے اور کیمبرج جیسے اداروں میں بھی یہ بچے پہنچ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ملک کا نام روشن کریں گے۔ وزیراعظم نے امریکی کانگریس کی حالیہ رپورٹ کا خیرمقدم کیا جس نے پاک۔بھارت جنگ میں پاکستان کی طرف سے بھارت کو زناٹے دار تھپڑ رسید کرنے پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بار بار بھارتی طیارے مار گرائے جانے کا ذکر کرتے ہیں، پاکستان کو جو عزت آج ملی ہے یہ ہمارے بہادر جوانوں اور شاہینوں کی بہترین کارکردگی کی بدولت ملی ہے۔
=============================

سعودی عرب کو اسرائیل کے مقابلے میں کم تر درجے کے ایف 35 جنگی طیارے دیے جائیں گے، امریکی حکام
امریکی حکام اور دفاعی ماہرین نے کہا ہے کہ امریکا سعودی عرب کو ایف-35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کا جو منصوبہ بنا رہا ہے، وہ اسرائیل کے زیرِ استعمال طیاروں کے مقابلے میں کم تر درجے کے ہوں گے، کیونکہ ایک امریکی قانون اسرائیل کی خطے میں عسکری برتری کی ضمانت دیتا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے سعودی عرب کو ایف 35 طیارے فروخت کرنے کا اعلان کیا، لیکن حکام نے کہا کہ سعودی طیاروں میں وہ اعلیٰ خصوصیات شامل نہیں ہوں گی جو اسرائیلی بیڑے میں موجود ہیں، جن میں جدید ہتھیاروں کے نظام اور الیکٹرانک وارفیئر آلات شامل ہیں۔

اسرائیل کو اپنے ایف-35 طیاروں میں ترمیم کے خصوصی اختیارات حاصل ہیں، جن میں اپنے ہتھیاروں کے نظام کو ضم کرنے اور ریڈار جیمنگ کی صلاحیتیں اور دیگر اپ گریڈ شامل کرنے کی اجازت ہے، جن کے لیے امریکا کی منظوری درکار نہیں ہوتی۔

اس کے باوجود، جیسا کہ منگل کو ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ کیا، اسرائیلی فضائیہ اس مجوزہ فروخت کی مخالفت کرتی ہے، اور اس نے سیاسی رہنماؤں کو ایک دستاویز میں خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام خطے میں اسرائیل کی فضائی برتری کو کمزور کرے گا۔

مچل انسٹیٹیوٹ فار ایرو اسپیس اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈگلس برکی کے مطابق اگرچہ سعودی عرب کو یہ طیارے مل بھی جائیں، امکان ہے کہ اسے AIM-260 جوائنٹ ایڈوانسڈ ٹیکٹیکل میزائل (JATM) نہ دیا جائے — جو اگلی نسل کے لڑاکا طیاروں کے لیے تیار کی جانے والی اگلی نسل کا فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل ہے۔

JATM کے 120 میل سے زیادہ کے فاصلے کو ایف-35 پلیٹ فارم سے وابستہ سب سے حساس میزائل ٹیکنالوجی سمجھا جاتا ہے, یہ میزائل غالباً اسرائیل کو ہی فراہم کیے جائیں گے۔

ایف-35 ہر ملک اور ہر پائلٹ کے لیے تخصیص کردہ ہوتا ہے۔ امریکا کے پاس سب سے زیادہ قابل ورژن موجود ہیں، جبکہ دیگر تمام ممالک کو اس سے کم تر درجے کے طیارے ملتے ہیں، سعودی طیاروں کو ٹیکنالوجی کے اعتبار سے اسرائیلی طیاروں کے مقابلے میں کم مضبوط رکھنا ممکن ہے، جس کا انحصار اس سافٹ ویئر پیکیج پر ہے جس کی طیاروں کے لیے اجازت دی جائے۔

صلاحیت کے فرق کے علاوہ، اسرائیل عددی برتری بھی رکھتا ہے، کیونکہ وہ اس وقت ایف-35 کے دو اسکواڈرن چلا رہا ہے اور تیسرا آرڈر پر ہے، سعودی عرب کو دو اسکواڈرن تک محدود رکھا جائے گا جن کی فراہمی میں کئی سال لگ جائیں گے۔

اسرائیل گزشتہ تقریباً آٹھ برسوں سے خطے میں ایف-35 کا واحد استعمال کنندہ رہا ہے، جس سے اسے اس طیارے کے نظام اور صلاحیتوں سے سیکھنے میں قابلِ ذکر تجربہ حاصل ہوا ہے۔

امریکی حکام نے کہا کہ فروخت کو حتمی شکل دینے سے قبل اسرائیل کی معیاری عسکری برتری کا باضابطہ جائزہ ضروری ہوگا، سعودی عرب کو ہونے والی ہر فروخت کی کانگریس سے منظوری درکار ہوتی ہے، ایک اہلکار نے اشارہ دیا کہ کانگریس میں اسرائیل کی مضبوط حمایت اس منظوری میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

حکام نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اسرائیل، سعودی عرب کو ابراہیمی معاہدوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خطے میں تعلقات کو معمول پر لایا جا سکے اور ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی سے بچا جا سکے۔

کانگریس کی جانب سے ویٹو پروف مشترکہ قرار داد کے ذریعے اس کی مخالفت کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی تاکہ صدر کے ویٹو کو کالعدم قرار دیا جا سکے، جو ایک مشکل ہدف سمجھا جاتا ہے۔

یہ فروخت سعودی عرب کو قطر اور متحدہ عرب امارات کے برابر لا کھڑا کرے گی، جنہیں ایف-35 طیاروں کی پیش کش کی گئی ہے، تاہم یہ معاہدے اب بھی ڈیلیوری شیڈول، طیاروں کی صلاحیتوں، اور ٹیکنالوجی تک چین کی ممکنہ رسائی پر تحفظات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں۔