اسلام آبادہائیکورٹ کے چار جج سیاسی ثابت ہوگئے،بلوچستان ہائیکورٹ ٹرانسفر سے بچنے کا راستہ موجود،دودسمبراہم کیوں؟بہت ہوگیا،اب گھر جائیں


اسلام آبادہائیکورٹ کے چار جج سیاسی ثابت ہوگئے،بلوچستان ہائیکورٹ ٹرانسفر سے بچنے کا راستہ موجود،دودسمبراہم کیوں؟بہت ہوگیا،اب گھر جائیں

اسلام آبادہائیکورٹ کے چار جج سیاسی ثابت ہوگئے،بلوچستان ہائیکورٹ ٹرانسفر سے بچنے کا راستہ موجود،دودسمبراہم کیوں؟بہت ہوگیا،اب گھر جائیں
====================

ڈیجیٹل دنیا باہمی رابطوں میں بہتری اور لوگوں کو بااختیار بنانے کا وعدہ تھا لیکن لاکھوں خواتین اور لڑکیوں کے لیے یہ ایک ایسی جگہ بنتی جا رہی ہے جو تشدد اور بدسلوکی سے عبارت ہے۔

ڈیجیٹل تشدد خطرناک رفتار سے پھیل رہا ہے جسے موثر قوانین و احتساب کی کمی اور مصنوعی ذہانت سے ہوا مل رہی ہے۔ آن لائن ہراسانی اور تعاقب سے لے کر بدنامی، رضامندی کے بغیر تصاویر اور ویڈیو شیئر کرنے، ڈیپ فیک اور غلط معلومات کے پھیلاؤ تک کئی طرح کا یہ تشدد اب انٹرنیٹ کے ہر گوشے میں سرایت کر چکا ہے اور اس کے ذریعے خواتین اور لڑکیوں کو خاموش کرنے، بدنام کرنے اور ڈرانے کا کام لیا جا رہا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق، 40 فیصد سے بھی کم ممالک میں خواتین کو آن لائن ہراسانی یا تعاقب سے تحفظ دینے کے لیے قوانین موجود ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی 44 فیصد خواتین اور لڑکیاں یعنی 1.8 ارب افراد قانونی تحفظ تک رسائی سے محروم ہیں۔
کمزور قانونی تحفظ
کاروبار یا سیاست میں قیادت کے عہدوں پر فائز خواتین تواتر سے ڈیپ فیک، منظم ہراسانی اور صنفی بنیاد پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات کا نشانہ بنتی ہیں جن کا مقصد انہیں اپنی جگہ سے ہٹانا یا عوامی زندگی سے خارج کرنا ہوتا ہے۔

یو این ویمن کے مطابق، دنیا بھر میں ایک چوتھائی خاتون صحافیوں نے آن لائن جسمانی تشدد حتیٰ کہ قتل کی دھمکیاں موصول ہونے کی اطلاع دی ہے۔
ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما بحوث کا کہنا ہے کہ جو کچھ آن لائن شروع ہوتا ہے وہ وہیں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ڈیجیٹل بدسلوکی حقیقی زندگی تک پھیل جاتی ہے، خوف پیدا کرتی ہے، آوازوں کو خاموش کراتی اور بدترین صورتوں میں جسمانی تشدد اور خواتین کے قتل تک جا پہنچتی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ قوانین کو ٹیکنالوجی کے مطابق ترقی کرنی چاہیے تاکہ انصاف خواتین کو آن لائن اور آف لائن دونوں جگہ تحفظ فراہم کرے۔ کمزور قانونی تحفظ کے باعث لاکھوں خواتین اور لڑکیاں غیر محفوظ رہ جاتی ہیں جبکہ مجرم بلاخوف و خطر کام کرتے ہیں جبکہ یہ ناقابل قبول ہے۔

یو این ویمن اپنی 16 روزہ مہم کے ذریعے ایک ایسی دنیا تخلیق کرنے کی اپیل کر رہی ہے جہاں ٹیکنالوجی نقصان نہیں بلکہ برابری کو فروغ دے۔

مصنوعی ذہانت اور بدسلوکی
آن لائن بدسلوکی اور تشدد کے بہت کم واقعات کی اطلاعات سامنے آتی ہیں۔ عدالتی نظام اس حوالے سے تیار نہیں اور ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز پر احتساب نہ ہونے کے برابر ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی بدسلوکی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے سرحدوں اور پلیٹ فارمز کے پار مجرموں کی بے خوفی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

تاہم اس تمام صورتحال کے باوجود بہتری کی جانب پیش رفت بھی جاری ہے۔

قوانین کو ٹیکنالوجی میں آنے والی تیز رفتار تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ برطانیہ اور آسٹریلیا کے ‘آن لائن سیفٹی ایکٹ’ سے لے کر میکسیکو کے ‘اولمپیا ایکٹ’ اور یورپی یونین کے ‘ڈیجیٹل سیفٹی ایکٹ’ تک بہت سے نئے اصلاحاتی اقدامات سامنے آ رہے ہیں۔
رواں سال تک 117 ممالک نے آن لائن تشدد سے نمٹنے کی کوششوں پر رپورٹ دی، تاہم عالمگیر نوعیت کے اس مسئلے کے مقابلے میں یہ کوششیں اب بھی منتشر ہیں۔

اقوام متحدہ کی سفارشات
یو این ویمن نے اس مسئلے پر قابو کے لیے درج ذیل اقدامات کی اپیل کی ہے:

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت کے آلات کو حفاظتی اور اخلاقی معیار کے مطابق بنانے کے لیے عالمی تعاون
آن لائن تشدد سے متاثرہ خواتین کی معاونت کے لیے حقوق نسواں کی تنظیموں کی مالی امداد
بہتر قوانین اور ان کے نفاذ کے ذریعے مجرموں کا احتساب
ٹیکنالوجی کمپنیوں میں خواتین کی تعداد بڑھا کر آن لائن ماحول کو محفوظ بنانے، نقصان دہ مواد کو ہٹانے اور شکایات پر موثر کارروائی کے لیے اقدامات
رویوں میں تبدیلی اور تحفظ کے لیے سرمایہ کاری، جس میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے ڈیجیٹل خواندگی، آن لائن حفاظت کی تربیت اور زہریلی آن لائن ثقافت کا مقابلہ کرنے کے پروگرام شامل ہوں۔
امسال خواتین کے خلاف صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے کی 16 روزہ مہم عالمی سطح پر ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ قانونی خلا کو پر کیا جائے، مجرموں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے اور ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کو ذمہ دار بنایا جا سکے۔