پاکستان کرکٹ ٹیم کے قابل اعتماد اوپنر کی تلاش اب بہت حد تک ختم ہونے کے قریب دکھائی دے رہی ہے، کیونکہ اذان اویس نے خود کو اس کردار کے لیے مضبوطی سے ثابت کر دیا ہے۔
پاکستان کے سابق انڈر 19 سٹار نے ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی بڑھتی ہوئی قوت کا ایک اور مظاہرہ کیا ہے۔ جاری قائداعظم ٹرافی 2025-26 میں صرف اپنے 21 ویں میچ میں انہوں نے اپنی نویں فرسٹ کلاس سنچری مکمل کی، جس میں بہاولپور کے خلاف 164 رنز شامل ہیں۔ اس شاندار اننگز نے نہ صرف سیالکوٹ کو قابو میں رکھا بلکہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں ان کا نام بھی کندہ کر دیا۔
اذان اویس نے پچھلے تین میچوں میں مسلسل سنچریاں اسکور کی ہیں: 134، 123 اور 164 رنز، اور یہ نو سنچریاں صرف 36 اننگز میں مکمل کی گئی ہیں۔ پاکستان کے ڈومیسٹک سرکٹ میں بہت کم بلے بازوں نے اپنے کیرئیر کے آغاز میں اتنی مستقل مزاجی دکھائی ہے۔
اوےس کی موجودہ فرسٹ کلاس اوسط 63.13 ہے، جو کہ فواد عالم کے 54.86 کے دیرینہ ریکارڈ کو پیچھے چھوڑتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر وہ آخری دن بھی آؤٹ ہو جائیں تو اوسط 61 سے اوپر برقرار رہے گی، جو تاریخ کے کسی بھی پاکستانی بلے باز سے آگے ہے۔
اس تاریخی کارنامے نے اویس کو عالمی کرکٹ کی اشرافیہ میں بھی ممتاز مقام دلایا ہے۔ وہ اب ڈان بریڈمین (95.14)، وجے مرچنٹ (71.64) اور جارج ہیڈلی (69.86) جیسے لیجنڈز کے ساتھ سب سے زیادہ فرسٹ کلاس اوسط رکھنے والے بیٹرز میں آٹھویں نمبر پر ہیں۔ فعال کھلاڑیوں میں صرف بھارت کے سرفراز خان (63.73) ان سے آگے ہیں۔

پاکستانی شائقین کے لیے اذان اویس کی کامیابیاں محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ دباؤ میں ڈیلیور کرنے، پارٹنرشپ بنانے اور فارمیٹس میں مستقل مزاجی برقرار رکھنے کی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔ ایسے بلے باز کی آمد کی امید ہے جو جلد ہی بین الاقوامی کرکٹ میں چھلانگ لگا سکتا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ اکثر استحکام کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہے، اذان اویس کے ریکارڈ ساز کارنامے ایک نئے دور کی امید دیتے ہیں جو بھروسے اور مزاج پر مبنی ہے۔ قائداعظم ٹرافی کے جاری رہنے کے ساتھ، تمام نظریں اذان اویس اور ان کی ریکارڈ بک کو دوبارہ لکھنے کی جستجو پر مرکوز ہیں۔























