
Ali Hassan Sajid
بچوں کے معروف ادیب عاطر شاہین کی آج سال گرہ ہے🌹🌹
تحریر :علی حسن ساجد
بچوں کے معروف ادیب اور ناول نگار عاطر شاہین کی آج سالگِرہ ہے ان کابنیادی تعلق ملتان شہر سے ہے۔ انہوں نے 1992ء سے لکھنے کا آغاز روزنامہ پاکستان کے بچوں کے صفحے ’بچوں کا پاکستان‘ سے کیا تھا او راب تک ان کی 1400کے لگ بھگ سبق آموز کہانیاں مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوچکی ہیں۔ 1998ء میں انہوں نے بچوں کی کہانیوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کے لیے بھی لکھنے کا آغاز کیا۔ بچوں کے رسائل ماہنامہ پھول‘ تعلیم و تربیت‘ ذہین‘ چندہ‘ فکشن‘ طفلِ کوکب‘ بچوں کی دنیا‘ شاہین میگزین‘ پیغام ڈائجسٹ‘ بزم قرآن‘ بچوں کا گلستان‘ کرن کرن روشنی کے ساتھ روزنامہ جنگ‘ ایکسپریس‘ دنیا اور خبروں کے علاوہ کئی رسائل اور اخبارات میں لکھا۔ ساتھ ساتھ ماہ نامہ ہسٹری میگزین‘ ایڈونچر‘ نئے اُفق‘ ڈر ڈائجسٹ اور سچی کہانیاں میں بھی لکھنے کا آغاز کیا۔ روزنامہ جنگ سنڈے میگزین‘ فیملی میگزین اور سرگزشت میں بھی خوب لکھا۔ ہفت روزہ فیملی میگزین میں ان کے آٹھ قسط وار ناول شائع ہوچکے ہیں۔ ویب سائٹ پر بھی بڑوں کے لیے لکھے ہوئے ان کے ناول موجود ہیں۔ عمرو عیار‘ ٹارزن‘ ہرکولیس اور شیخ چلی پر ان کی 700کے لگ بھگ کتابیں بھی معروف ادارے ارسلان پبلی کیشنز ملتان اور الاسد پبلی کیشن لاہور سے شائع ہوچکی ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ عمران سیریز کو بھی انہوں نے آگے بڑھانے کی کوشش کی او ران کے پانچ ناول شائع ہوئے۔ عاطر شاہین کو ہر موضوع پر لکھنے کا عبور حاصل ہے, بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کے لیے بھی خوب جم کر لکھتے ہیں، ہفت روزہ” اخبار جہاں” میں ان کا لکھا ہو ا ناول” دلدل” اور ماہ نامہ سرگزشت کراچی میں “روسیاہ “قسط وار شائع ہو چکے ہیں۔ ملتان سے شائع ہونے والے بچوں کے رسالے جھلمل تارے کے منیجنگ ایڈیٹر کے فرائض بھی انجام دیتے رہے ہیں۔ قلمکاروں کے نمائندہ رسالے” قلم کار” اور لکھاری سیریز کے بھی ایڈیٹر رہ چکے ہیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ چلڈرن فاونڈیشن کراچی اور ماہ نامہ جنگل منگل اور نونہالان وطن کی جانب سے عاطر شاہین کوسال گرہ کی مبارک باد اور ھدیہ تہنیت،
=========================
بشریٰ بی بی فیض حمید کیلئے کام کرتی تھیں: خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی سابق انٹیلی جنس سربراہ جنرل فیض حمید کے لیے کام کرتی تھیں، بشریٰ بی بی کی دی گئی معلومات چند روز میں درست ثابت ہو جاتی تھیں۔
جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے اکانومسٹ کی خبر کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی مکمل طور پر فیض حمید اور جنرل باجوہ کے کنٹرول میں تھے، جنرل عاصم منیر کی رپورٹ پر بانی پی ٹی آئی نے ناراض ہو کر انہیں ہٹا دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ سنگین مذاق کیا گیا، طاقت کے لیے ایک خاتون کو لانچ کیا گیا، چار پانچ سال کی لوٹ مار ایک منصوبے کے تحت کی گئی۔ لوٹ مار کے پیسے سے بانی پی ٹی آئی کو حصہ ملتا تھا، باقی پیسہ باہر گیا۔
عمران خان برطانوی جریدے میں چھپنے والے مضمون سے آگاہ ہیں
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ میں پلان کے تحت فیصلے ہوئے۔ پنجاب جیسے صوبے کے ساتھ سنگین مذاق ہوا، آکسفورڈ سے پڑھ کر بھی یہ سب کرنا افسوسناک ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عدلیہ کے تبادلوں پر نیا قانون دنیا کے مطابق ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس کے خواب دیکھے ہوئے تھے وہ نہ بن سکے، عدلیہ آزاد ہونی چاہیے مگر ثاقب نثار اور اعجاز الاحسن والے انداز میں نہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ فیض حمید عدالتوں اور بانی پی ٹی آئی دونوں کو کنٹرول کر رہے تھے، ملک کی کمانڈ جادو ٹونے کے حوالے کر دی گئی تھی، بشریٰ بی بی دشمن ملک کے ہاتھ لگ جاتیں تو سنگین خطرات پیدا ہوسکتے تھے۔























