ایک حالیہ انٹرویو میں ابو ملک — جو موسیقار انو ملک کے بھائی ہیں — نے اس جوڑی کے رویّے اور تعلقات کے بارے میں کھل کر بات کی۔
ان کے مطابق اکشے کمار اور ٹوئنکل کھنہ نے کامیابی حاصل کرنے کی دوڑ میں پرانے رشتوں اور مددگار لوگوں کو نظرانداز کیا۔
ابو ملک کا کہنا تھا کہ کئی ایسے افراد، جنہوں نے ان کے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں تعاون کیا، بعد میں ان کی نظر میں اہم نہ رہے۔ ان کے مطابق، اکشے کمار عمومی طور پر صرف اُن تعلقات کو آگے بڑھاتے ہیں جو ان کے فائدے کے ہوں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2017 میں اپنی کتاب کے لیے انہوں نے ٹوئنکل کھنہ سے ایک ویڈیو تبصرے کی درخواست کی تھی جسے انہوں نے مسترد کر دیا، جبکہ متعدد معروف شخصیات اس کام کے لیے تیار بھی ہوگئیں۔
ابو ملک نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اکشے کمار نے اپنے سابق سیکریٹری وکاس بالی کو بتدریج دور کر دیا تھا، جس کی وجہ سے وہ شدید مایوسی کا شکار ہوئے اور اپنی زندگی کے آخری دنوں تک اداس رہے۔
موسیقار کا کہنا ہے کہ وہ 90 اور 2000 کی دہائی میں بڑے لائیو شوز کا انعقاد کرتے تھے، اور ان کے تجربے کے مطابق فلم انڈسٹری میں کچھ لوگ احسان کا بدلہ نہیں دیتے— اور اکشے کمار اور ٹوئنکل کھنہ بھی انہی میں شامل ہیں۔























