راجہ پرویز اشرف کو تحریک انصاف غصہ دلانے میں کامیاب

رؤف کلاسرا
==========

نظریۂ ضرورت سے زمینی حقائق تک
پارلیمنٹ ایک دلچسپ جگہ ہے جہاں پریس گیلری میں بیٹھے ہوئے بہت کچھ سننے کو ملتا رہتا ہے۔ میں نے پارلیمنٹ کی کوریج اکتوبر 2002ء میں شروع کی۔ خدا بھلا کرے سلیم بخاری صاحب کا‘ جو اُس وقت دی نیوز کے ایڈیٹر تھے۔ میں نے ان سے پارلیمنٹ رپورٹنگ کی اجازت مانگی۔ وہ بہت کم انکار کرتے تھے اور یوں مجھے فوراً اجازت مل گئی۔ سلیم بخاری بھی شاندار انسان ہیں۔ ایک سمجھدار اور ذہین انسان‘ جو ہر مشکل مسئلے کا حل تلاش کر لیتے تھے اور پرویز مشرف کے دور میں بھی ہمارے جیسے رپورٹروں کو کئی مصیبتوں سے بچا لیتے تھے۔ یہ فن صرف سلیم بخاری میں دیکھا۔ یہ نہیں کہ شاہین صہبائی‘ ضیا الدین یا محمد مالک اپنے رپورٹروں کا دفاع نہیں کرتے تھے۔ وہ بھی ڈٹ کر دفاع کرتے تھے لیکن بخاری صاحب کا الگ ہی سٹائل تھا۔ کوئی بڑا بندہ ہماری خبروں یا سکینڈل فائل کرنے پر شکایت لگاتا اور ان سے ہمارے خلاف کوئی کارروائی کی توقع رکھتا تو وہ ہمارے سامنے ہی فون پر اسے اپنے مخصوص لہجے میں کہتے کہ شکر کریں سائیں آپ بچ گئے کہ خبر میں نے پڑھ لی تھی‘ ابھی تو اور بہت کچھ تھا جو اس میں سے میں نے کاٹ لیا ورنہ اس نے تو آپ کا سارا کچا چٹھا کھول دیا تھا۔ سوچیں اگر میری نظر نہ پڑتی تو آپ کی عزت کا جنازہ نکل جانا تھا۔ اور ایسا کرتے ہوئے وہ ہمیں آنکھ مارتے تھے۔ وہ بندہ الٹا اگلے پانچ منٹ تک بخاری صاحب کا شکریہ ادا کرتا رہتا کہ صاحب بھاگ لگے رہن کہ آپ نے پوری خبر نہیں جانے دی‘ حالانکہ وہ خبر میں سے ایک لفظ بھی نہیں کاٹتے تھے۔ انصار عباسی‘ اکرام ہوتی یا میری فائل کی ہوئی خبریں یا سکینڈلز وہ روکتے نہیں تھے۔ ایڈیٹر کے طور پر وہ سب کلیئر کرتے‘ ہاں کوئی بہت بڑا بم شیل قسم کا سکینڈل ہوتا تو وہ ادارے کے مالک کو ریفر کیا جاتا کہ اسے ایک نظر دیکھ لیں۔
بات کہیں اور نکل گئی لیکن رپورٹنگ میں آپ کے ایڈیٹر کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ میں نے جو سیکھا اس میں ضیا الدین‘ شاہین صہبائی‘ سلیم بخاری‘ ناصر ملک‘ محمد مالک یا فہد حسین کا بڑا ہاتھ ہے۔ میں خوش قسمت رہا کہ انگریزی پرنٹ صحافت میں اتنے بڑے ناموں کے ساتھ کام کیا‘ جس کا فائدہ عمر بھر اٹھایا۔ بخاری صاحب کی مہربانی کی وجہ سے پارلیمنٹ کی بِیٹ ملی اور یوں سیکھنے کا نیا عمل شروع ہوا۔ اگرچہ شروع میں مَیں ان سیاستدانوں سے مل کر بہت متاثر ہوتا تھا جو مشرف کے خلاف اسمبلی کے اندر مزاحمت کر رہے ہوتے تھے‘ ان کی باتیں اور تقریریں آسمان پر لے جاتی تھیں۔ ان کی باتوں اور پارلیمنٹ سے دیگر سیاسی سٹوریز کو رپورٹ کرنا اُس دور میں ایک باقاعدہ نشہ یا رومانس تھا۔ پھر وقفۂ سوالات یا کمیٹی اجلاسوں سے بڑے بڑے سکینڈلز ڈھونڈے اور فائل کیے۔ لیکن دھیرے دھیرے یہ سارا رومانس ختم ہو گیا۔ جب پیپلز پارٹی 2008ء میں حکمران بنی تو تب اندازہ ہوا کہ سیاسی ڈرامہ کسے کہتے ہیں۔ اگرچہ صدر آصف علی زرداری پاکستانی اینکرز یا صحافیوں کو سیاسی اداکار کہتے تھے‘ جن میں اکثریت ان کی تھی جو مشکل دور میں ان کے حق میں لکھتے اور بولتے رہے لیکن اب صدر بن کر صحافی دوستوں کا بولنا اور لکھنا انہیں چبھنا شروع ہو گیا تھا۔ اُن کے پرانے صحافی دوستوں نے کچھ اپنی باتوں اور پیش گوئیوں میں زیادہ ہی گُڑ ڈال دیا تھا کہ زرداری صاحب آج گئے کہ کل گئے۔ لیکن وہ اپنے پانچ سال پورے کر کے گئے بلکہ دوسری صدارتی مدت کا بھی پہلا سال مکمل کر چکے ہیں حالانکہ سلمان فاروقی کی کتاب کے مطابق جنرل اشفاق پرویز کیانی کو اُن کے ملٹری ڈاکٹر تسلی کرا چکے تھے کہ صدر زرداری کی صحت کی جو حالت ہے‘ وہ زیادہ عرصہ حیات نہیں رہیں گے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ وہی زرداری صاحب آج دوبارہ صدر ہیں اور پتا نہیں جنرل کیانی کا وہ ڈاکٹر کہاں ہے جس نے انہیں تسلی دی تھی کہ زرداری صاحب کے حوالے سے فکر نہ کریں۔
فکر سے یاد آیا کہ آئینی ترمیم کی وجہ سے پچھلے دنوں اسمبلی میں دلچسپ میچ چلتا رہا۔ پیپلز پارٹی اب بھول کر بھی بھٹو صاحب کے آئین کا ذکر نہیں کرتی بلکہ عوام کو زمینی حقائق کی کہانیاں سناتی رہتی ہے۔ جبکہ تحریک انصاف نے آج کل بھٹو صاحب کے نام کی گردان شروع کی ہوئی ہے۔ ان کی بھٹو صاحب سے محبت سے لگتا ہے کہ جیسے وہ تحریک انصاف کے اعزازی چیئرمین ہیں۔ اسد قیصر نے اپنی تقریر میں ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کو شہید کہا‘ حالانکہ عمران خان اپنی تقریروں میں بھٹو صاحب کے بارے کچھ اور فرماتے رہے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی کو بھٹو صاحب اور ان کا بنایا ہوا 73ء کا آئین سُوٹ کرتا ہے۔ پی ٹی آئی بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کو اس بات کا طعنہ دیتی ہے کہ آئین کی شکل بگاڑی جا رہی ہے۔ اسد قیصر نے تو یہاں تک کہا کہ بلاول اپنے نانا اور والدہ کو کیا منہ دکھائیں دیں گے؟
اگرچہ راجہ پرویز اشرف اور حنیف عباسی نے اپنی اپنی تقاریر میں عمران خان دور میں پارلیمنٹ کی زبوں حالی پر روشنی ڈالی‘ جب پوری پارلیمنٹ کو غیر منتخب افراد چلاتے تھے۔ خود عمران خان نے بھی ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں ایجنسی کو کہنا پڑتا کہ بندے اکٹھے کر کے دو‘ بل منظور کرانا ہے۔ ویسے مجھے سب سے زیادہ مزے کی تقریر پیپلز پارٹی کی نفیسہ شاہ کی لگی۔ پیپلز پارٹی والے اس وقت کچھ مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ جو پوزیشن انہوں نے آئینی ترمیم پر لینی تھی‘ وہ تحریک انصاف نے لے رکھی ہے جس کی وجہ سے وہ شرمندہ شرمندہ رہتے ہیں اور بعض دفعہ بے بسی کا شکار ہو کر غصہ بھی کر جاتے ہیں جیسے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کر گئے۔ راجہ پرویز اشرف کو تحریک انصاف غصہ دلانے میں کامیاب رہی ہے کیونکہ اُس کے پاس اس وقت کھونے کیلئے کچھ نہیں۔ پارٹی لیڈر اپنی اہلیہ اور دیگر سینئر رہنماؤں کے ساتھ جیل میں ہیں‘ پارٹی کا انتخابی نشان چھن چکا‘ مخصوص نشستیں دوسروں میں بٹ چکیں تو پھر اور کیا بچتا ہے‘ جس کی حفاظت کیلئے وہ مصالحت سے کام لیں۔ لیکن مجھے اُس وقت شدید حیرت ہوئی جب نفیسہ شاہ نے 27ویں آئینی ترمیم کیلئے پیپلز پارٹی کی حمایت کا جواز پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے انہوں نے اس ترمیم میں سے این ایف سی اور الیکشن کمیشن سے متعلق ترامیم نکلوا کر فیڈریشن کی خدمت کی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب معاملہ صدر کے اختیارات میں تبدیلی کا تھا تو اس پر پارٹی کے اندر بحث ہوئی لیکن بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس وقت جو خطے کے حالات ہیں‘ ضروری ہے کہ فیلڈ مارشل کو اختیارات دینے پر اعتراض نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ”زمینی حقائق‘‘ کو سامنے رکھ کر مزید اختیارات والی ترمیم پر رضامندی ظاہر کی۔انہوں نے ججوں اور عدلیہ کے نظریۂ ضرورت کے تحت یا آمروں کے دباؤ میں دیے گئے فیصلوں کی تاریخ جسٹس منیر سے شروع کی اور بعد میں آنے والے آمروں کے ادوار میں دیے گئے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا۔
میں پریس گیلری میں بیٹھا سوچتا رہا کہ ہم انسان کتنے بے انصاف ہیں کہ دوسرے کی غلطی پر جج اور اپنی غلطی پر وکیل بن جاتے ہیں۔ ججوں نے جو کچھ کیا وہ نظریۂ ضرورت تھا لیکن جو کچھ پیپلز پارٹی کر رہی ہے وہ ”زمینی حقائق‘‘ ہیں۔ یہی بات تو ضیا دور میں مارشل لاء کے خلاف نصرت بھٹو کیس میں سپریم کورٹ نے کہی تھی۔ جسٹس نسیم حسن شاہ نے یہی کہا تھا کہ زمینی حقائق پر بھٹو صاحب کو پھانسی لگائی گئی ورنہ ہم بیروزگار ہو جاتے۔ جونیجو حکومت کو بحال کرنے سے انکار کرتے ہوئے بھی یہی کہا گیا کہ زمینی حقائق کہتے ہیں کہ حکومت بحال نہ کریں‘ الیکشن ہونے دیں۔ یہی کچھ بعد میں مشرف کے مارشل لاء کو جائز قرار دیتے وقت کہا گیا۔ مطلب جج اگر دباؤ میں فیصلے دیں تو وہ ”نظریۂ ضرورت‘‘ لیکن اگر پیپلز پارٹی کوئی فیصلہ کرے تو وہ ”زمینی حقائق‘‘ کہلائیں گے۔ صدقے جاؤں پیپلز پارٹی کے اپنے دوستوں کی منطق اور سرنڈر پر۔
https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2025-11-14/50867/93660698

courtesy to Dunya