پاکستان کو جدت، شمولیت اور پائیداری پر مبنی ترقی کی سمت اختیار کرنی ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ مستقبل انہی کا ہے جو تیزی سے خود کو ڈھالتے ہیں، دی فیوچر سمٹ 2025 میں وزیراعلیٰ سندھ کا خطاب

پاکستان کو جدت، شمولیت اور پائیداری پر مبنی ترقی کی سمت اختیار کرنی ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

مستقبل انہی کا ہے جو تیزی سے خود کو ڈھالتے ہیں، دی فیوچر سمٹ 2025 میں وزیراعلیٰ سندھ کا خطاب

سندھ کو پاکستان کے نئے بیانیے جدت، دیانت اور شمولیت کا مرکز بنائیں، وزیراعلیٰ سندھ

سندھ نئی سوچ، نئی ٹیکنالوجی اور نئی شراکت داریوں کے لیے کھلا رہے گا، مراد علی شاہ

تعلیم، ڈیجیٹل مہارت اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری ہی اصل ترقی ہے، مراد علی شاہ

نیشنل بینک اور نٹ شیل گروپ ملک کے لیے جدت کا ماحول پیدا کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

کراچی (5 نومبر): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی ترقی کی سمت کو ازسرِنو متعین کرنے کی ضرورت ہے، ایک ایسی سمت جو جدت، شمولیت اور پائیدار ترقی پر مبنی ہو کیونکہ ملک اس وقت اپنی معاشی اور انتظامی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ وہ بدھ کو “دی فیوچر سمٹ 2025، کورس کریکشن: ری ڈیفائننگ دی ڈائریکشن” کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جسے نٹ شیل گروپ اور نیشنل بینک آف پاکستان نے مشترکہ طور پر منعقد کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سمٹ کا موضوع بروقت اور اہم ہے کیونکہ دنیا بھر کے ممالک اپنے ترقیاتی ماڈلز، طرزِ حکمرانی اور سماجی معاہدوں پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے ممتاز مہمانوں، ماہرین، صنعتکاروں، نوجوان انوویٹرز اور پالیسی سازوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان بھی ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہمیں اپنی سمت کو ازسرِنو متعین کرنا ہوگا اور وہ سمت جدت پر مبنی، شمولیتی اور پائیدار ترقی کی ہونی چاہیے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ پہلے ہی اپنی صنعتی و لاجسٹک بنیاد کی جدید کاری، آئی ٹی پارکس اور ٹیکنالوجی زونز کی ترقی، توانائی کے متبادل ذرائع، شہری بحالی اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کے ذریعے تبدیلی کی قیادت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے ایسے اصلاحاتی اقدامات متعارف کرائے ہیں جو کاروباری عمل کو آسان بناتے ہیں، سرکاری و نجی اشتراک کو مضبوط کرتے ہیں اور انفراسٹرکچر کی ترقی کو پائیداری اور مساوات کے اصولوں کے مطابق بناتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے سندھ کے اہم منصوبوں جیسے سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز، کراچی سیف سٹی، شاہراہ بھٹو اور گرین انرجی منصوبوں کو حکومت کے عملی، دوراندیش اور عوام دوست ویژن کی عکاسی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے اہم انفراسٹرکچر انسان کا ذہن ہے، جو تعلیم، ڈیجیٹل خواندگی اور مہارت کے ذریعے ترقی پاتا ہے۔ انہوں نے کہا اسی لیے سندھ نے اے ڈی بی انٹرنیشنل ایجوکیشن اینڈ اسکلز فورم جیسے اقدامات کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کی ہے تاکہ ہماری نوجوان نسل مستقبل کی معیشتوں کے لیے تیار ہو۔ مراد علی شاہ نے دی فیوچر سمٹ جیسے پلیٹ فارمز کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ فورمز پالیسی، سرمایہ اور تخلیقی صلاحیتوں کو جوڑتے ہیں اور یہی تعاون عوامی و نجی شعبوں کے درمیان جدت اور قومی ترقی کی کنجی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل بینک آف پاکستان کی سرپرستی اور نٹ شیل گروپ کی قیادت وہ ماحول پیدا کرتی ہے جو ہمیں درکار ہے۔ وزیراعلیٰ نے اپنی حکومت کے چار بنیادی عزمات دہراتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت سرمایہ کاروں، اسٹارٹ اپس، اور ترقیاتی اداروں کے ساتھ شراکت داری کو مزید گہرا کرے گی، عملیت میں تیزی لانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن اور بیوروکریسی میں کمی لائے گی، خواتین، نوجوانوں اور پسماندہ طبقات کی شمولیت کو یقینی بنائے گی اور احتساب کے لیے نتائج کی پیمائش، پیش رفت کی رپورٹنگ اور عالمی طرزِ حکمرانی کے معیارات کے مطابق اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ نئی سوچ، نئی ٹیکنالوجی اور نئی شراکت داریوں کے لیے کھلا رہے گا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مستقبل انہی کا ہے جو تیزی سے خود کو ڈھالتے ہیں۔ اپنی تقریر کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے شرکاء سے کہا کہ صرف بحث و مباحثے تک محدود نہ رہیں بلکہ اجتماعی عمل کے لیے متحد ہوں۔ انہوں نے کہا آئیے سندھ کو پاکستان کے نئے بیانیے جدت، دیانت اور شمولیت کا نقطہ آغاز بنائیں، اور منتظمین کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنے پر مبارکباد دی جو عمل اور امید کی تحریک پیدا کرتا ہے۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ