
Zafar Iqball
ھم پاکستانیوں کی خوشیاں بھی عجیب ہوتی ہیں…
لندن یا نیویارک کا مئیر اگر مسلم نام کا شخص جیت جائے تو ہم سرشار ہوجاتے ہیں کہ مسلمانوں کی فتح ہوگئی..
لندن میں 2016 سے صادق خان میئر ہے، کوئی بتاۂے کہ مسلم امہ کو کیا ملا.. کیا لندن میں میئر، برطانوی حکومت کی پالیسیز بشمول غزہ پر اثر ڈال سکے… ہم خواہ مخواہ خوش ہوتے رہتے ہیں
اب نیویارک میں آزاد امیدوار ظہران ممدانی کی جیت پر لوگ خوش ہیں، وہ جو باتیں کرتے ہیں، وہ اچھی باتیں ہیں۔
بنیاد طور پر ظہران ممدانی سوشلسٹ نظریات رکھتے ہیں اور ان کا ایجنڈا مڈل کلاس کا ایجنڈا ہے، ان کے وعدوں میں سستی رہائش، مفت پبلک ٹرانسپورٹ، یونیورسل چائلڈ کیر
شامل ہے
لیکن ایک بات واضح ہے کہ لندن کا میئر ہو یا نیویارک کا، یا چاہے برطانیہ کا وزیراعظم ہو یا امریکہ کا صدر، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میئر تو بہت معمولی چیز ہے کوئی بڑے سے بڑا عہدیدار بھی مثبت تبدیلی لانے کے قابل نہیں ہے۔
ان ممالک میں آئین کے مطابق عمل ہوتا، جمہوریت ایسی کی ٹرمپ کا حمایتی بھی ہار جاتا ہے
ظہران ممدانی کو بھی اسی آئین اور اسی نظام کے اندر رہ کر کام کرنا ہوگا، جس میں باقی سب کرتے ہیں۔
امریکہ میں بھی سیاستدان انتخابی مہم کے دوران ہوتے ہیں تو نظریات کا پرچار کرتے ہیں اور بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ وائٹ ہاؤس پہنچتے ہیں، ان سے کالے سوٹ اور نیلی ٹائیوں والے لوگ ملنے آتے ہیں، اور پھر سب کچھ بدل جاتا ہے۔
دوسری طرف لندن کے میئر صادق خان نے بلومبرگ کے ڈیوڈ گورا کو ریوو ڈیجینوڈیرو میں ایک میں کہا تھا
Mamdani’s religion should have nothing to do with the mayer’ race in New York City, election should be about policies…
ظہران ممدانی 1991 میں یوگنڈا میں پیدا ہوئے، اس کے والدین کا تعلق بھارت سے ہے. والد محمود ممدانی کولمبیا یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر ہیں، والدہ میرا نائر (Meera Nair فلمیں بناتی ہیں، جبکہ وائف رما دواجی (Rama Dwaji), شامی آرٹسٹ ہیں..
ظہران خود کو سنی مسلمان کہتے ہیں، والد شیعہ مسلک سے وابستہ، ماں ہندو میں، وائف شامی
28 سالہ شامی نژاد امریکی راما دواجی ایک فنکار اور اینیمیٹر ہیں۔ وہ اپنے کام کے ذریعے اکثر مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
رواں سال مئی کے مہینے میں ممدانی نے ایک پوسٹ میں لکھا، ’راما صرف میری بیوی نہیں؛ وہ ایک بہترین فنکار بھی ہیں جنھیں اپنے بل پر پہچانے جانے کا حق ہے۔‘ انھوں نے اس ہی پوسٹ میں اعلان کیا کہ تین ماہ قبل ان کی راما سے شادی ہوئی ہے۔
ممدانی اور راما کی ملاقات ڈیٹنگ ایپ ہنج (Hinge) پر ہوئی تھی۔ جون میں دیے گئے ایک انٹرویو میں ممدانی نے کہا کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ڈیٹنگ ایپس سے اب بھی امید لگائی جا سکتی ہے























