توتن خامن کا مقبرہ: کیا لارڈ کارنارون واقعی “فرعون کی بددعا” کا شکار ہوئے؟

دنیا بھر کے تاریخ دانوں، سیاحوں اور قدیم آثار کے شائقین کے لیے یہ لمحہ کسی خواب کی تعبیر سے کم نہیں — ”گرانڈ ایجیپشین میوزیم“ کا افتتاح، جو بیس سال کی محنت اور ایک ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کے بعد ممکن ہوا، ایک تاریخی سنگِ میل بن گیا ہے۔ اس میوزیم کی خاص بات صرف اس کی شاندار جدید تعمیر یا 5 ہزار سے زائد قدیم نوادرات نہیں، بلکہ یہ پہلا موقع ہے جب توتن خامن کے مقبرے سے برآمد ہونے والے تمام خزانے ایک ہی جگہ نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔

توتن خامن کا مقبرہ، جو مصر کی ویلی آف کنگز میں واقع ہے، دنیا کی سب سے حیرت انگیز اور اہم آثارِ قدیمہ کی دریافتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس قبر سے برآمد ہونے والے بے شمار قیمتی نوادرات، خاص طور پر سونے کا مشہور موت کے بعد والا ماسک، دنیا بھر میں شہرت حاصل کر چکے ہیں۔

توتن خامن کی قبر نہ صرف ایک تاریخی ورثہ ہے بلکہ اس کے ساتھ جڑی ایک پراسرار داستان — “فرعون کی بدشگونی” — نے اسے مزید دل چسپ بنا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جب بھی اس قصے کا ذکر آتا ہے، ایک نام لازمی سنائی دیتا ہے: لارڈ کارنارون — وہ انگریز نواب جس کی زندگی اس دریافت کے بعد ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ لارڈ جارج ہربرٹ، جو بعد میں پانچویں “ایرل آف کارنارون” کہلائے، 19ویں صدی کے آخر میں ایک خوشحال زندگی گزار رہے تھے، مگر 1903 میں ایک شدید حادثے نے ان کی صحت کو متاثر کیا۔ ڈاکٹرز نے انہیں صحت یابی کے لیے گرم علاقوں کا سفر کرنے کا مشورہ دیا، اور یوں ان کا سفر مصر کی جانب ہوا۔

مصر کی تہذیب اور آثارِ قدیمہ سے متاثر ہو کر لارڈ کارنارون نے اپنی دولت کا بڑا حصہ وہاں کی کھدائیوں پر لگا دیا۔ اسی جستجو نے انہیں مشہور ماہرِ آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر کے ساتھ شراکت داری کی راہ پر گامزن کیا — اور بالآخر 1922 میں دونوں نے دنیا کی سب سے بڑی دریافتوں میں سے ایک، توتن خامن کا مقبرہ دریافت کیا۔

تاہم، اس عظیم دریافت کے صرف چند ماہ بعد، لارڈ کارنارون کو ایک مچھر نے چہرے پر کاٹ لیا۔ معمولی زخم جلد انفیکشن میں بدل گیا، اور 5 اپریل 1923 کو ان کی موت واقع ہو گئی۔ اتفاق سے، اسی وقت قاہرہ شہر میں بجلی بند ہو گئی اور ان کا پالتو کتا اچانک مر گیا۔ یہ تمام اتفاقات اس مشہور عقیدے کو تقویت دینے لگے کہ یہ سب “فرعون کی بددعا” کا نتیجہ تھا۔

میڈیا نے اس کہانی کو بھرپور انداز میں پیش کیا۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ ان کی موت کو عام طور پر انفیکشن کا نتیجہ قرار دیا گیا، مگر مصر میں روحانی عقائد رکھنے والے افراد نے اسے بدشگونی سے تعبیر کیا، یہ کہتے ہوئے کہ “جو بھی فرعون کی نیند میں خلل ڈالے گا، وہ تباہ ہو جائے گا۔”

بعد ازاں کئی مصنفین، جن میں سر آرتھر کونن ڈوئل جیسے نامور لکھاری بھی شامل تھے، اس واقعے کو مافوق الفطرت قرار دیتے رہے۔ تاہم، ماہرینِ تاریخ اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لارڈ کارنارون کی موت ایک عام طبی مسئلے کا نتیجہ تھی — اُس زمانے میں جب اینٹی بایوٹکس دستیاب نہیں تھیں، چھوٹے زخم بھی جان لیوا ثابت ہو سکتے تھے۔

پھر بھی، ایک صدی گزرنے کے بعد بھی دنیا آج تک یہ سوال پوچھتی ہے —
کیا لارڈ کارنارون واقعی “فرعون کی بددعا” کا شکار ہوئے،
یا یہ سب محض اتفاقات کی ایک داستان تھی؟