کراچی کے تین کروڑ شہریوں کی تکلیف انتہائی دکھ کاباعث ہے

کراچی کے تین کروڑ شہریوں کی تکلیف انتہائی دکھ کاباعث ہے۔ بکھرا ہوا انفرا اسٹرکچر اور اور امید سے خالی چہرے اس شہر کے ساتھ کی گئی بے حسی کو بے نقاب کرتے ہیں۔ایم کیو ایم کے پاس شہری مراکز کو سنوارنے کا موقع تھا مگر قیادت نے عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفاد کو چنا اور دوسروں کو تقسیم کی گنجائش دی۔شہر کی سڑکیں، ترقیاتی عمل اور بنیادی ڈھانچہ اب بھی فوری اور ایمرجنسی سطح کی اصلاحات کا تقاضا کرتے ہیں۔کیا حکومت ایسی پالیسیاں اور اقدامات کر رہی ہے کہ شہریوں کو اذیت نہ سہنی پڑے۔ آج سندھ اور کراچی دونوں کا اختیار پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔ اور ایم کیو ایم وفاق میں 22ایم این ایزکے ساتھ شریک اقتدار ہے۔ تو پھر ناکامی کا جواز کون دے گا؟ڈاکٹر عشرت العباد خان

کراچی (ایم پی پی میڈیا سیل / اسٹاف رپورٹر) سابق گورنر سندھ و روح رواں میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ کراچی کے تین کروڑ شہریوں کی تکلیف انتہائی دکھ کاباعث ہے۔ بکھرا ہوا انفرا اسٹرکچر اور اور امید سے خالی چہرے اس شہر کے ساتھ کی گئی بے حسی کو بے نقاب کرتے ہیں۔ایم کیو ایم کے پاس شہری مراکز کو سنوارنے کا موقع تھا مگر قیادت نے عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفاد کو چنا اور دوسروں کو تقسیم کی گنجائش دی۔کراچی کو اپنی رونق اور روح کھوتے دیکھ رہا ہوں۔جس سے دل پر چوٹ لگتی ہے۔ بارہا ایم کیو ایم کی قیادت کو عوامی سیاست اپنانے کا مشورہ دیا۔مگر خود غرض فیصلوں نے عوامی اعتماد کو توڑ دیا۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی جوسندھ اور کراچی دونوں کی حکومت میں ہے۔ اسکے پاس ناکامی اور بیڈ گورننس کا کوئی جواز نہیں۔پانی کی قلت، تباہ حال سڑکیں، بوسیدہ انفرا اسٹرکچر اور اس پر ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ناقابل گزر سڑکوں پر ای چالان منظم استحصال ہے۔ حالیہ بارشوں میں کراچی کے میئر کی بہتر کارکردگی قابل ذکر تھی۔ جسکا ہم نے اعتراف بھی کیا تھا۔ لیکن شہر کی سڑکیں، ترقیاتی عمل اور بنیادی ڈھانچہ اب بھی فوری اور ایمرجنسی سطح کی اصلاحات کا تقاضا کرتے ہیں۔کیا حکومت ایسی پالیسیاں اور اقدامات کر رہی ہے کہ اگلے سال شہریوں کو یہی اذیت دوبارہ نہ سہنی پڑے۔ آج سندھ اور کراچی دونوں کا اختیار پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔ اور ایم کیو ایم وفاق میں 22ایم این ایزکے ساتھ شریک اقتدار ہے۔ تو پھر ناکامی کا جواز کون دے گا؟اگر ترجیح اب بھی اقتدار اور مفاد ہے عوام نہیں تو پھر نئے انتظامی یونٹس ہی واحد راستہ رہتے ہیں۔تاکہ شفاف جواب دہی اور اصل گورننس قائم ہو سکے۔شہر سنوارو کراچی کو سودے بازی نہیں خدمت گزار قیادت چاہئے۔کراچی کا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں نیت کی کمی ہے۔اربوں روپے کا ٹیکس دینے والا شہر آج گندگی، ٹوٹی سڑکوں اور ناکام نظام کی تصویر بن چکا ہے۔ یہ المیہ نہیں تو کیا ہے؟ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ گڈ گورننس غلطیوں کا ازالہ عوامی خدمت، فنڈز کا درست استعمال کیا جائے تو ترقی کا سفر تیز اور کراچی کی حالت بہتر ہوسکتی ہے ورنہ کراچی کے ساتھ ظلم وستم حکمرانوں کی ای چالان سے عوام دشمنی عوام کی تکلیف بڑھا رہی ہے۔ عوام انتظامی یونٹس کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔ اب بھی وقت ہے عوامی خدمت کو سرانجام دیں ۔

ڈاکٹر عشرت العباد خان اور ایم پی پی کی مرکزی کمیٹی کا نیو کراچی کے فنانس سیکریٹری کاشف کی والدہ کے انتقال پر دکھ اور تعزیت کا اظہار۔ مرحومہ کے لئے دعائے مغفرت

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سابق گورنر سندھ و روح رواں میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) ڈاکٹر عشرت العباد خان اور ایم پی پی کی مرکزی کمیٹی نے نیو کراچی کے فنانس سیکریٹری کاشف کی والدہ کے انتقال پر دکھ اور تعزیت کا اظہار۔ مرحومہ کے لئے دعائے مغفرت کی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین