مریم نواز — سالگرہ مبارک ہو

تحریر: سہیل دانش
زندگی کے52 سال گزر گئے، یہ آسائشوں، اقتدار کے ایوانوں کے رکھ رکھاو¿، بھرم و دبدبے، چاہت اور محبت کے جھرمٹ میں خوشیوں کی بارش سے لے کر آزمائشوں کے طویل دور تک کا سفر ہے۔وطن سے دور جلاوطنی کا تلخ تجربہ بھی اسی کہانی کا ایک باب ہے۔ زندگی کے اوراق پلٹتے گئے۔ تین بار والد کو وزارتِ عظمیٰ کے منصبِ جلیلہ پر فائز دیکھنے کے بعد، توقعات اور خدشات کے امتزاج کے ساتھ وہ عوامی احساسات کی ترجمان بننے کی خواہش لیے سیاسی میدان میں اتری ہیں۔یہ وہی سیاسی میدان ہے جہاں ا±ن کے والد کا کردار کبھی روشن ستارے کی مانند چمکا اور پھر وقت کے ساتھ کچھ دھندلا بھی پڑ گیا، جیسے بھٹو کے بعد ا±ن کی بیٹی نے عوامی سیلاب کا بند کھولا تھا۔ مگر یہ مریم نواز کی خوش قسمتی ہے کہ ا±ن کے والد آج بھی ایک رہنما (Mentor) کے طور پر ان کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔وہ حالات کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں، اگرچہ خطرات اور اندیشوں کی گرد میں لپٹا ماحول ا±ن کے اردگرد ہے، لیکن وہ اپنے طاقتور حریفوں کی مقبولیت کے شور کے باوجود پوری استقامت اور جرات کے ساتھ کھڑی ہیں۔ وہ نوجوانوں کی آواز بن کر ا±بھرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور انہیں عوامی حمایت بھی حاصل ہو رہی ہے۔نواز شریف کو احساس ہے کہ تاریخ ا±ن کی بیٹی کو چیلنج کر رہی ہے، ا±ن سے سخت سوال پوچھ رہی ہے ۔ مگر وہ ہر قیمت پر اپنی سیاسی جانشین کو کامیاب و کامران دیکھنا چاہتے ہیں۔مریم نے اپنی زندگی کے کئی چمکتے دمکتے سال اس سیاسی صحرا کی سیاحت میں گزار دیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس تجربے، شعور اور عزم کو عملی سیاست میں کس حد تک ڈھال پاتی ہیں۔وہ جانتی ہیں کہ پاکستان جیسے ملکوں کا بنیادی مسئلہ اقتصادی ہے، اور یہ بھی کہ سیاست میں عمل اور ردِعمل ایک ساتھ چلتے ہیں۔انہیں نہ لڑکھڑانا ہے، نہ خوفزدہ ہونا ہے۔ وہ اس مقام پر کھڑی ہیں جہاں انہیں اپنی اگلی منزل صاف دکھائی دے رہی ہے۔زندگی کے 52 ویں سال میں داخل ہونے والی مریم نواز کو احساس ہے کہ وہ منزل کے قریب ہیں۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پاکستان کی سیاست، جو سانپ سیڑھی کے کھیل کی مانند ہے، اس میں وہ اپنی فہم، تدبر اور تحمل کے بل پر کوئی نئی تاریخ رقم کر پاتی ہیں یا نہیں۔پاکستان کے سیاسی افق پر ایک بڑی لیڈر کے طور پر ا±بھرنے والی مریم نواز کو چاہیے کہ وہ تاریخ پر اس زاویہ نگاہ سے نظر ڈالیں کہ وہ اقوام جو ہم سے بعد میں آزاد ہوئیں، وہاں بھی مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں مگر یہ کبھی لسانی مسئلہ نہیں بنا۔ وہاں تعلیم کے ادارے ہیں مگر کلاشنکوف نہیں، بینک ہیں مگر ڈاکو نہیں، کاروبار ہے مگر جھوٹ نہیں۔انہوں نے جینے کا قرینہ تلاش کیا۔ اور ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم ایسا کیوں نہ کر سکے؟۔ہم نے کتنی تلخیاں جھیلیں، کتنی تباہیاں دیکھیں ، مگر ہم نے ان قوموں سے اچھائی، نظم و ضبط اور دیانت داری کیوں نہ سیکھی؟۔آپ کو سالگرہ مبارک ہو، نیک تمناو¿ں کے ساتھ۔
سہیل دانش