
پی ایس او کی جانب سے مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ
کراچی (28 اکتوبر 2025): ملک کی سب سے بڑی توانائی کمپنی، پاکستان اسٹیٹ آئل(پی ایس او) نے مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کمپنی نے بعد از ٹیکس منافع 9.4 بلین روپے اور فی شیئر آمدنی 20روپے کا اعلان کیا ہے۔ پی ایس او کے بورڈ آف مینجمنٹ کا اجلاس 28 اکتوبر 2025 کو منعقد ہوا جس میں 30 ستمبر 2025 کو ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے دوران کمپنی اور گروپ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ گروپ کا مجموعی منافع بعد از ٹیکس 10.5بلین روپے تک پہنچا، جبکہ فی شیئر آمدنی 22.4روپے رہی۔
پی ایس او نے توانائی کے بدلتے ہوۓ منظرنامے کے باوجود مارکیٹ میں اپنی قائدانہ پوزیشن برقرار رکھی، وائٹ آئل کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر 3.5 فیصد اضافہ سے 16 لاکھ میٹرک ٹن کی سطح تک پہنچی، جبکہ کمپنی کا مارکیٹ شیئر 42 فیصد رہا۔ موگیس (پٹرول) اور ڈیزل کی فروخت بالترتیب 7.85 لاکھ اور 6.72 لاکھ میٹرک ٹن رہی، جو کمپنی کی مستحکم سپلائی چین کا ثبوت ہے۔ پی ایس او نے اپنی ریٹیل آؤٹ لیٹس کے نیٹ ورک کو مزید وسعت دیتے ہوئے ملک بھر میں اپنے رییٹل آؤٹ لیٹس کی تعداد 3,649 تک پہنچادی، جبکہ ہائی سیکیورٹی ٹینکر سیلز سمیت لاجسٹکس میں بہتری سے آپریشنز کی سیکیورٹی اور شفافیت کومزید استحکام ملا ہے۔
پی ایس او نے دور دراز علاقوں میں ترقیاتی حکمت عملی کو فروغ دیتے ہوئے گلگت بلتستان میں معاہدے (hospitality agreement)کے تحت اپنی پہلی ڈائریکٹ سروس کا آغاز کیا، جس کا مقصد ایل پی جی کے استعمال کو فروغ دے کر جنگلات کی کٹائی اور کاربن کے اخراج میں کمی لانا ہے۔ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے تحت پی ایس او نے SAP S/4HANA مائیگریشن کامیابی سے مکمل کی ہے، جس سے آپریشنز میں مزید مستعدی آئی ہے، جبکہ فیصل آباد ٹرمینل آٹومیشن اور رنگ فینسنگ منصوبے جیسے بنیادی ڈھانچے کے اقدامات کارکردگی کو مستحکم اور لاگت کی بچت میں نئے معیار قائم کر رہے ہیں۔
سماجی ذمہ داری کے تحت کمپنی صحت، تعلیم، ماحول کے تحفظ، آفات سے نمٹنے بشمول سیلابی امداد اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے منصوبوں پر 31 ملین روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی۔ نمایاں اقدامات میں شکارپور ٹرمینل پر فری ہیلتھ ڈسپنسری اور ریورس اوسموسس (RO) واٹر فلٹریشن پلانٹ کا قیام شامل ہے۔ پی ایس او کو CIPS Ethics Registerمیں بھی شامل کیا گیا، جو اس کی اخلاقی اور پائیدار کاروباری روایات کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
گردشی قرضوں کے بحران کے باوجود، جس کے تحت پی ایس او کے قابل وصول واجبات 426 ارب روپے ہیں (جن میں سے 294 ارب روپے ایس این جی پی ایل پر واجب الادا ہیں)، کمپنی پر عزم ہے کہ حکومت پاکستان کا سرکلر ڈیٹ ریڈکشن پلان توانائی کے شعبے میں لیکویڈیٹی کو مستحکم کرے گا۔ آگے بڑھتے ہوئے، پی ایس او ڈیجیٹل جدت، عملدرآمد کا بہتر نظام، اور اسٹریٹجک توسیع پر اپنی توجہ مرکوز رکھے گی تاکہ اسٹیک ہولڈرز کے لیے ان کے سرمایہ کی قدر میں اضافہ کیا جا سکے اور پاکستان کے توانائی کے منظرنامے میں اپنا کلیدی کردار برقرار رکھا جا?
پی ایس او کی انتظامیہ نے بورڈ آف مینجمنٹ، حکومت پاکستان، وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن)، شیئر ہولڈرز اور ملازمین کا ان کے اعتماد اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔























