انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے سابق میچ ریفری کرس براڈ نے الزام عائد کیا ہے کہ ادارہ بھارت کے ساتھ جانبدارانہ رویہ اختیار کرتا رہا ہے۔
برطانوی اخبار ٹیلی گراف سے گفتگو میں 68 سالہ کرس براڈ نے انکشاف کیا کہ انہیں ایک موقع پر بھارت کے خلاف ضابطہ اخلاق (Code of Conduct) کے تحت کارروائی میں نرمی برتنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
ان کے مطابق ایک میچ میں بھارتی ٹیم چار اوورز پیچھے تھی، جس کے باعث سلو اوور ریٹ جرمانہ یقینی تھا، تاہم انہیں ایک فون کال موصول ہوئی اور کہا گیا کہ “کسی طرح معاملہ ہلکا کر دو، کیونکہ یہ بھارت ہے۔”
کرس براڈ نے مزید بتایا کہ انہوں نے وقت کے حساب میں تبدیلی کر کے بھارتی ٹیم کو رعایت دی، مگر اگلے ہی میچ میں ساروو گنگولی نے دوبارہ وہی غلطی دہرائی اور آفیشلز کی بات ماننے سے انکار کیا۔
“میں نے جب پوچھا کہ اب کیا کارروائی کرنی ہے تو جواب ملا کہ صرف گنگولی کو سزا دو، پوری ٹیم کو نہیں۔”
سابق ریفری کے مطابق اب کرکٹ میں سیاست کا عمل دخل بڑھ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “فیصلے کھیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی مفادات کے تحت کیے جاتے ہیں، سارا پیسہ بھارت کے پاس ہے، اسی نے آئی سی سی پر عملی طور پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔”
کرس براڈ نے آخر میں کہا کہ وہ مطمئن ہیں کہ اب آئی سی سی کے آفیشلز کا حصہ نہیں کیونکہ یہ عہدہ “انتہائی سیاسی” نوعیت اختیار کر چکا ہے۔
Load/Hide Comments























