ایک حقیقی کہانی جو فلم کی نقل ہے

انجینئر یاسر طفیل کا تعلق گجرات پاکستان سے ہے جہنوں نے ناسا کے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ جو دنیا کی سب سے طاقتور خلائی دوربین کہلاتی ہے کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں انہوں نے اپنے اس کارنامے کے حوالے سے ناظرین کو اپنی جدوجہد سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ناسا کے ڈپٹی پورٹ فولیو مینیجر ہیں، جنہوں نے کئی بڑے خلائی منصوبوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

یاسر طفیل نے بتایا کہ وہ 2001 میں گھر والوں کے ساتھ امریکہ منتقل ہوگئے اور یونیورسٹی آف میری لینڈ سے ایسٹروناٹیکل انجینئرنگ میں تعلیم حاصل کی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جب میں ناسا میں شامل ہوا تب مجھے گلوبل پریسی پیٹیشن میژرمنٹ (جی پی ایم) سیٹلائٹ مشن پر کام کرنے کا موقع ملا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دنوں بھارتی فلم ’سوادیس‘ میں دیکھا کہ اداکار شاہ رخ خان کا کردار بھی اسی مشن پر کام کرتا دکھایا گیا تھا۔

یاسر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یقین کریں اس کے ٹھیک 8 سال بعد میں بھی واقعی اسی مشن پر کام کر رہا تھا مجھے لگا کہ جیسے زندگی اسی فلم کی نقل کر رہی ہو۔‘

گجرات کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ناسا تک کا ان کا سفر کرنے والے انجینئر یاسر طفیل نوجوان نسل کیلیے محنت، تجسس اور عزم کی ایک روشن مثال ہیں، اور ان پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کا بھی بہترین ذریعہ ہیں جو ستاروں تک پہنچنے کا خواب دیکھتے ہیں۔