تاریخ سے بے نیازی — خطرناک روش!

نقطہ نظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم اختر

ساڑھے چار کروڑ آبادی کے صوبے خیبر پختون خواہ کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف جاری ہرزہ سرائی دراصل ہمارے سیاسی اور ریاستی نظام کی وہی پرانی بیماری ہے جس نے وطن عزیز کو بارہا کمزور کیا۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے نمائندے کو قبول نہ کرنا اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا اور اس کے مینڈیٹ پر سوال اٹھانا یہ کوئی نیا باب نہیں بلکہ ہماری سیاسی تاریخ کا وہ سیاہ ورق ہے جو آج بھی ماضی کی تلخیوں کو تازہ کر رہا ہے۔
جمہوری معاشروں میں عوام ہی طاقت کا اصل سرچشمہ ہوتے ہیں مگر افسوس، پاکستان میں اس اصول کو ہمیشہ سے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے ماضی کے وہ زخم آج بھی تازہ ہیں جب مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنے کی سزا قوم نے سقوطِ مشرقی پاکستان کی صورت میں بھگتی یہ سانحہ کسی بیرونی سازش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اندرونی ناانصافیوں، سیاسی غرور، فوجی مداخلت، افسر شاہی کی چالبازیوں اور عدالتوں کے نظریہ ضرورت کے تحت دئیے گئے فیصلوں کا کڑوا ثمر تھا۔ ہم نے اپنے ہی شہریوں کو کمتر سمجھا ان کے جائز حقوق دبائے اور جب وہ نفرت کی دلدل میں دھنس گئے تو دشمن نے اس کمزوری کو بھرپور استعمال کیا۔
بدقسمتی سے نصف صدی گزر جانے کے باوجود ہم نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ آج پھر تاریخ دہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ اپنے قائد سے ملاقات کے لیے عدالتوں کے چکر لگا رہا ہے اسے اس کے سیاسی رہنما سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ کیا یہ طرزِ عمل کسی جمہوری معاشرے میں زیب دیتا ہے؟ یہ روش نہ صرف آئین و قانون کی توہین ہے بلکہ اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔
تحریکِ انصاف ایک سیاسی حقیقت ہے جسے محض پسند یا ناپسند کی بنیاد پر جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ اس کے کروڑوں ووٹرز کے مینڈیٹ کو نظرانداز کرنا ایک خطرناک روش ہے۔ ریاست کو سمجھنا ہوگا کہ عدل، مساوات، اور عوامی رائے کا احترام کیے بغیر کوئی نظام دیرپا نہیں رہ سکتا۔
پاکستان اس وقت سیاسی، معاشی اور معاشرتی بحرانوں کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے ان بحرانوں کی جڑیں ہمارے ماضی کی غلطیوں میں پیوست ہیں۔ تقسیمِ پاکستان کے باوجود ہم نے اپنے رویے نہیں بدلے۔ آج بھی طاقت کے حصول کی جنگ میں ادارے، سیاستدان اور طبقات ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں مگر یہ روش ریاست کو مضبوط نہیں، مزید کمزور کرتی ہے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ طاقت کے استعمال، دباؤ، یا وقتی مکالمے کے ذریعے قومی تنازعات حل نہیں ہوتے ان کے لیے دور اندیش قیادت، وسیع النظر مکالمہ اور انصاف پر مبنی فیصلے درکار ہیں اگر ہم نے اب بھی اپنی روش نہ بدلی، تو خدانخواستہ تاریخ ایک بار پھر ہمیں اسی مقام پر لا کھڑا کرے گی جہاں سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔
پاکستان مزید کسی تقسیم، کسی بغاوت یا کسی سانحے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں، عوامی فیصلوں کو تسلیم کریں اور ایک ایسے پاکستان کی بنیاد رکھیں جہاں اقتدار کا سرچشمہ بند کمروں میں نہیں بلکہ عوام کے ہاتھ میں ہو دعا ہے ہماری
اللہ کریم وطن عزیز پر رحم فرمائے آمین ۔