
ڈاکٹر ایوب شیخ
آج صبح 24 اکتوبر 2025ع کو جمعہ کے روز صبح 10 بجے سے 12 بجے تک لیاقت نیشنل لائبرری میں موجود” لنکن سینٹر ” میں امریکی کونسل جنرل کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن کی جانب سے ایک مذاکرہ رکھا گیا جس کا عنوان تھا : پرتشدد انتہا پسندی کو سمجھنا، مقابلہ کرنا اور پرہیز کرنا.
اس مذاکرے میں مختلف یونیورسٹیوں کے پروفیسرز، مختلف این جی اوز کے ماہرین ،مصنفین اور میڈیا سے متعلق لوگ موجود تھے.
اس مذاکرے میں امریکہ کے ڈاکٹر کلارک آر میک کاؤلی موجود تھے. مسٹر کلارک امیریکی ریاست فلیڈلفیا کے نواح میں موجود خواتین کے لبرل آرٹس کالج “برائن مار کالج” میں دہشت گردی کی نفسیات اور ان کی بنیادوں کے محقق اور ماہر ہیں. جبکہ مذاکرے میں پاکستان سے تدریس سے وابستہ ڈاکٹر ہماُ بقائی موجود تھیں۔

ڈاکٹر ہُما بقائی نے کہا کہ پاکستان میں، پہلے ایک ٹی وی چینل “پاکستان ٹیلی ویژن” کے نام سے ہوتا تھا، جس پر سرکاری ترجمانی ہوتی تھی اور حکومتی ترجمان اپنا نقطہ نظر اور پالیسیاں پیش کرتے تھے۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف کے دور میں کئی ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کھل گئے جس کی تعداد لگ بھگ 100 کے قریب ہے۔ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اب ہمارے ملک میں 100 ” پاکستان ٹیلی ویژن ” موجود ہیں ، جو بھی سرکاری راگ آلاپتے ہیں۔
ہم نے پالیسی کے طور پر دیکھا ہے کہ کبھی دہشت گردی کو کسی اور کی سیاست ٹھیک رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی ان ہی دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لیے پالیسی بنائی جاتی ہیں. ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کل کے “غدار” آج کے “ہیرو ” اور کل کے “ہیرو” راتورات “زیرو” بنائے جاتے ہیں، یہ سب ہماری لچکدار اور غیر مستقل پالیسی کا نتیجہ ہوتا ہے
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں بیداری پیدا کرنے اور عوام کو باشعور بنانے میں سرکاری سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے، جو ہمارے پاس ناپید ہوتا جا رہا ہے اور ہماری تعلیم کا ستیاناس ہو کر رہ گیا ہے. تعلیم کی کمی کو جہالت نے پورا کیا ہے اور جہالت نے بد امنی اور انتہا پسندی کو ترویج دی ہے
ڈاکٹر کلارک نے کہا کہ میری ماں کہتی تھی کہ “دنیا میں سارے تکرار، فسادات، انتہاپسندی کا ایک ہی حل ہے وہ ہے تعلیم کی بڑھوتی”. دنیا کے بعض حصوں میں تعلیم نہ بڑھنے کی وجہ سے، ریسرچ نہ کرنے کی وجہ سے اور تحقیق کے لیے جستجو نہ ہونے سے کہ اس طرح معاشرہ پیدا ہونے جا رہا ہے جس میں ہم انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کی نفسیات اور بنیاد پیدا ہی نہیں کر سکتے.
سوالات جوابات میں جب ڈاکٹر سے سوال کیا گیا کہ گذشتہ دو برسوں میں فلسطین میں جو کچھ ہوا ، اس کا دنیا کے بیشتر ممالک پر تو بہت خطرناک کا اثر ہوا ہے، آمریکہ پر اس کے کیا اثرات ہوئے ہیں؟.
ڈاکٹر کلارک نے انتہائی صبر، استقامت اور بردباری سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ “میں سمجھتا ہوں کہ فلسطین کے قضیہ نے امریکہ کو 2 حصوں میں تقسیم کر دیا ہے اور آمریکہ صرف “غازہ کی حمایت” یا ” مخالف” کے طور پر تقسیم نہیں ہوا، لیکن ہمارے ملک میں موجود یہودیوں میں بھی ایک تقسیم پائی جاتی ہے۔ ایک فلسطین کے حق میں ہیں اور دوسرے نیتن یاہو کے حق میں”.
انہوں نے کہا کہ وہ معاشرے اور ان کی عوام کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکتے، ترقی نہیں کر سکتے اور دنیا میں مقابلے کی پوزیشن نہیں سنبھال سکتے جس معاشرے اور اس کے عوام کو صرف خاموشی کی اواز سنائی دیتی ہو !























