🌙 بھٹو اور بیٹی کی آخری ملاقات — ایک تاریخ کا دردناک باب

🌙 بھٹو اور بیٹی کی آخری ملاقات — ایک تاریخ کا دردناک باب
رات کی خاموشی میں راولپنڈی جیل کی دیواریں اداس تھیں۔
یہ وہ رات تھی جب پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن چراغ بجھنے والا تھا —
ذوالفقار علی بھٹو، قوم کا لیڈر، عوام کا مسیحا،
اور ایک باپ جو اپنی بیٹی سے آخری بار ملنے جا رہا تھا۔
دروازہ آہستہ سے کھلا۔
بینظیر بھٹو اندر داخل ہوئیں — چہرے پر ضبط، آنکھوں میں آنسو،
دل میں وہ طوفان جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔
بھٹو صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا:
“آئی ہو بیٹا؟”
بیٹی آگے بڑھی، باپ کے قدموں میں بیٹھی،
آنسوؤں کی لڑی ٹوٹ کر زمین پر گرنے لگی۔
بھٹو صاحب نے نرمی سے کہا:
“رونا نہیں بیٹا… میں جا رہا ہوں، مگر سر جھکا کر نہیں، سربلند ہو کر جا رہا ہوں۔
میں نے اپنی قوم کے لیے جینا سیکھا، اور اب انہیں سکھا رہا ہوں کہ قربانی کیا ہوتی ہے۔”
بینظیر نے کہا:
“ابو، وہ آپ کو انصاف نہیں دے رہے…”
بھٹو صاحب نے مسکرا کر جواب دیا:
“انصاف زمین پر نہیں ملا، تو آسمان پر ضرور ملے گا۔
لیکن تم وعدہ کرو — تم عوام کا ساتھ نہیں چھوڑو گی۔
تم میری بیٹی ہو، تم نے ان کے خوابوں کو حقیقت بنانا ہے۔”
وقت تیزی سے گزرتا گیا۔
جیلر نے اشارہ کیا کہ ملاقات ختم ہونے والی ہے۔
بینظیر نے باپ کے ہاتھ چومے، آنکھوں سے بہتے آنسو نہ تھم سکے۔
بھٹو صاحب نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا:
“میری بیٹی بہادر ہے،
میری قربانی تمہاری ہمت بنے گی۔”
دروازہ بند ہوا — زنجیروں کی آواز گونجی —
بینظیر کی سسکیاں جیل کی دیواروں میں گم ہو گئیں۔
چند گھنٹے بعد، 4 اپریل 1979 کی صبح،
پاکستان کے عوام کا رہنما، ذوالفقار علی بھٹو،
پھانسی کے پھندے پر جھول گیا۔
لیکن وہ دراصل مرا نہیں —
اس کی سوچ، نظریہ، اور قربانی آج بھی زندہ ہے۔
اس کی بیٹی نے وہ وعدہ نبھایا،
جس وعدے پر ایک باپ نے جان دی تھی۔
ذوالفقار علی بھٹو — تمہارا نام وقت کے ہر صفحے پر سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
🕊️
#ShaheedBhutto #BenazirBhutto #PPP #ZAB #HistoryLivesForever #ZulfiqarAliBhutto #LegendLivesOn