*جامعہ سندھ کی جانب سے عالمی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے تعاون سے عالمی یومِ خوراک کے موقع پر ”بہتر غذا، بہتر صحت کے لیے“ کے زیر عنوان سیمینار کا اہتمام،

*جامعہ سندھ کی جانب سے عالمی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے تعاون سے عالمی یومِ خوراک کے موقع پر ”بہتر غذا، بہتر صحت کے لیے“ کے زیر عنوان سیمینار کا اہتمام، خوراک، صحت اور سماجی بہبود کے باہمی تعلق پر اظہارِ خیال: خوراک اور غذائیت کو انفرادی و اجتماعی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت حاصل ہے، خوراک کی سلامتی قومی استحکام اور انسانی ترقی کی بنیاد ہے، کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس کے شہری بھوکے ہوں، خوراک کی سلامتی کا مطلب صرف خوراک تک رسائی نہیں بلکہ ہر شہری کے لیے صحت مند، سستی اور پائیدار غذا کی فراہمی ہے، وائس چانسلر ڈاکٹر فتح مری، ڈاکٹر نانک رام، مسٹر جولیس و دیگر کا سیمینار سے خطاب
جامشورو (پریس ریلیز) جامعہ سندھ جامشورو کے بیورو آف اسٹَیگس کی جانب سے خوراک اور زراعت کے عالمی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے تعاون سے عالمی یومِ خوراک کے موقع پر ”بہتر غذا، بہتر صحت کے لیے“ کے زیر عنوان سیمینار کا انعقاد شیخ ایاز آڈیٹوریم میں کیا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، انتظامی افسران، طلبہ و طالبات اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے نمائندگان نے شرکت کی۔ شرکاء نے خوراک، صحت اور سماجی بہبود کے تعلق پر تبادلہ خیالات کیا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوراک اور غذائیت انفرادی اور اجتماعی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر مری نے کہا کہ خوراک کی سلامتی قومی استحکام اور انسانی ترقی کی بنیاد ہے، کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا اگر اس کے شہری بھوکے ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خوراک کی سلامتی کا مطلب صرف خوراک تک رسائی نہیں بلکہ ہر شہری کے لیے صحت مند، سستی اور پائیدار غذا کی فراہمی ہے۔ وائس چانسلر نے زور دیا کہ جامعات کو قیادت کا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ زراعت اور غذائیت میں تحقیق، آگاہی اور جدت کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے مقامی سطح پر بہتر خوراکی نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نوجوان محققین کو ماحول دوست زراعت کے فروغ کے لیے کام کرنے کی تلقین کی۔ ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر نانک رام نے کہا کہ خوراک کی کمی کے سماجی و معاشی اثرات کثیرالجہتی ہیں۔ عالمی یومِ خوراک صرف ایک یادگار دن نہیں بلکہ ہماری اجتماعی ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کی کمی تعلیم، صحت اور معیشت پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے، اس لیے پالیسی سازوں، اساتذہ، کاشتکاروں اور شہری معاشرے کو مل کر انصاف پر مبنی خوراکی نظام کے لیے کام کرنا چاہیے۔فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے نمائندے مسٹر جولیس نے کہا کہ اس سال عالمی یومِ خوراک کا موضوع ہے”پانی ہی زندگی ہے، پانی ہی غذا ہے، کسی کو پیچھے نہ چھوڑو“۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی طرح پاکستان میں بھی لاکھوں لوگ خوراک کی قلت، ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور معاشی بحران سے متاثر ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہم خوراک کی پیداوار اور استعمال کے طریقوں پر از سر نو غور کریں۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ غذائیت سے بھرپور خوراک کا انتخاب اور استعمال کریں، کیونکہ ہر اچھی غذا پائیداری اور عزت نفس کی جانب ایک چھوٹا قدم ہے۔ اچھی خوراک کوئی عیش نہیں بلکہ ایک حق اور ذمہ داری ہے۔سیشن کا آغاز بیورو آف اسٹَیگس کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر مبارک علی لاشاری کی استقبالیہ تقریر سے ہوا، جنہوں نے کہا کہ

عالمی یومِ خوراک ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خوراک انسانیت کو جوڑتی ہے، ہماری قوم کی طاقت اس بات میں ہے کہ ہم سب کے لیے خوراک کی فراہمی کو کیسے یقینی بناتے ہیں۔ ڈائریکٹر بیورو آف اسٹَیگس ڈاکٹر شبانہ تنیو نے تقریب کے اختتام پر تمام مہمانوں، شرکاء اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے نمائندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں اور عالمی تنظیموں کی یہ مشترکہ کوشش ایک صحت مند اور بھوک سے پاک مستقبل کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کا جذبہ اور دلچسپی دیکھ کر امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والی نسل خوراک کی کمی کے خلاف جدوجہد میں قیادت کا کردار ادا کرے گی۔