چوہدری انوارالحق، اقتدار، اداروں کا انہدام اور نظام کا زوال، کیوں اقتدار سے نکال باہر کرنا چاہیے؟

تحریر ، خواجہ کاشف میر

آزاد جموں و کشمیر اس وقت آئینی، انتظامی اور سیاسی بحران کے نچلے ترین درجے پر پہنچ چکا ہے۔ ریاستی ادارے مفلوج، احتساب کا نظام معطل، اور حکومت مکمل طور پر کنفیوژن اور ٹکراؤ کی سیاست میں الجھی ہوئی ہے۔ اس تمام انتشار کی جڑ براہِ راست وزیراعظم چوہدری انوارالحق کی شخصی حکمرانی اور اقتدار پرستی میں پیوست ہے۔ وہ جس جماعت یعنی پی ٹی آئی سے منتخب ہوئے، اسی سے انحراف کر کے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار حاصل کیا اور پھر مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین پر مشتمل ایک غیر فطری اتحاد قائم کیا، جو بظاہر مفاہمت مگر دراصل اقتدار کے تحفظ کا “ہائبرڈ ماڈل” تھا۔ یہی اتحاد اب بداعتمادی، بدانتظامی اور ادارہ جاتی مفلوجی کا بنیادی سبب بن چکا ہے اور عوام 53 ممبران اسمبلی کو ایک ہی پلڑے میں ڈالتے ہیں۔

آزاد کشمیر میں عبوری آئین 1974 کے مطابق وزیراعظم حکومت کے چیف ایگزیکٹو ہیں، لیکن موجودہ دور میں ان کے زیرِ سایہ ریاستی ادارے ایک ایک کر کے غیر فعال ہو گئے۔ الیکشن کمیشن کے سربراہ اور سینئر ممبر کی تقرریاں دس ماہ سے زیرِ التواء ہیں اور الیکشن کمیشن کا قیام کرنے کے کم از کم 8 سے 10 ماہ بعد ہی نئے انتخابات کرانا ممکن ہوتا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیاں، ووٹرز رجسٹریشن سمیت کئی ضروری کام کرنے ہوتے ہیں، احتساب بیورو کا سربراہ کئی ماہ سے مفقود ہے اس لیے کسی بھی سرکاری افسر یا ملازم کا احتساب ممکن نہیں، اینٹی کرپشن ڈائریکٹوریٹ تالا بند، سروس ٹربیونل بغیر چیئرمین کے چل رہا ہے، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ڈھائی سال سے قائم نہیں ہو سکی، نتیجے میں کسی سرکاری محکمہ کا آڈٹ ممکن نہ ہوا۔ ہائی کورٹ میں نو میں سے صرف چار ججز کام کر رہے ہیں جبکہ پانچ نشستیں وزیراعظم آفس کی منظوری کے انتظار میں ہیں تاکہ پینل چیئرمین کشمیر کونسل کو بھیجا جا سکے۔ ان اداروں کی بحالی وزیراعظم کے ایگزیکٹو دستخطوں کے بغیر ممکن نہیں، لہٰذا ان کی غیر فعالیت محض غفلت نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی ہے تاکہ احتساب، شفافیت اور قانون کی حکمرانی محدود رہے اور ڈھائی سال میں اربوں روپے کی جو کرپشن کی گئی وہ منظر عام پر نہ آسکے۔

وزیراعظم نے ابتدا میں چھ ماہ تک کابینہ کے بغیر خود تمام اختیارات استعمال کیے اور جب کابینہ بنی تو وزراء کو ڈیڑھ سال تک اختیارات دینے کے بجائے ان کے دائرہ کار کو محدود کر دیا۔ آئینی ترمیم کرتے ہوئے وزراء کی تعداد 16 سے بڑھا کر 32 کر دی جبکہ 4 مشیر بھی تعینات کر دئیے ، سابق صدور اور سابق وزرائے اعظم کی مراعات کو قانونی تحفظ دیا ، بلدیاتی نمائندگان کو اختیارات دینے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود وزیراعظم رہے، ان کے دور میں مختلف جماعتوں کے وزراء باہم متصادم رہے جبکہ پالیسی سازی مکمل طور پر رکی رہی۔ انتظامی مشینری خوف، عدم اعتماد اور سیاسی انتقام کا شکار ہو گئی۔ سیکرٹری سطح کے افسران کو وزیراعظم کی ناپسندیدگی پر گرفتار کرایا گیا، مگر جب جرم ثابت نہ ہوا تو عدالتوں نے انہیں رہا کر دیا۔ پہلی بار آزاد کشمیر میں پولیس نے مطالبات کے حق میں ہڑتال کی، سرکاری افسران نے کام چھوڑ دینے کی دھمکیاں دیں اور ہزاروں سرکاری آسامیاں خالی چھوڑ دی گئیں۔

سب سے المناک پہلو عوامی تحریک کے دوران طاقت کے بے دریغ استعمال کا ہے۔ تین بڑے احتجاجی مرحلوں میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کی ہر تجویز وزیراعظم نے مسترد کی۔ نتیجتاً تصادم ہوا، پندرہ نہتے شہری جان سے گئے، سینکڑوں زخمی ہوئے، اور ریاستی پولیس خود اپنی عوام کے سامنے کھڑی کر دی گئی بلکہ وزیراعظم نے آر بنوں روپے خرچ کرتے ہوئے رینجرز، ایف سی اور پی سی کو آزادکشمیر لایا تاکہ عوام سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جا سکے۔ وزیراعظم کے قریبی حلقے اسے “ریاستی رٹ کا قیام” قرار دیتے ہیں مگر حقیقت میں یہ ریاستی سیاسی نظام کی ناکامی کا اعتراف ہے۔ طاقت کے استعمال نے حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کی آخری لکیر بھی مٹا دی۔

دوسری طرف مالیاتی بدعنوانی کے دروازے کھلے چھوڑ دیے گئے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹس کے مطابق 2022 تا 2024 کے دوران چالیس ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں ریکارڈ ہوئیں، مگر ایک بھی کیس پر کارروائی نہ ہوئی کیونکہ احتساب کے ادارے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور آڈٹ سسٹم سب غیر فعال ہیں۔ ترقیاتی فنڈز مخصوص وفاداروں میں بانٹے گئے اور سیاسی مخالفین کو فنڈز سے محروم رکھا گیا۔

چوہدری انوارالحق نے آزادی صحافت پر بھی بدترین دباؤ ڈالا۔ سٹیٹ ویوز، جموں و کشمیر اور کوٹلینز جیسے اداروں سے وابستہ صحافیوں کو مقدمات، نوٹسز اور اکاؤنٹ فریزنگ اور ایس سی ایل میں نام ڈالے جانے جیسے حربوں سے دبانے کی کوشش کی گئی۔ کئی صحافیوں کو صرف سوشل میڈیا پر اظہارِ رائے پر نشانہ بنایا گیا۔ پہلی مرتبہ اسلام آباد سے مظفرآباد تک پریس فریڈم مارچ نکلا، جس نے انوار حکومت کے جبر کو بے نقاب کر دیا۔ وزیراعظم خود کو اشرافیہ مخالف ظاہر کرتے ہیں مگر ان کی سیاسی تاریخ اقتدار کے گرد گھومتی ہے۔ وہ دو مرتبہ اسپیکر اسمبلی، وزیر تعمیرات اور مشیر گڈ گورننس رہ چکے ہیں۔ مختلف حکومتوں میں شامل ہونا اور الگ ہونا ان کی سیاست کا مستقل مزاج حصہ رہا ہے۔ انہوں نے 407 کنال اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے اور کوٹہ اسکینڈل جیسے سنگین الزامات میں بھی زیرِ تفتیش ہیں۔

آج آزاد کشمیر کا نظام بکھر چکا ہے۔ ادارے مفلوج، سیاست تقسیم، عوام مایوس اور وفاق سے تعلقات غیر یقینی ہیں۔ چوہدری انوارالحق حکومت اپنی آئینی، اخلاقی اور عوامی حیثیت کھو چکی ہے۔ اصلاحات کے نعرے کے نیچے اقتدار کی مرکزیت، اداروں کی تباہی، میڈیا پر دباؤ اور عوامی تحریک کا کچلنا اس حکومت کی پہچان بن چکا ہے۔ ریاست کے استحکام کا واحد راستہ اب یہ ہے کہ وزارتِ عظمیٰ کسی ایک سیاسی جماعت کو دی جائے، الیکشن کمیشن سمیت آئینی اداروں کو مکمل اور فعال کیا جائے، اور نئے شفاف انتخابات کے ذریعے عوامی مینڈیٹ حاصل کیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو چوہدری انوارالحق کا اقتدار صرف ان کی حکومت نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے پورے نظام کے لیے خطرہ بن جائے گا۔