
ای ڈی کیلئے انٹرویو، حتمی فہرست پر نظرثانی کی جائے، ڈاکٹر مدد علی شاہ
21 اکتوبر ، 2025
کراچی( سید محمد عسکری) سینئر ماہر تعلیم اور سندھ کی دو جامعات میں وائس چانسلر رہنے والے پروفیسر ڈاکٹر مدد علی شاہ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے انٹرویو کے لئے امیدواروں کے طلب نہ کئے جانے کی ذمہ داری آن لائن ایپلی کیشن پورٹل پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ آن لائن ایپلی کیشن پورٹل میں خرابی کی وجہ سے سرفیس میل کے ذریعے بھیجے گئے میرے اسناد میرے پروفائل میں شامل نہیں تھے۔وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وزیر مملکت وجیہ قمر اور سیکرٹری تعلیم کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اسلام آباد کے عہدے کے انٹرویو کے لئے حتمی فہرست پر نظر ثانی کی جائے اور مجھے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اسلام آباد کے عہدے کے لئے انٹرویو میں حاضر ہونے کا موقع دیا جائے۔ ڈاکٹر مدد علی شاہ نے مزید کہا کہ میں 7 برس سے زائد عرصے تک وائس چانسلر کی حیثیت سے تعلیم کے شعبے میں باوقار خدمات انجام دینے اور قومی سطح پر
تعلیم کی بہتری کے لئے پاکستان انجینئرنگ کونسل اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کوششوں میں حصہ ڈالنے کے بعد، اس موقع کا مستحق ہوں کہ مجھے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC)، اسلام آباد کے عہدے کے لئے انٹرویو کے لئے اہل سمجھا جائے۔ یاد رہے کہ پیچیدہ پورٹل اور شارٹ لسٹنگ کے لئے اختیار کردہ من مانا معیار ، غیر شفاف اور بغیر تصدیق یا جانچ پڑتال کے کیا گیا امیدواروں کا انتخاب اتنے اہم عہدے کے لئے انتخابی عمل کی ساکھ کو متاثر کرچکا ہے۔ ای ڈی کے عہدے کے لئے 74امیدواروں میں سے 46امیدواروں نے 50فیصد یا اس زائد نمبر لئے ہیں تاہم صرف ان 15 امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا جنہوں نے 66 فیصد یا اس سے زائد نمبر لئے ہوں۔ 66 فیصد نمبرز کے حامل امیدواروں کی منظوری کس سے لی گئی اور مستقل چیئرمین کی عدم موجودگی میں اتنے اہم عہدے پر عجلت میں بھرتی کیوں کی جارہی ہے اس معاملے پر وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے جب کہ بلوچستان سے ایچ ای سی کے کمیشن رکن ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ پہلے ہی اس پر اعتراض کرچکے ہیں اور ان کا کہنا یہ ہے کہ کمیشن سے اسکورنگ کی منظوری نہیں لی گئی اور بھرتیوں کا معاملہ مستقل چیئرمین پر چھوڑ دینا چاہئے۔
========================
زائد فیس وصول کرنیوالے میڈیکل کالجز کیخلاف گھیرا تنگ، 12 کو شوکاز نوٹسز جاری
21 اکتوبر ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
اسلام آباد(عاطف شیرازی) پی ایم اینڈ ڈی سی نے زائد فیسیں وصول کرنے والے نجی میڈیکل کالجز کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے ان کو شوکاز نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔رجسٹریشن منسوخ ہو سکتی ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی کے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی جانب سے 18لاکھ سے24لاکھ روپے فیس وصولی پر سخت سوالات، گزشتہ روزصدر پی ایم اینڈ ڈی سی نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اعتراف کیا کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز مقررہ حد سے زیادہ فیس لے رہے ہیں تاہم 12کالجز کو شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ، چیئرمین قائمہ کمیٹی کے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی جانب سے 18لاکھ سے 24لاکھ روپے فیس وصولی پر سخت سوالات۔وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ قانون کے مطابق میڈیکل کالجز 18سے 25لاکھ روپے تک فیس وصول کر سکتے ہیں، تاہم کسی اضافے کے لیے ٹھوس جواز دینا ضروری ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے انکشاف کیا کہ بعض کالجز 30سے 40لاکھ روپے تک فیس وصول کر رہے ہیں۔جس پر وزیر صحت نے کہا کہ ملک بھر کے میڈیکل کالجز کا سروے کرایا جائے گا اور اسلام آباد کے تمام کالجز کو نوٹسز بھی بھجوائے جا چکے ہیں۔























