
تحریر: نعیم اختر
پاکستان اور افغانستان کے مابین دوحہ میں ہونے والا امن معاہدہ نہ صرف دونوں برادر اسلامی ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہے بلکہ یہ پورے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کی امید کی کرن بن کر اُبھرا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے برصغیر اور وسطی ایشیا کا یہ اہم خطہ دہشت گردی، بدامنی، غیر یقینی سیاسی حالات اور بیرونی مداخلتوں کے سائے میں رہا ہے۔ ایسے میں قطر اور ترکی جیسے برادر اسلامی ممالک کی ثالثی اور سفارتی کاوشوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر مسلم دنیا باہمی اعتماد، مفاہمت اور بھائی چارے کے جذبے سے فیصلے کرے تو عالمی طاقتوں کے دباؤ کے بغیر بھی امن کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
یہ معاہدہ محض دو ممالک کے درمیان طے پانے والا کاغذی سمجھوتہ نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ کا مظہر ہے جس میں دو برادر اقوام نے یہ عزم کیا ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے۔ سرحدی تنازعات، تجارتی رکاوٹیں، دہشت گردی کے خدشات اور غلط فہمیاں ان سب کا حل باہمی گفت و شنید میں پوشیدہ ہے۔
اسلام آباد اور کابل نے یہ محسوس کیا ہے کہ ایک دوسرے کی علاقائی خودمختاری، سیاسی آزادی اور مذہبی و ثقافتی اقدار کے احترام کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں۔
اس معاہدے میں قطر اور ترکی کی ثالثی نے ثابت کیا کہ مسلم دنیا اگر متحد ہو تو عالمی سیاست میں وہ امن، مفاہمت اور ترقی کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ دوحہ میں ہونے والی میٹنگ کے بعد اب استنبول میں 25 اکتوبر کو طے شدہ دوسرا اجلاس اس معاہدے کی جزئیات اور عملی نفاذ کے پہلوؤں پر روشنی ڈالے گا۔
یہ اجلاس دراصل ایک نئے سفارتی عہد کا آغاز ہوگا جس میں دونوں ممالک نہ صرف سیاسی بلکہ اقتصادی و دفاعی تعاون کے نئے دور میں شامل ہونگے،پاکستان اور افغانستان صرف ہمسایہ نہیں بلکہ ایک دوسرے کے جغرافیے، ثقافت اور عقیدے کے حصے ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان خونی رشتے، قبائلی تعلقات اور مذہبی ہم آہنگی ایک ایسی قدرتی طاقت ہے جو بیرونی سازشوں کے باوجود ان کو جدا نہیں ہونے دیتی۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ افغانستان، ہندوستان نہیں وہ ہمارا دشمن ملک نہیں بلکہ ہمارا مقصد برادر اسلامی ملک ہے۔ اسی طرح افغانستان کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان نہ تو دارالحرب ہے اور نہ ہی کسی عالمی طاقت کا اڈہ؛ بلکہ ایک خودمختار ریاست ہے جو امن، احترام اور برابری کے اصولوں پر تعلقات استوار کرنے کی خواہاں ہے۔
اگر یہ معاہدہ دیانتداری اور عزم کے ساتھ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو وسطی ایشیا سے جنوبی ایشیا تک ایک نیا معاشی و تجارتی راستہ کھل سکتا ہے۔ سی پیک، تاپی گیس پائپ لائن، اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک زمینی تجارت — ان تمام منصوبوں کی کامیابی کا انحصار پاک افغان تعلقات کے استحکام پر ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب دونوں ممالک کو ماضی کی تلخیوں کو پس پشت ڈال کر مستقبل کی تعمیر میں مصروف ہونا ہوگا۔
یہ معاہدہ دراصل اس ایمان کا مظہر ہے کہ “امن ہی ترقی کی بنیاد ہے”۔ اگر اسلام آباد اور کابل خلوصِ نیت سے اپنے وعدوں پر قائم رہیں تو یہ معاہدہ خطے کے لیے ایک نئے دورِ امن و استحکام کا پیش خیمہ بنے گا۔
اللّٰہ کرے کہ دوحہ سے شروع ہونے والا یہ سفر استنبول میں تکمیل کے قریب پہنچے اور دونوں برادر اقوام کی ترقی، خوشحالی اور بقاء کا ضامن بن جائے۔























