افغانستان کا پاکستان کے ساتھ معاندانہ رویہ اور بغض

ون پوائنٹ
نوید نقوی
========

جب تک آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں دوحہ میں ہونے والے مذاکرات افغانستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے اعلامیے کے ساتھ اختتام پذیر ہو چکے ہوں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے افغان طالبان رجیم کی طرف سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان انٹرنیشنل سرحد، جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے، کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر اعلانیہ حملے بھی کیے گئے ہیں۔ جس کا جواب انہیں مناسب طریقے سے دیا گیا اور تاریخ میں پہلی بار افغانوں کو Realise کروایا گیا کہ اب بس بہت ہو گیا ہے، اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے۔ پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ اپنی سرزمین کا فتنہ الخوارج کو استعمال نہ کرنے دے۔ لیکن افغان طالبان رجیم نے پاکستان کے احسانات کو بھلاتے ہوئے نہ صرف فتنہ الخوارج کی سپورٹ جاری رکھی بلکہ اپنے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے دورہ انڈیا کے دوران ہی پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملہ کیا اور ہمارے شہداء کی لاشوں کی بیحرمتی کی۔ یاد رہے کہ یکم ستمبر 2025 سے 15 اکتوبر تک پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات میں دیے گئے اعداد و شمار کا جائزہ لیا ہے جس سے پتہ چلا کہ اس دورانیے میں پاکستانی فوج کے 37 افسران و اہلکار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کو سرانجام دینے کے دوران یا ٹی ٹی پی کے حملوں میں شہید ہوئے ہیں۔
اسی دورانیے میں پاکستانی فوج نے بھی درجنوں دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا ہے۔ اگر تاریخی حقائق پر نظر دوڑائی جائے تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ دنیا میں انڈیا کے بعد جس ملک نے پاکستان کے ساتھ معاندانہ رویہ اختیار کیا، وہ ہمارا مغربی ہمسایہ افغانستان تھا، پاکستان نے ہمیشہ ایک بڑے بھائی کی طرح افغانوں کی مدد کی اور بدلے میں ہمیشہ احسان فراموشی پائی۔
30 ستمبر 1947ء کو افغانستان دنیا کا واحد ملک بنا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف ووٹ دیا۔
ستمبر 1947ء میں ہی افغان حکومت نے کابل میں افغان جھنڈے کے ساتھ پشتونستان کا جعلی جھنڈا لگا کر آزاد پشتونستان تحریک کی بنیاد رکھی۔
47ء میں ہی افغان ایلچی نجیب اللہ نے نوزائیدہ مسلمان ریاست پاکستان کو فاٹا سے دستبردار ہونے اور سمندر تک راہداری دینے کا مطالبہ کیا جس پر افغان حکومت کا کنٹرول ہو بصورت دیگر جنگ کی دھمکی دی۔قائد اعظم نے اس احمقانہ مطالبے کا جواب تک دینا پسند نہ کیا۔
1948ء میں افغانستان نے قبائل کے نام سے ایک نئی وزارت کھولی جس کا کام صرف پاکستان کے قبائلیوں کو پاکستان کے خلاف اکسانا تھا۔
1948 میں افغانستان میں پاکستان کے خلاف پرنس عبدالکریم بلوچ کے دہشتگردی کے ٹریننگ کمیپ بنے۔
1949ء میں روس کی بنائی ہوئی افغان فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایسے پمفلٹ گرائے جن میں قبائلی عوام کو پشتونستان کی تحریک کی حمایت کرنے پر ابھارنے کی کوشش کی گئی تھی۔
12 اگست 1949ء کو فقیر ایپی نے باچا خان کے زیراثر افغانستان کی پشتونستان تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔
31 اگست 1949ء کو کابل میں افغان حکومت کے زیر اہتمام ایک جرگہ منعقد کیا گیا جس میں باچا خان اور مرزا علی خان عرف فقیر ایپی دونوں نے شرکت کی۔ اس جرگے میں ہر سال 31 اگست کو یوم پشتونستان منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی جرگہ میں پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا۔
افغانستان کی پشت پناہی میں فقیر ایپی نے 1949ء میں پاکستان کے خلاف پہلی گوریلا جنگ کا آغاز کیا۔ اس کے جنگجو گروپ کا نام سرشتہ گروپ تھا۔ اس کی دہشت گردانہ کارروائیاں وزیرستان سے شروع ہو کر کوہاٹ تک پھیل گئیں۔ فقیر ایپی نے چن چن کر ان پشتون عمائدین کو قتل کیا جنھوں نے ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں رائے عامہ ہموار کی تھی۔1949 میں افغانستان نے اپنی پوری فورس اور لوکل ملیشیا کے ساتھ چمن کی طرف سے پاکستان پر بھرپور حملہ کیا۔ جس کو نوزائیدہ پاک فوج نے نہ صرف پسپا کیا بلکہ افغانستان کے کئی علاقے چھین لیے۔ جو افغان حکومت کی درخواست پر واپس کر دیے گئے۔
1954ء میں ایپی فقیر کے گروپ کمانڈر مہر علی نے ڈپٹی کمشنر بنوں کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے پاکستان سے وفاداری کا اعلان کیا جس کے بعد اس تحریک کا خاتمہ ہوا۔
1950 میں افغانستان نے انڈیا کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کیا جس کا ایک نقاطی ایجنڈہ تھا کہ پاکستان کو کسی بھی طرح گھیر کر ختم کرنا ہے۔
ستمبر 1950 میں افغان فوج نے بغیر وارننگ کے بلوچستان میں دوبندی علاقے میں بوگرہ پاس پر حملہ کر دیا۔ جس کا مقصد چمن تا تا کوئٹہ ریلوے لنک کو منقطع کرنا تھا۔ ایک ہفتے تک پاکستانی و افغانی افواج میں جھڑپوں کے بعد افغان فوج بھاری نقصان اٹھاتے ہوئے پسپا ہو گئی۔
16 اکتوبر 1951 کو ایک افغان قوم پرست دہشت گرد اکبر ببرج مردود نے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں شہید کیا۔ یہ قتل افغان حکومت کی ایماء پر ہوا۔ لیاقت علی خان کی شہادت پاکستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا پہلا واقعہ تھا یعنی پاکستان میں دہشت گردی کا آغاز افغانستان نے کیا۔
6 جنوری 1952 کو برطانیہ کے لیے افغانستان کے ایمبیسڈر شاہ ولی خان نے بھارت کے اخبار دی ہندو کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ ہرزہ سرائی کی کہ پشتونستان میں ہم چترال، دیر، سوات، باجوڑ، تیراہ، وزیرستان اور بلوچستان کے علاقے شامل کرینگے۔
26 نومبر 1953 کو افغانستان کے کے نئے سفیر غلام یحیی خان طرزی نے ماسکو روس کا دورہ کیا جس میں روس (سوویت اتحاد) سے پاکستان کے خلاف مدد طلب کی۔
28 مارچ 1955 میں افغانستان کے صدر داؤد خان نے روس کی شہہ پا کر پاکستان کے خلاف انتہائی زہر آمیز تقریر کی جس کے بعد 29 مارچ کو کابل، جلال آباد اور کندھار میں افغان شہریوں نے پاکستان کے خلاف پرتشدد مظاہروں کا آغاز کر دیا جس میں پاکستانی سفارت خانے پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی گئی اور پاکستانی پرچم کو اتار کر بےحرمتی کی گئی۔ ردعمل میں پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کردیے اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا۔
55ء میں سردار داؤود وغیرہ نے پاکستان کے بارڈر پر بہت بڑے بڑے کھمبے لگائے جن پر اسپیکر لگا کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا۔ یہ افغانستان کی پاکستان کے خلاف پشتونوں کو بھڑکانے کے لیے پہلی ڈس انفارمیشن وار تھی جس میں ٹیکنالوجی کو استعمال کیا گیا۔ اسکی جدید ترین شکل ڈیوہ اور مشال ریڈیو ہیں جنھوں نے پی ٹی ایم کو جنم دیا۔
مئی 1955ء میں افغان حکومت نے افغان فوج کو متحرک ہونے کا حکم دیا۔ جس پر جنرل ایوب خان نے کہا اگر افغانستان نے کسی قسم کی جارحیت کا ارتکاب کیا تو اسے وہ سبق سکھایا جائے گا جو وہ کھبی نہ بھول سکے گا۔ جس کے بعد وہ رک گئے۔
نومبر1955ء میں چند ہزار افغان مسلح قبائلی جنگجووں نے گروپس کی صورت میں 160 کلومیٹر کی سرحدی پٹی کے علاقے میں بلوچستان پر حملہ کر دیا۔ پاک فوج سے ان مسلح افغانوں کی چھڑپیں کئی دن تک جاری رہیں۔
مارچ 1960ء میں افغان فوج نے اپنی سرحدی پوزیشنز سے باجوڑ ایجنسی پر مشین گنوں اور مارٹرز سے گولہ باری شروع کر دی۔ جس کے بعد پاکستانی ائیر فورس کے طیاروں نے افغان فوج کی پوزیشنز پر بمباری کی۔
28 ستمبر 1960 کو افغان فوج نے چند ٹینکوں اور انفینٹری کی مدد سے باجوڑ ایجنسی پر حملہ کر دیا۔
پاکستان آرمی نے ایک مرتبہ پھر افغان فوج کو بھاری نقصان پہنچاتے ہوئے واپس دھکیل دیا۔
1960ء میں ہی افغانستان میں پاکستان کے خلاف شیر محمد مری کے دہشتگردی کے ٹریننگ کیمپس بنے۔
مئی 1961ء میں افغانستان نے باجوڑ، جندول اور خیبر پر ایک اور محدود پیمانے کا حملہ کیا۔
اس مرتبہ اس حملے کا مقابلہ فرنٹیر کور نے کیا اور اس دفعہ بھی پاکستانی فضائیہ کی بمباری نے حملے کا منہ موڑ دیا۔
1965ء میں انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تو افغانستان نے موقع غنیمت جان کر دوبارہ مہمند ایجنسی پر حملہ کر دیا۔ لوگ حیران رہ گئے کہ انڈیا نے افغانستان کی طرف سے کیسے حملہ کر دیا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ افغانیوں نے کیا ہے۔ اس حملے کو مقامی پشتون بھائیوں نے پسپا کر دیا۔
1970ء میں افغانستان نے اے این پی والوں کے ناراض پشتونوں اور بلوچوں کے ٹریننگ کیمپس بنائے۔ عدم تشدد کے نام نہاد علمبردار اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک ان کیمپس کا حصہ تھے۔
1971ء میں جب کے جی بی انڈیا کے ساتھ ملکر پاکستان کو دولخت کر رہی تھی تو اس کے ایجنٹ افغانستان میں بیٹھا کرتے تھے۔ اس وقت افغانی اعلانیہ کہا کرتے تھے کہ 2 ہونے کے بعد اب پاکستان کے 4 ٹکڑے ہونگے۔
1972ء میں اے این پی کے اجمل خٹک نے افغانستان کی ایماء پر دوبارہ پشتونستان تحریک کو منظم کرنے پر کام شروع کر دیا۔ تاہم اس وقت تک افغانستان کو اندازہ ہو چکا تھا کہ پشتونستان تحریک بری طرح سے ناکام ہو چکی ہے اس لیے اس نے اب بھارت کے ساتھ ملکر آزاد بلوچستان تحریک کو بھڑکانا اور بلوچ علیحدگی پسندوں کی عسکری تربیت شروع کردی۔ تاہم پشتونستان کے نام پر بھی افغان تخریب کاریاں جاری رہی۔
افغانستان کی طرف سے مسلسل سازشوں اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کے بعد بالآخر پاکستان کے وزیر اعظم ذو الفقار بھٹو نے پہلی مرتبہ جواباً افغانستان کے خلاف منظم خفیہ سرگرمیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
1973ء میں پشاور میں افغان نواز عناصر نے پشتونستان تحریک کے لیے پشتون زلمی کے نام سے نئی تنظیم سازی کی۔
1974ء میں افغانستان نے لوئیے پشتونستان کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔
فروری 1975ء میں افغان نواز تنظیم پشتون زلمی نے خیبرپختونخواہ کے گورنر حیات خان شیرپاو کو بم دھماکے میں شہید کر دیا۔(بحوالہ کتاب فریب ناتمام از جمعہ خان صوفی)
28 اپریل 1978ء میں روسی پروردہ کمیونسٹ جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی افغانستان نے روسی اسلحے اور چند روسی طیاروں کی مدد سے کابل میں بغاوت برپا کردی جسے انقلاب ثور کا نام دیا گیا۔اس کے نتیجے میں صدر داؤد سمیت ہزاروں افغانوں کو بیدردی سے ہلاک کر دیا گیا اور افغانستان پر کمیونسٹ حکومت قائم کردی گئی۔ کمیونسٹ صدر نجیب نے اقتدار سنبھالتے ہی لوئے پشتونستان کی عام حمایت کا اعلان کر دیا۔
1979ء میں افغان عوام کمیونسٹ حکومت کے خلاف پوری طاقت سے کھڑے ہو گئے اور کمیونسٹ نجیب ہزاروں افغانوں کا قتل عام کرنے کے باوجود عوامی انقلاب کو روک نہ سکا۔ اپنی حکومت کو خطرے میں دیکھ کر نجیب نے روس کو افغانستان پر حملہ کرنے کی دعوت دے دی۔
24 دسمبر 1979ء کو روس نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔
روسی پورے افغانستان کو روندتے ہوئے تورخم بارڈر تک پہنچ گئے اور اعلان کیا کہ وہ دریائے سندھ کو اپنا بارڈر بنائینگے۔ یعنی بلوچستان اور کے پی کو لے لینگے۔
روسی و افغان کمیونسٹ افواج نے افغانستان میں قتل و غارت کا وہ بازار گرم کیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ پاکستان نے اس موقع پر 40 لاکھ سے زیادہ افغانوں کو پناہ اور تحفظ دیا اور روس کے خلاف برسرپیکار افغان مجاہدین کی مکمل مدد کی۔
79ء سے 89ء تک روسی فضائیہ نے کئی مرتبہ پاکستانی سرحدی علاقوں پر بمباری کی۔ کے جی بی اور افغان ایجنسی خاد نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیاں کیں جن کے نتیجے میں سینکڑوں پاکستانی شہید ہوئے۔
2006ء سے اب تک افغانستان کی نئی ایجنسی این ڈی ایس بھارتی ایجنسی را کے ساتھ ملکر پاکستان میں ٹی ٹی پی سمیت کوئی پچاس کے قریب مختلف دہشت گرد تنظیموں کو سپورٹ کر رہی ہے۔ ان تمام تنظیموں کی مشترکہ کاروائیوں میں اب تک 60،000 سے زیادہ پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں بڑی تعداد پشتون بھائی شامل ہیں۔ تین لاکھ سے زائد زخمی ہوئے اور ہزاروں اب بھی آئی ڈی پیز کی شکل میں بے گھر ہیں۔ پاکستان کو کم از کم 200 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔
افغانستان نے پاکستان میں جو دہشت گردانہ حملے کیے ان میں سب سے بڑا حملہ 16 دسمبر 2014 کو APS پر کیا گیا جس میں بھارتی RAW اور افغان NDS کے پلان پر7 افغان دہشت گردوں نے پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ کیا جس میں 150 بچوں اور اساتذہ کو بیدردی سے شہید کر دیا۔
جون 2016ء میں افغان نیشنل آرمی نے طورخم بارڈر پر گیٹ لگانے والی پاک فوج پر حملہ کر دیا اور پاک فوج کے میجر علی جواد خان کو شہید کر دیا۔ پاک فوج کے جوابی حملے میں افغان فورسز اپنی چیک پوسٹیں اور قلعہ تک چھوڑ کر فرار ہوگئیں۔ بعد میں زخمی فوجیوں کا علاج کرنے پاکستان سے درخواست کی جو پاکستان نے قبول کر لی۔
5 مئی 2017ء کو بھارت کی شہہ پر افغان نیشنل آرمی نے چمن پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر دیا جس میں 2 پاکستانی فوجی اور 9 پاکستانی سویلین شہید جبکہ 40 کے قریب زخمی ہوئے۔ جواباً پاک فوج کے حملے میں 50 افغان فوجی ہلاک اور 5 ملٹری پوسٹس تباہ ہوئیں۔ حالیہ جھڑپوں سے پہلے ہر چند دن کے وقفے کے بعد دہشت گرد افغان سرزمین سے پاکستانی سرحدی پوسٹوں پر مسلسل حملے کر رہے تھے۔ قبائلی اضلاع، بلوچستان اور کے پی کے میں آپریٹ کرنے والی تمام دہشت گرد تنظمیوں کے مراکز افغانستان میں ہیں اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہے۔
دوسری جانب ڈیوہ اور مشال ریڈیو پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا رنگ لے آیا اور عین اس وقت جب افغانستان کی بہت بڑی پراکسی کو شکست دینے کے بعد قبائلی علاقوں میں دوبارہ آباد کاری اور تعمیر نو کا عمل جاری تھا 2018ء میں ایک بار پھر وزیرستان سے پشتونوں کی نئی تحریک لانچ کی گئی پی ٹی ایم کے نام سے۔ افغان صدر اور افغان پارلیمنٹ نے ان کی علانیہ حمایت کی۔ افغانیوں نے افغانستان سمیت دنیا بھر میں اس تحریک کے حق میں مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یوں اس کو پشتونوں کی عالمی تحریک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ اسی تحریک میں پاکستان مردہ باد، اسرائیلی آرمی زندہ باد، دہشت گردی کے پیچھے وری، لرو بر یو پشتون ( لوئے پشتونستان ) اور پاکستان سے آزادی کے نعرے لگانے شروع کر دیے گئے۔ افغان شعرا نے اس کے حق میں شاعری کی، غزلیں لکھیں، افغان مصوروں نے تحریک کے لیے مفت میں آرٹ تخلیق کرنا شروع کیا۔ جس کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا۔ پونی والی تاجک ٹوپی جو اس سے پہلے پاکستانی پشتون علاقوں میں نہ کبھی کسی نے دیکھی نہ پہنی کو تحریک کی علامت بنا کر مفت تقسیم کیا گیا۔
وہ افغانی جو پاکستان میں رہتے ہیں یا جنھوں نے پاکستانی یونیورسٹیوں میں پڑھ کر اردو سیکھ لی ہے نے جعلی اکاؤنٹس بنا کر بہت بڑے پیمانے پر اس نئی تحریک کو سپورٹ کرتے ہوئے پاکستان مخالف پروپیگنڈا شروع کر دیا۔
اب PTM مخالفین یا پاکستان حامیوں کو نشانہ بنایا جانے لگا۔ ملک ماتوڑکے، ملک عباس اور SP طاہر داؤڑ اس کی چند مثالیں ہیں۔SP طاہر داؤڑ کو NDS کا اہلکار ورغلا کر افغانستان لے گیا اور پھر افغان حکومت نے اسکو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ لاش PTM کے حوالے کی گئی۔
مئ 2025 جب پاک فوج نے انڈین طیارے گرائے تو تمام افغان سوشل میڈیا نے انڈیا کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور جنگ کی صورت میں انڈیا کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔
افغانستان میں ہی NDS اور ملا طور کے زیر قیادت ایک خفیہ میٹنگ کا انکشاف ہوا جس میں TTP نے انڈین جہاز گرانے پر پاکستان سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔
پکتیکا میں وزیرستان کے آٹھ لوگوں کو محض اس لیے شہید کر دیا گیا کہ وہ پاکستانی تھے۔ ایک دو سال پہلے بھی ایک افغانی فوجی نے اسی طرح پاکستانی پشتونوں کو قتل کر دیا تھا جو مزدوری کرنے افغانستان گئے تھے اور پھر اس کی ویڈیو بنا کر شئیر بھی کی۔
المختصر کسی کا صرف پاکستانی پشتون ہونا افغان فوج کو اسکے قتل کا لائسنس دے دیتا ہے۔ یہ ہے افغانستان کی پاکستان میں دہشتگردیوں اور دراندازیوں کی تاریخ جسکے باعث نہ کبھی پشتونوں اور نہ ہی پاکستان کو سکھ کا سانس لینے دیا گیا۔ اب جبکہ پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور افغانستان میں طالبان رجیم کا غیر قانونی اقتدار ہے تو ان کو واضح طور پر وارننگ دی گئی ہے کہ اگر پاکستان پر کسی بھی قسم کے حملے میں افغان سرزمین استعمال کی گئی تو فوری اور موثر بدلہ لیا جائے گا۔