امریکی تاریخ میں کئی قاتل ایسے گزرے ہیں جنہوں نے خوف کی داستانیں رقم کیں، مگر ایک نام آج بھی دہشت، نفرت اور حیرت کی علامت بن چکا ہے — جان وین گیسی، وہ شخص جو دن میں مسکراتا جوکر تھا اور رات میں ایک درندہ۔
شکاگو کے مضافات میں 1942 میں پیدا ہونے والا یہ شخص بظاہر ایک عام شہری تھا۔ اس کی شناخت ایک سماجی، محنتی اور خوش مزاج انسان کے طور پر ہوتی تھی۔ دن کے وقت وہ کنسٹرکشن کمپنی چلاتا، مقامی سیاست میں حصہ لیتا اور بچوں کے اسپتالوں میں “پوگو دی کلاون” بن کر بیمار بچوں کو ہنساتا۔ مگر اس مسکراہٹ کے پیچھے چھپا اندھیرا کوئی نہ جانتا تھا۔
1972 سے 1978 کے درمیان، شکاگو کے علاقے نوروڈ پارک ٹاؤن شپ میں کئی نوجوان پراسرار طور پر لاپتہ ہونے لگے۔ کسی کو اندازہ نہ تھا کہ ان کی گمشدگی کے پیچھے وہی “خوش مزاج جوکر” ہے جو مقامی تقریبات میں سب کو مسکراہٹیں بانٹتا تھا۔
گیسی اپنی کمپنی “پی ڈی ایم کانٹریکٹرز” کے ذریعے نوجوان لڑکوں کو ملازمت کا جھانسہ دیتا، انہیں اپنے گھر بلاتا، پھر ان پر تشدد، جنسی زیادتی اور آخرکار قتل کر کے لاشوں کو گھر کے نیچے دفن کر دیتا۔ بعد میں جب پولیس نے اس کے گھر کی تلاشی لی تو وہاں 26 لاشیں دفن پائی گئیں، جب کہ چند لاشیں قریبی دریا سے برآمد ہوئیں۔
اس کے جرائم کا پردہ اُس وقت فاش ہوا جب 11 دسمبر 1978 کو 15 سالہ رابرٹ پیئسٹ نامی لڑکا نوکری کے وعدے پر گیسی کے پاس گیا اور واپس نہ آیا۔ پولیس نے جب گیسی کی حرکات پر نظر رکھی تو پرانے جنسی ہراسانی کے کیسز اور گمشدہ افراد کے شواہد نے تفتیش کا رخ اسی کی طرف موڑ دیا۔
گھر کی کھدائی کے دوران جب زمین کے نیچے سے ایک کے بعد ایک لاش نکلی، تو پورا امریکہ لرز اٹھا۔ پولیس اہلکار بھی اس بھیانک منظر کو دیکھ کر سکتے میں آ گئے۔
گرفتاری کے بعد جان وین گیسی نے انتہائی اطمینان سے اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔ اس نے بتایا کہ اس نے 30 سے زائد افراد کو قتل کیا، لیکن کبھی کبھی اسے لگتا تھا کہ یہ سب اس کا دوسرا روپ “جیک ہینلی” کر رہا ہے — ایک ایسا بہانہ جو اس کی نفسیاتی حالت کو چھپانے کی ناکام کوشش تھی۔
1980 میں عدالت نے گیسی کو 33 قتل، جنسی زیادتی اور نابالغوں پر تشدد کے الزامات میں سزائے موت سنائی۔ اس نے 14 سال جیل میں گزارے، خود کو بےقصور قرار دیتا رہا، اور بالآخر 10 مئی 1994 کو زہریلا ٹیکہ لگا کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
آج، تین دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی جان وین گیسی کا نام سن کر لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ “پوگو دی کلاون” کے چہرے پر وہ مسکراہٹ اب بھی ایک سوال بن کر زندہ ہے —
کیا ایک مسکراہٹ کے پیچھے کبھی کبھی ایک شیطان چھپا ہوتا ہے؟























