حکیم محمد سعید ایک نامور پاکستانی طبی محقق، مصنف، عالم اور مخیر شخصیت تھے۔ وہ 9 جنوری 1920ء کو نیو دہلی، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے۔ مشرقی طب کے میدان میں وہ ایک ممتاز شخصیت تھے اور انہوں نے 1948ء میں ہمدرد فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ سعید 19 جولائی 1993ء سے 23 جنوری 1994ء تک صوبہ سندھ کے گورنر بھی رہے۔

ان کی چند قابل ذکر کامیابیاں درج ذیل ہیں:
– **تالیفات:** انہوں نے طب، فلسفہ، سائنس، صحت اور ادب کے شعبوں میں 200 سے زائد کتابیں لکھیں اور ترتیب دیں۔
– **ہمدرد یونیورسٹی:** انہوں نے 1985ء میں ہمدرد یونیورسٹی قائم کی اور اس کے پہلے وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
– **مدینۃ الحکمہ:** انہوں نے کراچی میں مدینۃ الحکمہ کیمپس قائم کیا، جس میں متعدد تعلیمی ادارے اور ایک وسیع لائبریری شامل ہے۔
– **متبادل طب:** عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ہاں متبادل طب کی تسلیمیت دلوانے میں ان کا اہم کردار رہا۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ حکیم محمد سعید کو 17 اکتوبر 1998ء کو کراچی میں قتل کر دیا گیا۔ ان کی زندگی اور کارناموں کے بارے میں مزید معلومات کے لیے آپ ان کی سرکاری ویب سائٹ پر جا سکتے ہیں یا معتبر ذرائع کی آن لائن تلاش کر سکتے ہیں۔
**ورثہ**
حکیم محمد سعید کی میراث طبی محققین، علماء اور مخیرین کی نسلوں کو راہنمائی فراہم کرتی رہتی ہے۔ مشرقی طب کے میدان میں ان کی خدمات اور پاکستان میں تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کو فروغ دینے کی ان کی کوششوں نے ایک پائیدار اثر چھوڑا ہے۔
**ہمدردانہ کام**
سعید کے قائم کردہ ہمدرد فاؤنڈیشن کا سلسلہ ضرورت مند لوگوں کو صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات، تعلیم اور تحقیق کے مواقع فراہم کرتا رہتا ہے۔ مجموعی صحت اور بہبود کو فروغ دینے کے لیے فاؤنڈیشن کی وابستگی سعید کے وژن اور لگن کی علامت ہے۔
**اعزازات**
حکیم محمد سعید کے کام کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔ طب اور تعلیم کے شعبوں میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں نشانِ امتیاز اور ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ ان کی میراث انسانیت کے لیے ہمدردی، لگن اور خدمت کی اہمیت کی یاد دہانی کراتی ہے۔























