لیونل میسی کی 10 ملین پاؤنڈ مالیت کی حویلی غیر قانونی قرار

ارجنٹینا کے معروف فٹبالر لیونل میسی ایک نئے تنازعے میں پھنس گئے ہیں، کیونکہ ان کی اسپین کے ساحلی علاقے ایبیزا میں واقع 10 ملین پاؤنڈ (تقریباً 3 ارب 76 کروڑ روپے) مالیت کی حویلی کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے، جسے ممکنہ طور پر جلد گرانے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ 16 ہزار مربع میٹر پر مشتمل وسیع و عریض جائیداد میسی نے 2022 میں سوئس بزنس مین فلپ امون سے خریدی تھی۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ اس مکان کا تعمیراتی اجازت نامہ اور قبضے کا سرٹیفکیٹ موجود نہیں، جس کی وجہ سے یہ قانونی تنازعے میں آ گیا۔

گزشتہ سال اس حویلی کو اس وقت مزید توجہ ملی جب ماحولیاتی کارکنوں کے گروپ “فیوٹورو ویجیٹل” (Futuro Vegetal) نے احتجاج کے دوران اس مقام پر توڑ پھوڑ کی تھی۔

رپورٹس بتاتی ہیں کہ اجازت نامے کی کمی کے باعث میسی نہ تو اس حویلی کو فروخت کر سکتے ہیں اور نہ ہی کرائے پر دے سکتے ہیں۔ اگر قانونی معاملات جلد حل نہ ہوئے تو اس جائیداد کا کچھ حصہ منہدم کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب، میسی کے حوالے سے یہ بھی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ انہوں نے آئندہ سیزن کے لیے سعودی پروفیشنل لیگ میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، البتہ وہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ کس کلب کی نمائندگی کریں گے۔

ذرائع کے مطابق میسی اور سعودی حکام کے درمیان بات چیت تیزی سے جاری ہے، اور فٹبال شائقین دنیا بھر میں ان کے اگلے قدم کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔