تحریر: نعیم اختر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جنہوں نے سیاست کو محض ایک جماعتی یا انتخابی کھیل نہیں، بلکہ ایک نظریے اور بیانیے کی صورت میں پیش کیا۔ ان ناموں میں بلاشبہ محمد نواز شریف صفِ اول میں شمار ہوتے ہیں۔ تین بار وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے والے نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کو عوامی مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچایا۔
جس طرح پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کے بغیر سیاسی طور پر ادھوری دکھائی دیتی ہے، بالکل اسی طرح مسلم لیگ (ن) بھی نواز شریف کے بغیر نامکمل نظر آتی ہے۔ مگر اب حالات بتا رہے ہیں کہ وہ گرفت، جو کبھی لوہے کی زنجیر کی مانند مضبوط تھی، بتدریج کمزور پڑتی جا رہی ہے۔
پاکستان کے حالیہ انتخابات ملکی تاریخ کے متنازع ترین الیکشنز میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ فروری 2024 کے الیکشن میں نواز شریف کو چوتھی بار وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر پیش کیا گیا۔ بڑے اخبارات میں ان کے لیے پورے صفحے کے اشتہارات چھپے، جلسوں میں عوامی ہجوم امڈ آیا، مگر نتائج نے سب کو حیران کر دیا۔
رات گئے تک ملنے والے نتائج میں مسلم لیگ (ن) کو واضح شکست کا سامنا تھا، اور پارٹی قیادت گھروں کو لوٹ چکی تھی۔ مگر صبح طلوع ہونے سے پہلے نتائج کا نقشہ بدل گیا۔ ایسی سیاسی “کرامات” شاید ہی کسی جمہوری ملک میں دیکھی گئی ہوں۔ یوں ایک ایسی حکومت وجود میں آئی جسے عوامی حمایت سے زیادہ “اداروں کی انجینئرنگ” کا نتیجہ کہا گیا
یہ اقتدار مسلم لیگ (ن) کے لیے کسی کامیابی سے زیادہ آزمائش ثابت ہوا۔ پارٹی کو اقتدار تو ملا مگر عوامی تائید کھو گئی۔ “مفاہمت کی سیاست” اور “کمپرومائزڈ فیصلوں” نے نظریاتی کارکنوں کو شدید مایوس کیا۔
نواز شریف جو ہمیشہ فیصلوں کے مرکز میں رہے اب گوشہ نشین ہیں ،سیاسی منظرنامے پر ان کی خاموشی پارٹی کے اندر بے یقینی اور انتشار پیدا کر چکی ہے،میاں شہباز شریف کی حکومت وہ نعرے اور وعدے بھلا چکی ہے جو “ووٹ کو عزت دو” کے نام پر عوام کو دیے گئے تھے۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ریاستی فیصلوں میں اب وہ نظریاتی سمت نظر نہیں آتی جو کبھی مسلم لیگ (ن) کی پہچان تھی۔
قائدِاعظم محمد علی جناح کے اصولوں — “کسی بیرونی طاقت کی مداخلت کے بغیر خود مختار خارجہ پالیسی” — کے برخلاف، موجودہ حکومت نے ایسے اقدامات کیے جنہوں نے عوامی جذبات کو مجروح کیا، بالخصوص اسرائیل سے متعلق مبینہ نرم رویہ اور غیر متوازن سفارتی حکمتِ عملی نے
پاکستانی عوام کے جذبات کو چوٹ پہنچائی۔
نواز شریف جیسے قدآور لیڈر کی خاموشی نے کارکنان میں یہ احساس گہرا کر دیا ہے کہ شاید انہیں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔اگر پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے گراف میں کمی آئی ہے تو سندھ میں حالات اس سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔
سندھ کی صوبائی قیادت بدانتظامی، گروپ بندی اور کرپشن کے الزامات میں گھری ہوئی ہے۔ پارٹی کے اندر چار دھڑے بن چکے ہیں، اور ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ جاری ہے۔ کئی ضلعی عہدیداران نے احتجاجاً استعفے تک دے دیے ہیں۔ مگر افسوس کہ اسلام آباد میں بیٹھے رہنما آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔
مرکزی قیادت کی خاموشی اور عدم توجہ نے نچلی سطح کے کارکنوں کو احساسِ محرومی میں مبتلا کر دیا ہے۔
نواز شریف 1999 کی فوجی بغاوت کے بعد جب جلاوطنی کے دن کاٹ رہے تھے تو انہوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا:
> “میرا ووٹر انقلابی نہیں، حالات سے ڈر جاتا ہے۔”
یہ جملہ اُس نفسیاتی حقیقت
کی طرف اشارہ کرتا ہے جس نے مسلم لیگ (ن) کو آج کے مقام تک پہنچایا۔
بیس سال بعد بھی وہی صورتحال دہرائی جا رہی ہے قیادت مشکلات میں ہے، کارکن کنفیوژن میں اور پارٹی کے فیصلے کہیں اور سے ہو رہے ہیں۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج وفاق میں ایک ایسی حکومت بیٹھی ہے جو عوام سے مکمل طور پر کٹ چکی ہے۔
عوامی مفاد کے بجائے ایسے فیصلے ہو رہے ہیں جو کسی اور کے ایجنڈے کو تقویت دے رہے ہیں۔مہنگائی، بے روزگاری، اور عوامی مایوسی کے اس دور میں اگر مسلم لیگ (ن) اپنی سمت درست نہ کر سکی، تو وہی انجام اس کا بھی ہوگا جو ماضی میں مسلم لیگ (قیوم)، مسلم لیگ (کونسل)، اور مسلم لیگ (فنکشنل) کا ہوا تھا یعنی تاریخ کے صفحات میں محض ایک باب بن جانا۔
سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف اپنی پارٹی کو نظریاتی طور پر زندہ رکھ پائیں گے،کیا مسلم لیگ (ن) پھر سے “ووٹ کو عزت دو” کے نعرے پر کھڑی ہو سکے گی؟
اگر نہیں تو آنے والے برسوں میں مسلم لیگ (ن) کا زوال محض سیاسی نہیں، تاریخی بھی ہوگا۔پاکستان کی سیاست اس وقت ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے نظریات اور عوامی اعتماد کی بحالی پر توجہ دیں، کیونکہ اقتدار وقتی ہوتا ہےمگر تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ دائمی رہتا ہے۔























