ڈونلڈ ٹرمپ امن کے علمبردار ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیاء میں امن قائم کرکے لاکھوں لوگوں کی جانیں بچائیں، صدر ٹرمپ امن کے علم بردار ہیں۔

مصر کے شہر شرم الشیخ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اہم دن ہے انتھک محنت کے بعد غزہ میں امن کیلئے کامیاب ہوئے، آج غزہ کے لیے اہم اور تاریخی دن ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو امن نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا، امریکی صدر ٹرمپ سب سے زیادہ امن نوبیل انعام کے مستحق ہیں، امریکی صدر نے صرف امن ہی نہیں لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچائیں۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی شرم الشیخ میں قطر کے امیرشیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات ہوئی، دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قطر کے مضبوط اور تاریخی تعلقات کا اعادہ کیا، ملاقات میں مختلف شعبوں میں پاکستان قطر تعاون کو مزید بڑھانے کےعزم کا اظہار کیا گیا۔

مصر: شرم الشیخ میں غزہ امن معاہدے پر امریکا، ترکیہ، مصر، قطر نے دستخط کردیے

وزیر اعظم نے امیر قطر کی ثابت قدم قیادت، سفارت کاری اور دیگر برادر ممالک کے ساتھ تعاون پر تعریف کی اور غزہ کے بحران کے منصفانہ اور دیرپا حل تلاش کرنے کیلئے قطر کی مسلسل کوششوں کو بھی سراہا۔

دوسری جانب امریکا، مصر، قطر اور ترکیے نے غزہ امن معاہدے پر دستخط کردیے، امن معاہدے پر دستخط کی تقریب مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہوئی۔

تقریب سے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آج پوری دنیا کے لیے بہت بڑا دن ہے، معاہدے سے مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوگا، دوست ملکوں کے تعاون سے امن معاہدہ ممکن ہوا۔

غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں وزیراعظم شہبازشریف بھی شریک تھے

مصر: شرم الشیخ میں غزہ امن معاہدے پر امریکا، ترکیہ، مصر، قطر نے دستخط کردیے
تازہ ترینبین الاقوامی خبریں13 اکتوبر ، 2025
FacebookTwitterWhatsapp
لمحہ با لمحہقومی خبریںبین الاقوامی خبریںتجارتی خبریںکھیلوں کی خبریںانٹرٹینمنٹصحتدلچسپ و عجیبخاص رپورٹ

مصر کے شہر شرم الشیخ میں بین الاقوامی سربراہی اجلاس کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کردیے گئے۔

غزہ امن معاہدے پر ثالث ممالک کے سربراہان امریکا، ترکیہ، مصر، قطر نے دستخط کیے، وزیر اعظم شہباز شریف غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شریک ہیں۔

بین الاقوامی سربراہی اجلاس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کرتے ہوئے قطر، ترکی اور مصر کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

امریکی صدر نے اپنی افتتاحی تقریر کے دوران قطر اور ترکی کے رہنماؤں کی تعریف کرتے ہوئے ان کی کوششوں کو سراہا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیلی پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران احتجاج

انہوں نے اپنے مصری ہم منصب کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں “شاندار انسان” اور “عظیم جنرل” قرار دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ امن معاہدے سے مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوگا، تاریخی دن ہے ،غزہ امن معاہدہ بڑی کامیابی ہے، دوست ممالک کے تعاون سے غزہ امن معاہدہ ممکن ہوا، غزہ امن معاہدے میں مصر کا کردار اہم ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن و استحکام چاہتے ہیں، ہم مل کر غزہ میں تعمیر نو کریں گے، ایسے کامیاب دن پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔

فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر جذباتی مناظر، شاندار استقبال کیا گیا

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ دستاویز میں غزہ سے متعلق معاہدے کے ضابطوں کی تشریح شامل ہے، غزہ معاہدہ ایک جامع معاہدہ ہے، غزہ معاہدہ سب سے مشکل کام تھا، اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ معاہدہ پائیدار ہوگا، اسرائیلی یرغمالیوں کی باقیات کی حوالگی حل طلب مسئلہ ہے، غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کی باقیات کی تلاش میں مدد فراہم کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے کیلئے قطری امیر کی انتھک کاوشیں قابل تحسین ہیں، ترک صدر اردوان کا بھی شکریہ جن کے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے، صدر اردوان بہترین انسان ہیں ان کی دوستی پر شکر گزار ہوں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا

وزیراعظم شہباز شریف کی شرم الشیخ میں قطر کے امیرشیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات ہوئی، دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قطر کے مضبوط اور تاریخی تعلقات کا اعادہ کیا، ملاقات میں مختلف شعبوں میں پاکستان قطر تعاون کو مزید بڑھانے کےعزم کا اظہار کیا گیا۔

وزیر اعظم نے امیر قطر کی ثابت قدم قیادت، سفارت کاری اور دیگر برادر ممالک کے ساتھ تعاون پر تعریف کی اور غزہ کے بحران کے منصفانہ اور دیرپا حل تلاش کرنے کیلئے قطر کی مسلسل کوششوں کو بھی سراہا۔

دوسری جانب غزہ میں جنگ بندی کے امن معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں آگئی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق حماس نے تمام 20 اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے۔ 28 یرغمالیوں کی لاشیں بھی آج ہی اسرائیل کے سپرد کی جائیں گی۔

اسرائیل کی عوفر جیل سے رہا 1 ہزار 966 فلسطینی قیدیوں کی بسیں غزہ پہنچ گئیں۔