بلاول بھٹو۔ آپ پر اس شہر کا قرض ہے!

تحریر: سہیل دانش
آپ با اختیار بھی ہیں اور بر سرِ اقتدار بھی۔ آپ کسی بھی وقت وزیراعظم سے ہاٹ لائن پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ فوج کے سربراہ سے میل ملاپ آپ کے روٹین میں شامل ہے۔ آپ بھٹو کے نواسے اور محترمہ بے نظیر کے صاحبزادے ہیں۔ سیاسی اعتبار سے آپکی شخصیت پر کوئی سوالیہ نشان نہیں۔ مالی اعتبار سے کوئی اسکینڈل آپ کی ذات پر چسپاں نہیں۔ خواہ پیپلز پارٹی کو اِس تنقید کا سامنا ہو کہ وہ سندھ میں لسانی اکائیوں کے مابین تفریق پر عمل پیرا ہے لیکن کوئی بھی یہ ذمہ داری آج تک آپ کے کندھوں پر نہیں ڈال سکا۔ اِس اعبتار سے سندھ کے شہری علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لئے مواقع کی فراہمی، اُخوت، بھائی چارہ، انصاف اور محبت کے حوالے سے آپ کے لئے عملی اقدامات اور یہاں کے عوام کا دل جیتنے کی بڑی Space موجود ہے۔ اگر آپ صدقِ دل اور نیک نیتی سے عملی طور پر ان علاقوں کی اونرشپ قبول کریں مانا آپ کا سیاسی پاور بیس اندرونِ سندھ ہے۔ لیکن پاکستان کے سب سے بڑے شہر پر ایک گہری نظر ڈالیں۔ بس یہ جاننے کی کوشش کریں کہ یہ کس حال میں ہے۔ اِس کے کیا مسائل ہیں۔ اِس کے دُکھ درد کیا ہیں۔ مجھے معلوم ہے یہ شہر زخموں سے چُور چُور ہے اِس کا مداوا ایک دِن میں نہیں ہوگا۔ اپنی مصروفیات میں سے پہلے مرحلے میں کوئی تین روز اِس شہر کو دیں۔ اِس میں آپ اپنے کارواں میں وزیراعلیٰ سندھ، میئر کراچی، وزیربلدیات، چیف سیکریٹری اور شہری انفرااسٹرکچر اور واٹر اینڈ الیکٹرک کے اعلیٰ عہدیداروں کو ساتھ لپیں۔ تین دِن آپ صرف شہر کی شاہراہوں پر مختلف علاقوں کا دورہ کریں۔ اِس کا آغاز قائداعظم کے مزار پر فاتحہ خوانی کے بعد مزار سے یونیورسٹی روڈ پر ملیر کینٹ تک سفر سے کریں۔ آپ صرف دیکھتے جائیں۔ نوٹس لیتے جائیں۔ اپنے دل کی بات سنتے جائیں۔ واپس بلاول ہاؤس آئیں اور اپنے تمام ذمہ داروں سے صرف یہ پوچھیں کہ ہم نے کیا دیکھا۔ دیکھیں وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ پھر تنہائی میں خود سے سوال کریں کہ آپ نے تین دِن تک اِس شہر میں کیا دیکھا اور آپ اس کا مداوا کیسے کرسکتے ہیں۔ یقین جانیں۔ آپ بہت کچھ کرسکتے ہیں آپ یہ لگن دکھائیں تو سہی ڈنڈا اُٹھائیں پھر نتیجہ دیکھیں آپ پر یہ اس شہر کا قرض ہے۔ (باقی آئندہ۔)