طالبان کے حامی پاکستانی صحافی سوشل میڈیا پر اپنے خیالات لکھ رہے ہیں۔ 50 سال سے طالبان پاکستان میں آزادی اور آزادی کے مزے کیسے لے رہے تھے؟ انہوں نے ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچایا اور بھارت کے تعاون سے تخریب کاری کی سرگرمیوں میں ملوث رہے۔

کابل پر افغان طالبان کے قبضے سے قبل کراچی اور پشاور میں کئی طالبان رہنماؤں سے ملاقاتیں رہیں۔ جیو کے دفتر کے قریب واقع ’’کھاؤ پیو ہوٹل‘‘ ، جو اب نہیں رہا ، پر موجودہ افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے چودہ پندرہ برس قبل ہونے والی والی ملاقات آج بھی یاد ہے۔ اُس ملاقات میں ان کے ساتھ بھارت سے تعلق رکھنے والا ایک القاعدہ کارکن موجود تھا جس نے پاکستان کے ایک غیر دیوبندی مذہبی جماعت پر سخت تبصرہ کیا، جس پر متقی صاحب نے کہا: “ہم اسطرح کی سوچ کے سخت خلاف ہیں یہ اسکا ذاتی تبصرہ ہے۔”
بعد ازاں پشاور کے مضافات میں قائم ایک بنگلے میں ایک طالبان رہنما سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں سے ایک ملاقات اُس وقت ہوئی جب بھارت نے کشمیر کی خودمختار حیثیت ختم کی تھی۔ میں نے اس رہنما سے پوچھا کہ افغان طالبان نے اس بھارتی اقدام پر کوئی بیان کیوں نہیں دیا؟ انہوں نے پرسکون لہجے میں جواب دیا:
“کیوں دیں؟ یہ پاکستان اور بھارت کا اندرونی مسئلہ ہے۔ ہماری پالیسی واضح ہے ،ہم بھارت سمیت تمام ممالک کے ساتھ اچھے دوطرفہ تعلقات چاہتے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ مقامی جہادیوں کو ہی اپنے طور پر حل کرنا چاہیے۔”
جب میں نے ان سے افغان طالبان کو حاصل پاکستانی حمایت کا حوالہ دیا تو انہوں نے دعویٰ کیا:
“ہم اپنی جنگ خود لڑ رہے ہیں۔”
یقیناً میں اس بات سے متفق نہیں تھا۔
کچھ عرصے بعد جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو اُس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ فیض حمید وہاں موجود تھے، دنیا کو یہ باور کراتے ہوئے کہ افغان طالبان کی جیت دراصل پاکستان کی جیت ہے۔ موجودہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی وہ ٹویٹ بھی سب کو یاد ہوگی جس میں انہوں نے “اللہ اکبر” کا نعرہ بلند کیا تھا۔ اُس وقت پاکستان میں بچیوں کو اسکول ڈراپ کرنے والے والدین بھی اس فتح پر خوشی منا رہے تھے، جبکہ افغانستان میں والدین غمگین تھے کہ اب ان کی بیٹیوں کی تعلیم رک جائے گی۔
پاکستان نے جو کچھ کیا، اپنے مفاد میں کیا۔ افغانستان واحد ملک تھا جس نے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی، اس کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ اور یہ مخالفت بعد میں بھی مختلف صورتوں میں سامنے آتی رہی۔ جب سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کیا تو پاکستان نے اپنی سلامتی کے پیشِ نظر اُس جنگ میں حصہ لیا۔ اُس وقت بھی خان عبدالولی خان جیسے دوراندیش رہنما اس کے خلاف تھے، لیکن اپنی بقا کے لیے پاکستان نے اس جنگ میں شمولیت اختیار کی، جس کا جہاد قرار دیا گیا وہ اس خطے کے لیے بالعموم اور افغانستان کے لیے بالخصوص فساد ثابت ہوا۔
اس کے بعد بھی پاکستان کی مداخلت جاری رہی، ہمیشہ اپنے مفاد کے لیے۔ کبھی حکمت یار کو ہٹایا، کبھی طالبان کو آگے لایا۔ پھر اپنے مفاد میں امریکا کا ساتھ دیا، ایسا ساتھ کہ افغان سفیر کی توہین جیسے واقعات بھی پیش آئے۔ بعد میں ایک بار پھر اپنے مفاد میں طالبان کا ساتھ دیا، اور حال ہی میں طالبان مخالف افغان سیاست دانوں کو اسلام آباد میں جمع کیا۔ یہ سب کچھ ہم نے اپنے ملکی مفاد میں کیا۔ اگر پاکستان کی جگہ کوئی اور ریاست بھی ہوتی تو شاید یہی کرتی۔
لیکن ہم بدھ مت کی ماننے والی ریاستوں ، برما، نیپال، سری لنکا ، سے تعلقات رکھتے ہیں، لادین روس اور چین کے ساتھ پکی دوستی ہے اور کئی جنگوں کے باوجود بھارت سے بھی سفارتی روابط قائم ہیں۔ مگر جب افغان وزیرِ خارجہ بھارت گئے تو ہم نے انہیں “غزوۂ ہند” کے طعنے دینے شروع کیے، حالانکہ طالبان نے کبھی ایسی بات نہیں کی۔
“غزوۂ ہند” کا تصور دراصل پاکستانی جہادی تنظیموں کی اختراع ہے، طالبان کی نہیں۔
پاکستان کو حامد کرزئی اور اشرف غنی کے ساتھ تعلق بنانے چاہئے تھے۔ مگر جب طالبان کا ساتھ دیا تو اب طالبان حکومت ہے اس کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے چاہیے۔ ریاستیں ریاستوں اور حکومتیں حکومتوں کے ساتھ تعلق قائم کرتی ہیں۔ ہم دوسرے ملکوں کے اپوزیشن اور پراکسیز سے۔ اس کا نقصان ہوا ہے اور ہوتا رہے گا۔























