کیا آئندہ وزیراعظم مریم نواز ہوں گی؟

تحریر: سہیل دانش
سیٹی بج گئی کہ بس بہت ہوگئی۔ لفظی چاند ماری روک دی جائے۔ پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے بڑوں کی بیٹھک میں دونوں جانب سے مصالحانہ رویہ اور سیز فائر کی کوشش رنگ لے آئی۔ کے پی میں علی امین گنڈاپور بوجھل قدموں سے تخت پشاور سے نیچے اُتر آئے ہیں۔ اُن کی کارکردگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جیسے اس صوبے کے لئے روشن باب کہا جائے۔ لیکن یہ لکھ لیں کہ اقتدار کی تبدیلی میں آپ کو ابھی کئی موڑ دیکھنے کو ملیں گے۔ دوسری طرف یہ خبر نہیں میرا تجزیہ یا گمان ہے کہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدہ جلیلہ پر نظر رکھنے والے بلاول بھٹو اور مریم نواز میں سے غالب امکان یہ ہے کہ آئندہ انتخابات سے قبل شہباز شریف خود اپنے عہدے سے دستبردار ہوکر اپنی بھتیجی کے لئے یہ عہدہ خالی کردیں گے تاکہ وہ موجودہ اسمبلی سے منتخب ہو ، کچھ عرصہ کے لئے اس عہدے پر رہ کر الیکشن میں اپنی جماعت کو لیڈ کریں تکنیکی طور پر مسلم لیگ(ن) میں مریم نواز ہی وہ چہرہ ہیں جو کراؤڈ اکٹھا کرسکتی ہیں نواز شریف کے بعد شاید وہ اپنی جماعت کی سب سے قد آور شخصیت ہیں لیکن اِس امکان کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ آئندہ انتخابات کب ہوتے ہیں کیا یہ نومبر 2027 سے قبل ہونگے یا 2029 میں۔ اس وقت تک عمران خان اپنی جماعت کے لیے مقبولیت کے ساتھ، قبولیت کا کتنا ماحول پیدا کرلیتے ہیں اگر معاملات میں کوئی چونکادینے والی تبدیلی نہیں ہوئی تو غالب امکان لگتا ہے مریم نواز کو انتخابات سے قبل ضرور وزیراعظم کا عہدہ دیا جائے گا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کیا منظر کی اِس تبدیلی کو اُن طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل ہوگی جن کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ ممکن ہے شہباز شریف اُس وقت بھی اُن کے فیوریٹ ہوں لیکن الیکشن میں یہ مسلم لیگ ن کے Survivalکا معاملہ ہوگا۔