غزہ امن منصوبے سے ٹرمپ کو نوبیل انعام کے حصول میں مدد نہیں ملے گی

غزہ امن منصوبے سے ٹرمپ کو نوبیل انعام کے حصول میں مدد نہیں ملے گی

نوبیل انسٹیٹیوٹ نے جمعرات کو یہ تصدیق کی، جبکہ انعام کا اعلان آج کیا جائے گا۔

کمیٹی کے مطابق نوبیل امن انعام (Nobel Peace Prize) کے حقدار کا فیصلہ اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے سے پہلے کر لیا گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے حالیہ دنوں میں اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے کے لیے خوب دباؤ ڈالا۔ وہ بارہا دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ وہ امن انعام کے حقدار ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں بیان دیا تھا کہ اگر انہیں یہ انعام نہ دیا گیا تو یہ ‘امریکہ کی توہین’ ہوگی

وبیل انسٹیٹیوٹ نے مزید کہا کہ غزہ امن منصوبے کا امن انعام کے انتخاب پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

نوبیل انسٹیٹیوٹ کے ترجمان ایرک آساہائم نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ نوبیل کمیٹی کا آخری اجلاس پیر کے روز ہوا، اور وہی فیصلہ کن تھا۔

نوبیل کمیٹی کے پانچ ارکان پر مشتمل پینل عمومی طور پر انعام کا فیصلہ کئی دن یا ہفتے پہلے کر لیتا ہے، اور اعلان سے قبل صرف آخری منظوری دی جاتی ہے۔

ٹرمپ کو نوبیل انعام نہیں ملے گا
تاہم نوبیل انعام کے ماہر اور مورخ آسلے سوین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو اس سال انعام نہیں ملے گا، میں اس بات پر سو فیصد پراعتماد ہوں

==========

Courtesy hum news urdu