سندھ اور پنجاب—ترقی کا موازنہ ،کون کہاں کھڑا ہے!!!

نعیم اختر
=====


پاکستان کے دو بڑے صوبے، پنجاب اور سندھ، وسائل، آبادی اور رقبے کے لحاظ سے مختلف ضرور ہیں مگر دونوں کا تعلق ایک ہی وفاق سے ہے۔ لیکن جب دونوں کے سالانہ بجٹ، کارکردگی اور عوامی فلاحی منصوبوں کا موازنہ کیا جائے تو ایک افسوسناک تضاد کھل کر سامنے آتا ہے — کہیں وسائل کم ہیں مگر ترقی زیادہ، اور کہیں وسائل وافر ہیں مگر کارکردگی صفر کے برابر۔
پنجاب کا سالانہ بجٹ 5,446 ارب روپے ہے، آبادی تقریباً 12 کروڑ 76 لاکھ اور رقبہ 79 ہزار 284 مربع میل پر محیط ہے۔
دوسری طرف سندھ کا بجٹ 3,056 ارب روپے ہے، آبادی 5 کروڑ 56 لاکھ اور رقبہ 54 ہزار 407 مربع میل۔
اگر آبادی کے لحاظ سے فی کس بجٹ کا حساب لگایا جائے تو پنجاب کے ہر شہری پر تقریباً 42,680 روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ سندھ کے ہر شہری پر 54,964 روپے۔
یعنی آبادی کے تناسب سے سندھ کا بجٹ پنجاب سے کہیں زیادہ ہے۔تاہم حیرت انگیز طور پر ترقیاتی کام، بنیادی سہولیات، شفافیت اور نظم و نسق کے لحاظ سے پنجاب کہیں آگے دکھائی دیتا ہے۔
پنجاب حکومت نے اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے سیلاب جیسی بڑی قدرتی آفت کا سامنا کیا، نہ بیرونی امداد کی بھیک مانگی، نہ وفاقی اداروں کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔
انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، آئی ٹی، ٹرانسپورٹ، ریسکیو سروسز اور عوامی فلاح کے تمام شعبوں میں وسائل کا درست استعمال پنجاب کی انتظامی صلاحیت اور وژن کو نمایاں کرتا ہے۔
آج پنجاب کے چھوٹے سے قصبے سے لے کر بڑے شہر تک، ترقی کے آثار زمین پر واضح نظر آ رہے ہیں۔
دوسری طرف سندھ کا منظر نامہ انتہائی مایوس کن ہے۔
سیلاب کی تباہ کاریاں پنجاب کے مقابلے میں کم ہونے کے باوجود سندھ حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز کھولنے اور بیرونی امداد کی اپیل کرنے میں تاخیر نہیں کی۔
سوال یہ ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے اربوں روپے سالانہ حاصل کرنے کے باوجود صوبہ سندھ ترقی کے بجائے زوال کی جانب کیوں بڑھ رہا ہے
سترہ برس سے بلا شرکتِ غیرے اقتدار میں رہنے والی پیپلز پارٹی سندھ کو پیرس یا لندن تو کیا، کراچی، حیدرآباد اور لاڑکانہ جیسے تاریخی شہروں میں بنیادی بلدیاتی سہولیات تک فراہم نہ کر سکی۔
آج کراچی، جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، کچرے، ٹوٹی سڑکوں، گندے پانی، بدبو دار نالوں اور کرپشن کی دلدل میں دھنس چکا ہے۔
صوبائی محکموں میں اقربا پروری، کمیشن خوری اور نااہلی کا راج ہے۔وزراء سے لے کر بیوروکریسی تک سب کے سب عوامی خدمت کے بجائے اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہیں۔
عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے فائلوں میں دفن ہیں اور ترقیاتی فنڈز مخصوص جیبوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔
اس کے برعکس پنجاب میں وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف نے قلیل عرصے میں ترقیاتی منصوبوں کا ایسا جال بچھایا ہے جس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔
سو سے زائد منصوبے زیرِ عمل ہیں، جن میں نصف سے زیادہ تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔
پنجاب حکومت نے نہ صرف گورننس کو مؤثر بنایا بلکہ ہر سطح پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام مضبوط کیا ہے۔
گاؤں ہو یا شہر، عوام کو دہلیز پر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
تاہم اس تمام تر بہتری کے باوجود یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دونوں صوبوں میں پولیس کے نظام اور امن و امان کے معاملات میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔جرائم کی شرح میں اضافہ، عوامی عدم تحفظ اور انصاف کے فقدان نے دونوں صوبوں کے لیے چیلنج پیدا کیا ہے۔
پنجاب نے جہاں شفاف گورننس کا ماڈل پیش کیا ہے، وہیں سندھ کو اب بھی اپنی سمت درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔آخر میں سوال یہ نہیں کہ کس صوبے کے پاس کتنا بجٹ ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون سا صوبہ اپنے عوام کے ساتھ مخلص ہے؟
پنجاب نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ نیت، دیانت اور وژن ہو تو کم وسائل میں بھی ترقی ممکن ہے۔جبکہ سندھ آج بھی اس المیے کا شکار ہے جہاں اقتدار کو عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفاد کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔