
سہیل دانش
=========
پاکستان کا سب سے بڑا شہر، ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی، ایک ایسا خطہ جو بحرِ عرب کے کنارے مچھیروں کی بستی سے سفر کرتا ہوا آج کروڑوں انسانوں کا مسکن بن چکا ہے۔ یہ شہر دن رات دھڑکن کی طرح چلتا ہے، کاروبار کرتا ہے، سب کو روزگار دیتا ہے، سب کو خوش آمدید کہتا ہے لیکن اس کی بدنصیبی یہ ہے کہ اسے کبھی اپنانے والا نہ ملا۔
آج کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ ٹرانسپورٹ ہے۔ وہ سفر جو آسان ہونا چاہیے تھا، کوفت میں بدل چکا ہے۔ لاکھوں افراد روزانہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے گھنٹوں سڑکوں پر ضائع کرتے ہیں۔ بسوں کے ٹوٹے پھوٹے ڈھانچے، اوور لوڈنگ، دھواں اگلتی ویگنیں، بے ہنگم ٹریفک اور تجاوزات اس شہر کے باسیوں کو اذیت میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔کراچی کی تاریخ گواہ ہے کہ اس شہر نے کیا کیا نہیں دیکھا۔ حکمرانوں کی مفاد پرستی، سیاستدانوں کی چالاکیاں، لسانی و نسلی فسادات، لوٹ مار، کرپشن،سب کچھ سہا لیکن زندہ رہا۔ اس شہر نے سب کو موقع دیا، سب کو گلے لگایا، ہر محنت کش کے لیے دروازے کھولے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ آج تک کسی نے اس شہر کو اس کا حق نہیں دیا۔
اگر ہم کراچی کی اہم شاہراہوں پر نظر ڈالیں تو شہر کے ڈھانچے اور مسائل دونوں کی جھلک ملتی ہے۔ لانڈھی، کورنگی اور ڈیفنس کو صدر سے ملانے والی شاہراہ سے لے کر شاہراہ فیصل، یونیورسٹی روڈ، شاہراہ پاکستان اور بندر روڈ تک،یہ سب راستے شہر کے دل و دماغ کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ سرجانی سے نارتھ ناظم آباد اور لسبیلہ سے گرو مندر تک آنے والی سڑکیں لاکھوں انسانوں کو روزانہ اٹھائے پھرتی ہیں۔ راشد منہاس روڈ، اسٹیڈیم روڈ، شاہراہ قائدین اور دیگر ذیلی شاہراہیں اس شہر کے پیچیدہ نیٹ ورک کو ظاہر کرتی ہیں۔ لیکن ان سڑکوں کی حالت زار اور ٹریفک کا بگاڑ ہر شہری کو روز اذیت میں ڈالتا ہے۔

سندھ حکومت نے یونیورسٹی روڈ پر ملیر کینٹ سے مزارِ قائد تک ریڈ لائن منصوبے کا آغاز کیا، لیکن چار سال گزر جانے کے باوجود صرف 20 فیصد کام مکمل ہوا ہے۔ عوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ترقیاتی کام جاری ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دیسی ٹھیکیداری نظام اور غیر شفاف طریقہ کار نے ہر منصوبے کو ادھورا چھوڑ دیا۔ بہتر ہوتا کہ اس جیسے بڑے منصوبے کسی بین الاقوامی ماہر کمپنی کے سپرد کیے جاتے تاکہ بروقت اور معیاری کام ممکن ہوتا۔
کراچی کی سڑکوں کے اطراف تجاوزات ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ اگر ان کو بلا امتیاز اور سختی سے ختم کر دیا جائے، کشادہ فٹ پاتھ بنا دیے جائیں اور سڑکوں کو کھلا چھوڑ دیا جائے تو ٹریفک کا دباو¿ واضح طور پر کم ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب حکومتی ادارے سفارش اور دباو¿ کے بغیر قانون پر عمل کریں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی نے اس شہر کا نظام تباہ کر رکھا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں سے لے کر بس ڈرائیوروں تک، ہر کوئی اپنی مرضی سے سڑک پر قابض نظر آتا ہے۔ اگر موٹروے پولیس کی طرز پر کراچی کی بڑی شاہراہوں پر اسپیشل ٹریفک فورس تعینات کر دی جائے، جو سختی سے قوانین نافذ کرے، تو نظم و ضبط پیدا ہو سکتا ہے۔ ان شاہراہوں پر پارکنگ کی مکمل ممانعت ہونی چاہیے تاکہ ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ نہ آئے۔
اصل ضرورت ایک جدید، آرام دہ اور ایئر کنڈیشنڈ بس سروس کی ہے جو ہر پندرہ منٹ کے وقفے سے اپنے مقررہ اسٹاپ پر دستیاب ہو۔ اگر یہ نظام بروقت اور منظم طریقے سے چلایا جائے تو لاکھوں افراد کو اذیت ناک سفروں سے نجات مل سکتی ہے۔ ساتھ ہی یہ منصوبہ توانائی کے ضیاع کو بھی روکے گا اور عوام کو باعزت سفر کی سہولت دے گا۔یہ سب صرف اسی وقت ممکن ہے جب حکومت سنجیدگی، شفافیت اور ایمانداری کے ساتھ اس منصوبے پر عمل کرے۔ مرکز کی خصوصی گرانٹ، بین الاقوامی کمپنیوں کی شمولیت اور پروفیشنل ماہرین کی نگرانی میں اگر کراچی کے ٹرانسپورٹ سسٹم کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا جائے تو چند سالوں میں اس کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔لیکن اگر سندھ حکومت نے حسبِ روایت اٹکل پچو تدابیر اور غیر معیاری ٹھیکیداری نظام پر انحصار کیا تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جائے گا۔ عوام ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر خوار ہوتے رہیں گے اور اس شہر کے نام پر دعائیں نہیں بلکہ بددعائیں دی جائیں گی۔
کراچی پاکستان کا دل ہے۔ اس کی سڑکیں، اس کی ٹرانسپورٹ اور اس کی زندگی پورے ملک کی معیشت اور ترقی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر اس شہر کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس کا بحران پورے ملک کا بحران بن جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کراچی کے دکھ کو سمجھا جائے اور اسے وہ سہولتیں دی جائیں جن کا یہ سب سے زیادہ حقدار ہے۔یہی اس شہر کا مقدمہ ہے۔ اگر اسے اپنایا جائے تو یہ ملک کو سنوار دے گا اور اگر پھر نظرانداز کیا گیا تو یہ ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جائے گا۔
کراچی کے ٹرانسپورٹ بحران کو صرف سڑکوں اور بسوں کا مسئلہ سمجھنا دراصل اس کی اصل سنگینی کو کم کر کے دیکھنا ہے۔ یہ معاملہ براہ راست عوامی وقار، معیشت کی روانی اور شہر کی روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ جب ایک مزدور گھنٹوں ٹریفک میں پھنسا رہتا ہے تو اس کی محنت کی قیمت کم ہو جاتی ہے۔ جب ایک طالب علم اپنے ادارے میں وقت پر نہیں پہنچ پاتا تو اس کا تعلیمی سفر متاثر ہوتا ہے۔ جب ایک مریض ایمبولینس میں سڑکوں کی رکاوٹوں کا شکار ہوتا ہے تو اس کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس لیے ٹرانسپورٹ کو سہولت نہیں بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھنا ہوگا۔دنیا کے بڑے شہروں میں ٹرانسپورٹ نظام کو صرف نقل و حرکت کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ترقی، خوشحالی اور شہری وقار کی علامت مانا جاتا ہے۔ دبئی، استنبول یا کوالالمپور جیسے شہروں نے اپنے عوام کو جدید ٹرانزٹ نظام دے کر معیشت میں نئی روح پھونکی اور شہری زندگی کو آسان بنایا۔ کراچی کو بھی اسی طرز پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ یہ شہر جس تیزی سے پھیل رہا ہے، اس کی موجودہ سڑکیں اور پرانا ڈھانچہ اس بوجھ کو سہنے کے قابل نہیں رہا۔ نئی سوچ، جدید منصوبہ بندی اور عالمی معیار کے مطابق نظام ہی اس شہر کو ٹریفک کے عذاب سے نکال سکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ ٹرانسپورٹ کے اس بحران کا حل وقتی مرہم پٹی سے نہیں نکلے گا۔ عارضی سڑک کشائی یا چند پرانی بسوں کا اضافہ مسئلے کو مزید الجھاتا ہے۔ ضرورت ایک جامع اور طویل المدتی منصوبے کی ہے جو صرف سڑکوں تک محدود نہ ہو بلکہ ریل، بس، میٹرو اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کر کے ایک مربوط نظام فراہم کرے۔ اگر کراچی کے فیصلے میرٹ، شفافیت اور عملی عزم پر مبنی ہوں تو یہ شہر نہ صرف اپنے باسیوں کو سکون دے سکتا ہے بلکہ پاکستان کے لیے ترقی کی نئی راہیں بھی کھول سکتا ہے۔























