
سہیل دانش
==============
میرے سامنے آزادی کے بعد سے اب تک ہر دہائی میں کراچی کی تصاویر کا ایک ڈھیر رکھا ہے۔ ان تصاویر کو دیکھ کر اس شہر کا ہر دور کا چہرہ صاف نظر آتا ہے۔ میں وہ دھندلی تصویر بھی دیکھ رہا ہوں جو 1887ء میں کراچی کے ساحلی علاقے کی ہے، جب اس کی آبادی صرف 14 ہزار تھی۔ آزادی کے وقت یہ آبادی ساڑھے تین لاکھ تھی اور آج یہ ساڑھے تین کروڑ سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ میرے سامنے وہ دو سو تصاویر بھی بکھری ہیں جو گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں سے فوٹوگرافرز نے محفوظ کی ہیں۔ ان سب میں ایک ہی منظر نمایاں ہے: خستہ حال سڑکوں پر بہتا ہوا گٹر کا پانی، جو پورے شہر کو کسی گندے نالے کا نقشہ بنا دیتا ہے۔ اگر آپ اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھنا چاہتے ہیں تو صرف یونیورسٹی روڈ پر قائداعظم کے مزار سے حسن اسکوائر، نیپا اور صفورا سے ہوتے ہوئے ملیر کینٹ تک کا سفر کر لیں۔ آپ کو اندازہ ہو گا کہ شہر کے منصوبہ سازوں نے اسے کس حال میں پہنچا دیا ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ کس ’’حکیم لقمان‘‘ نے حکمرانوں کو ریڈ لائن بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ نہ بجٹ، نہ تیکنیکی مہارت، نہ جدید ٹیکنالوجی، نہ ہی بروقت تکمیل کا کوئی نظام۔ ایک دیسی ٹھیکیداری انداز میں اتنا بڑا منصوبہ بنانے کا خواب کس نے دکھایا؟ جس نے برسوں سے اس شاہراہ کے اطراف میں رہنے والے تیس لاکھ افراد کی آمد و رفت کو عذاب بنا دیا۔ دنیا بھر میں ایسے منصوبوں کی تکمیل سے پہلے پلاننگ کی جاتی ہے، ٹائم لائن دی جاتی ہے، بجٹ مختص کیا جاتا ہے، متبادل راستے فراہم کیے جاتے ہیں اور اس بات کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ عوام کی روزمرہ زندگی مفلوج نہ ہو۔ یہ شاہراہ منصوبے کے آغاز سے چند سال پہلے ہی کروڑوں روپے سے تعمیر کی گئی تھی۔ یہ کشادہ اور کارآمد سڑک تھی، جسے مزید بہتر بنا کر اس پر ہر پندرہ منٹ بعد ریڈ اور گرین بسیں چلائی جاتیں تو یہ حکومت کا قابلِ فخر کارنامہ شمار ہوتا۔ لیکن اس کے برعکس حکومت نے ایک ایسا منصوبہ چھیڑ دیا جس نے شہریوں کو زندگی کا ہر دن عذاب بنا دیا۔ یاد رکھیے، ہر شخص اپنے عہد کا گواہ ہوتا ہے اور اپنے مشاہدات آنے والی نسلوں تک پہنچاتا ہے۔ یہی مشاہدات مستقبل کے لیے راہیں متعین کرتے ہیں۔ لیکن کراچی کا چہرہ دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے یہ بتدریج مسخ ہوتا جا رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور پھیلتے مسائل کے بوجھ تلے یہ شہر ہمیشہ ہنگاموں، ناانصافیوں، مافیاؤں کی اجارہ داری، کرپشن، ناقص منصوبہ بندی، پانی اور ٹرانسپورٹ کی قلت کا شکار رہا ہے۔صحت اور تعلیم کی سرکاری سطح پر نااہلی، امن و امان کی ابتری، سیاسی محاذ آرائیاں، قبضہ مافیا کی بڑھتی طاقت، کوڑے کے ڈھیر، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور تباہ حال ڈرینج سسٹم یہ سب مل کر ایک ہی کہانی سناتے ہیں: حکمرانوں کو اس شہر سے کوئی ہمدردی نہیں۔ میں نے پچاس برسوں سے کراچی کو بنتے بگڑتے، بستے اجڑتے، ہنستے تڑپتے دیکھا ہے۔ لیکن گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں اس کی تنزلی نے ایسا خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے کہ اب یہ شہر نہ Governable رہا ہے اور نہ Manageable۔ کراچی کی تباہ حالی کی سب سے بڑی وجہ بے تحاشا آبادی ہے۔ لاکھوں غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد نے اس شہر کے وسائل کو کھا لیا ہے۔ امن و امان کی صورتحال بگڑ چکی ہے۔ منشیات کا پھیلاؤ اور اسلحے کی فراوانی نے جرائم کو منظم صنعت میں بدل دیا ہے۔ ہر سیاسی جماعت نے اسلحے کو اپنی طاقت کی علامت سمجھا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکمرانوں نے کبھی کراچی کو اپنا شہر نہیں جانا۔ کراچی پورے ملک کو چلاتا ہے۔ یہ پاکستان کا معاشی دل ہے، لیکن اس دل کو ہمیشہ کمزور رکھنے کی پالیسی اپنائی گئی۔ یہ شہر اْس فلائٹ نمبر 404 کی طرح لگتا ہے جو برسوں پہلے گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے طوفان میں گم ہو گئی تھی اور آج تک اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ لوگ سوال کرتے ہیں: پرانا کراچی کہاں ہے؟ وہ شہر کہاں ہے جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا؟ کراچی کے شہری دیکھ رہے ہیں کہ جنہیں اس شہر کا نگہبان ہونا چاہیے تھا، وہ اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ بدعنوانی اور نااہلی کا نظام شہر کو اجاڑ رہا ہے۔ ہر ادارہ ایک دوسرے پر الزام دھر رہا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کی کشمکش میں یہ شہر مسلسل پس رہا ہے۔ بلدیاتی ادارے بے اختیار ہیں، ترقیاتی منصوبے کاغذوں میں دفن ہیں اور کرپشن کا راج ہے۔ یہ سوال آج ہر زبان پر ہے کہ کراچی کو کون بازیاب کرائے گا؟ کیا یہ شہر دوبارہ اپنی اصل شناخت حاصل کر پائے گا؟ کیا اس کے باسی پھر سکون، روزگار، انصاف اور بہتر مواقع کے خواب پورے ہوتے دیکھ سکیں گے؟ اس وقت تو یہ خواب محض خواب ہی لگتا ہے۔ کراچی کی بربادی کا قصہ ایک شہر کا قصہ نہیں، بلکہ پورے پاکستان کا آئینہ ہے۔ اگر اس ملک کا سب سے بڑا اور اہم شہر ناکارہ ہو جائے تو پھر ملک کے دیگر حصے کیسے ترقی کر سکتے ہیں؟ یہ حقیقت ہے کہ کراچی صرف کراچی کے باسیوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ جب تک اس شہر کو دل سے اپنایا نہیں جاتا، اس کے زخم بھرنے والے نہیں۔کراچی کے کروڑوں شہری آج بھی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ کوئی ایسا نظام آئے گا جو کرپشن اور نااہلی کو شکست دے سکے، جو شہر کی گلیوں سے گٹر کا پانی ختم کر سکے، جو سڑکوں کو سنوار سکے، جو ٹرانسپورٹ اور پانی کا مسئلہ حل کر سکے، اور جو اس شہر کو دوبارہ زندہ کر سکے۔ مگر فی الحال یہ سب ایک خواب ہی ہے۔ کراچی کبھی روشنیوں کا شہر تھا۔ یہاں کی گلیاں، بازار اور ساحل زندگی سے لبریز تھے۔ فن و ثقافت کی محفلیں، علم و ادب کی مجالس اور ہنرمندی کا کمال ہر سمت جھلکتا تھا۔ یہ شہر محض ایک بستی نہیں تھا بلکہ ابھرتے ہوئے پاکستان کی علامت تھا۔ مگر رفتہ رفتہ یہ روشنی بجھنے لگی۔ وہ کراچی جو ترقی کی نوید تھا، دھیرے دھیرے زوال کی کہانی بن گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ شہر خود ڈوبا یا اسے ڈبویا گیا؟ ایسا لگتا ہے جیسے کراچی کی ڈوبتی سانسوں کے ساتھ پاکستان کے امکانات بھی دبائے گئے، تاکہ یہ ملک اپنی اصل قوت اور وقار سے نہ ابھر سکے۔ آج کراچی کا اجڑا چہرہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب روشنیوں کے شہر کو اندھیروں میں دھکیل دیا جائے تو دراصل پورے ملک کو اندھیروں کے حوالے کر دیا جاتا ہے
26-09-2025























