کیا محسن نقوی کی برطرفی کا فیصلہ ہو گیا؟…….نجم سیٹھی بڑی خبر؟

کیا محسن نقوی کی برطرفی کا فیصلہ ہو گیا؟…….نجم سیٹھی بڑی رائے اور خبر؟

محسن نقوی: پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے خلاف اٹھنے والی تنقیدی آوازیں
پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) دنیا کے چند متحرک، پیچیدہ اور تنقید کا نشانہ بننے والے اداروں میں سے ایک ہے۔ اس کے سربراہ کا عہدہ ہمیشہ سے ہی انتہائی دباؤ، توقعات اور سیاسی مباحثوں کا مرکز رہا ہے۔ محسن نقوی کے چیئرمین PCB بننے کے بعد سے، ان کی کارکردگی، انتظامی فیصلوں اور حکمت عملیوں پر کھلے عام تنقید کی جا رہی ہے۔ یہ مضمون محسن نقوی کے دور میں PCB کے خلاف اٹھنے والی اہم تنقیدوں کا یکجا جائزہ پیش کرتا ہے۔

1۔ تقرری کے عمل پر سوالات: سیاسی اثر و رسوخ کا شائبہ
محسن نقوی کی تقرری کے ساتھ ہی سب سے پہلی اور بنیادی تنقید کا محور یہ تھا کہ ان کا تعلق براہ راست یا بالواسطہ سیاسی حلقوں سے ہے۔ تنقید نگاروں کا ماننا ہے کہ PCB کی سربراہی کے لیے تقرریاں میرٹ اور کرکٹ کی انتظامیہ میں مہارت کی بجائے سیاسی وابستگی کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔

قابلِ اعتراض عمل: یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ محسن نقوی کی تقرری میں شفافیت کا فقدان تھا۔ ان کے پاس اس سے قبل کرکٹ کے انتظامی معاملات کا وسیع تجربہ نہ ہونا ایک بڑا نقطہ اعتراض تھا۔

سیاسی کنکشن: میڈیا رپورٹس اور تجزیہ نگاروں نے بارہا ان کے موجودہ سیاسی حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ تنقید کا مرکز یہ ہے کہ ایسی تقرریاں ادارے کو مزید سیاست زدہ کرتی ہیں اور پیشہ ورانہ انتظامیہ کے فروغ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

2۔ قومی سلیکشن کمیٹی اور ٹیم کے انتخاب میں مداخلت کا الزام
کرکٹ میں سب سے نازک معاملہ پلیئرز کے انتخاب کا ہوتا ہے۔ محسن نقوی کے دور میں، قومی سلیکشن کمیٹی کے فیصلوں پر چیئرمین کے غیر ضروری اثر و رسوخ کے شدید الزامات لگے ہیں۔

سلیکٹرز کے اختیارات سلب ہونا: اطلاعات ہیں کہ کئی اہم میچوں کے لیے پلےنگ الیون کے حتمی فیصلے سلیکشن کمیٹی کی اجتماعی سوچ کی بجائے چند افراد کی مرضی سے ہوئے۔ اس سے نہ صرف سلیکٹرز کی خودمختاری مجروح ہوئی بلکہ کھلاڑیوں کے حوصلے پر بھا منفی اثر پڑا۔

اقربا پروری اور علاقائی تعصب کے شبہات: بعض اوقات ایسے کھلاڑیوں کو موقع دیے جانے پر تنقید ہوئی جن کا تعلق چیئرمین کے علاقائی یا ذاتی حلقوں سے بتایا جاتا تھا۔ یہ بات میرٹ سسٹم کے خلاف سمجھی گئی اور عوامی حلقوں میں سوالات کھڑے ہوئے۔

کیپٹنسی کے فیصلوں میں افراتفری: ان کے دور میں ٹیسٹ اور ایک روزہ ٹیموں کی قیادت کے حوالے سے فیصلوں میں تسلسل کی کمی دیکھنے میں آئی۔ کپتانوں کی تبدیلی اور ان کے اختیارات کے حوالے سے ہونے والے بیانئے اکثر تضاد کا شکار رہے، جس سے ٹیم کے اندر عدم استحکام پیدا ہوا