
سہیل دانش
محترمہ منیزہ بصیر کہیں دُور دوسری دنیا کی طرف چلی گئیں، بیماری سے لڑتے لڑتے وہ تھک گئیں۔ ایک بھرپور اور شاندار زندگی یوں تمام ہوئی، میں اُنہیں اُس وقت سے جانتا ہوں جب اُن کی شخصیت چمک دمک نفاست، رکھ رکھاؤ اور جادوئی حسن سے آراستہ تھی وہ زندگی میں نہ محتاط تھیں نہ بے باک شہرت سے لے کر خدمت تک کا یہ سفر تمام ہوا۔ گذشتہ کئی دہائیوں میں اُن کا ایک وسیع سماجی اور ثقافتی حلقہ تھا۔ اُن میں زندگی کے ہر طبقہ فکر کے خواتین و حضرات شامل تھے اُن کا تعارف صرف یہ نہ تھا کہ وہ بین الاقوامی شہرت یافتہ نادیہ حسن اور زوہیب حسن کی والدہ تھیں بلکہ وہ اُن کی مینٹور بھی تھیں اِن دونوں نے اپنی آواز، پوپ میوزک اور گائیکی میں جو مقام حاصل کیا۔ اُس منزل کی ہر سیڑھی پر اُنہوں نے اپنے بچوں کا ہاتھ تھامے رکھا اُنہیں دوسروں کی مدد کرنے جیسے مقصدِ زندگی سے عشق تھا، نازیہ کا گائیکی کا سفر پی ٹی وی میں سہیل رانا کے پروگرام سے اُس وقت سے شروع ہوا جب وہ صرف 12 سال کی تھیں پھر بھارتی فلم “قربانی” میں آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے” جیسا ریکارڈ ساز گانا گاکر اُنہوں نے پوری دنیا میں اپنی چمکتی دمکتی پہچان بنالی نازیہ اور زوہیب نے پوپ میوزک کو ایک نئی جہت رنگ اور اسٹائل دیا۔ اِن کی اِس کاوش اور شہرت کے پیچھے منیزہ بصیر کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کا اہم کردار تھا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اپنی بیٹی کی ازدواجی زندگی کی مشکلات، جان لیوا بیماری کے تکلیف دہ دِن اور پھر 2002 میں اس دنیا سے رخصتی نے منیزہ صاحبہ کو غموں میں ڈبودیا اُن کے شوہر بصیر حسن ایک صاحب ثروت شخص تھے۔ 2020 میں وہ بھی اس دنیا کو خیرباد کہہ گئے تھے۔ مینزہ خود ایک باذوق خاتون تھیں۔ لوگوں سے میل ملاپ اور Travelling اُن کا شوق تھا وہ جس سے بھی ملتیں۔ اپنی دلکش شخصیت کی ایک چھاپ اور تاثر ضرور چھوڑ جاتیں۔ کافی عرصے سے بیماری نے اُنہیں اپنے حصار میں لیا ہوا تھا۔ اور بالآخر وہ تھک گئیں۔ اپنی زندگی کے بے شمار خوشگوار یادیں سمیٹے انہوں نے اپنی آنکھیں ہمیشہ کے لیے موندلیں۔ دُعا ہے اللہ تعالیٰ مرحومہ پر اپنا رحم و کرم فرمائے۔ (آمین)























