“میری بہوئیں”: صرف ایک ڈرامہ نہیں، ایک سمفنی ہے جذبوں کی
ڈرامے کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک ایسے گھرانے کی تصویر ابھرتی ہے جہاں رشتوں کی بندشیں، ان کی کشمکش، محبت کی شیریںیاں اور نفرت کی کڑواہٹیں ایک دوسے میں گڈمڈ ہیں۔ “میری بہوئیں” کا عنوان ہی اپنے اندر ایک کہانی سموئے ہوئے ہے، اور یہی کیفیت اس کے اصل soundtrack کی بھی ہے۔ یہ محض ایک گانا نہیں ہے؛ یہ پورے ڈرامے کا نچوڑ، اس کی روح اور اس کے ہر کردار کے دل کی دھڑکن ہے۔ یہ وہ شاعری ہے جو ہر سین، ہر آنسو، اور ہر مسکان کی ترجمانی کرے گی۔
ابتدائی معلومات اور افواہوں کے مطابق، یہ soundtrack موسیقی کے شعبے کے چند نامور ترین اور باکمال ہستیوں کا مرقع ہے۔ آئیے، اس کے ہر پہلو کو باریکی سے دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔
شاعری: دل کے وہ زخم جنہیں الفاظ نے لباس پہنایا ہے
soundtrack کی بنیاد، اس کا جوہر، اس کی شاعری ہے۔ یہ کام سونپا گیا ہے شاعری کے اس عہد ساز شہسوار کو جس کے بول سن کر سامعین نے کہا تھا کہ “شاعری مر گئی تھی، مگر اس نے اسے دوبارہ زندہ کر دیا”। جی ہاں، بات ہو رہی ہے امجد اسلام امجد صاحب کی۔ ان کا قلم ہمیشہ سے ہی جذبات کی گہرائی اور انسانی نفسیات کی باریکیوں کو چھو کر نکلا ہے۔ “میری بہوئیں” جیسے ڈرامے کے لیے ان کا انتخاب ایک خواب کی تعبیر سے کم نہیں۔
امجد اسلام امجد کے بول محض ہم آہنگ الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتے، وہ ایک پورا فلسفہ، ایک مکمل کہانی ہوتے ہیں۔ توقع ہے کہ اس نغمے میں بھی وہ رشتوں کی نزاکت، بہوؤں کے دکھ، ساس کے حوالے سے معاشرتی دباؤ، اور گھر کی چار دیواری کے اندر جنم لینے والے خوشگوار اور ناخوشگوار جذبات کو اس طرح بیان کریں گے کہ ہر سامع اپنا اپنا درد محسوس کرے گا۔
کچھ ممکنہ اشعار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے:
“یہ کیسا دائرہ ہے، یہ کیسا بندھن ہے
ہر ایک رشتہ اک امتحان سا ہے
چہرے پہ مسکراہٹ، دل میں اک ٹیس سی
یہی تو ہے میری بہوؤں کی پہچان سا ہے”

یا پھر محبت اور کشمکش کے درمیان جھولتا ہوا کوئی شعر:
“کبھی چپکیاں ہیں گھر کی دیواروں پہ سایہ سا
کبھی چुभتی ہے ہر نظر ایک خنجر سا
مگر پھر بھی ہے یہی گھر سب سے انمولا
یہیں تو بکھری ہیں ہماری سب کہانیاں”
یقیناً، امجد اسلام امجد کا قلم اس سے کہیں بلند اور گہرا ہوگا، جو نہ صرف ڈرامے کے مرکزی خیال کو سمیٹے گا بلکہ ہر مشتعل، ہر مجبور، اور ہر امیدوار کردار کی انفرادی کہانی بھی سنائے گا۔
آواز: وہ صدا جو روح میں اتر جائے
شاعری اگر جسم ہے تو اس میں جان پھونکنے والی آواز اس کی روح ہے۔ “میری بہوئیں” کے soundtrack کو اپنی آواز کا تحفہ دے رہے ہیں وہ فنکار جس کی ہر غم آلود سرگوشی دلوں کو چھو لیتی ہے، اور ہی پرجوش نغمہ روح کو جھنجوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ یہ ہیں روحیل ہیث۔
===============

============
روحیل ہیث کی آواز میں ایک انوکھا کڑواہٹ اور میٹھاپ کا امتزاج ہے۔ وہ جب بھی کسی ڈرامے کے لیے گاتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ڈرامے کے مرکزی کرداروں کے جذبات کو اپنی آواز میں سمو کر پیش کر رہے ہیں۔ ان کی گائیکی میں درد ہے، التجا ہے، صبر ہے، اور کبھی کبھار ایک عزم بھی ہے۔ “میری بہوئیں” کے جذباتی سفر کو بیان کرنے کے لیے ان سے بہتر انتخاب شاید ہی کوئی اور ہو سکتا ہے۔
جب روحیل ہیث، امجد اسلام امجد کے اشعار کو اپنی مدھم اور پراثر آواز میں گائیں گے، تو یقیناً ایک ایسا طلسم جنم لے گا جو نہ صرف ڈرامے کے دوران بلکہ اس کے بعد بھی برسوں تک سنا جاتا رہے گا۔ ان کی آواز میں گیت کا ہر لفظ، ڈرامے کے ہر منظر کو سامع کے ذہن میں زندہ کر دے گا۔
موسیقی: جذبوں کی زبان
شاعری اور آواز کے بعد تیسرا اہم ستون ہے موسیقی۔ اس ذمہ داری کو نبھا رہے ہیں شANI عارف۔ شANI عارف جدید اور روایتی دونوں طرح کی موسیقی پر یکساں عبور رکھتے ہیں۔ ان کی دھنیں ہمیشہ کہانی کے جذبات کے عین مطابق ہوتی ہیں۔
“میری بہوئیں” کے soundtrack میں ہم ان سے ایک ایسی دھن کی توقع کر سکتے ہیں جو شروعات میں مدھم اور پراسرار ہو، جیسے گھر کے رازوں کی طرح، اور پھر آہستہ آہستہ کھل کر ایک وسیع جذباتی دائرے میں پھیل جائے۔ ہلکی سی شرابیں، پیانو کے مدھم سر، اور شاید روایتی سازوں کا استعمال اس دھن کو ایک الگ ہی وقار عطا کرے گا۔
شANI عارف کی موسیقی صرف کانوں کو نہیں بھائے گی، بلکہ وہ سینے سے لگ کر جذبات کی وہ لہر پیدا کرے گی جو سیدھا دل سے ہوتی ہوئی روح تک پہنچے گی۔ وہ روحیل ہیث کی آواز اور امجد اسلام امجد کے بول کے درمیان ایک مضبوط اور دلکش پل کا کام کریں گے۔
کل وقتی تاثر: ایک ایسا نغمہ جو ڈرامے کی پہچان بن جائے
جب یہ تینوں عظیم ہستیاں – امجد اسلام امجد کی شاعری، روحیل ہیث کی آواز، اور شANI عارف کی موسیقی – ایک ہوتی ہیں، تو نتیجہ ایک شاہکار کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ “میری بہوئیں” کا soundtrack ایک ایسا نغمہ بن کر ابھرے گا جو:

ڈرامے کا تعارف ہوگا: ہر قسط کے شروع میں جب یہ نغمہ بجے گا، ناظرین فوراً ہی ڈرامے کے جذباتی لہجے میں ڈوب جائیں گے۔
کرداروں کی آواز بنے گا: یہ گیت ڈرامے کے ہر کردار – چاہے وہ کوئی بہو ہو، ساس ہو یا بیٹا – کے جذبات کی ترجمانی کرے گا۔ ناظرین خود کو اس نغمے کے ذریعے کرداروں سے جڑا ہوا محسوس کریں گے۔


ناظرین کے دلوں کی دھڑکن بنے گا: یہ وہ گانا ہوگا جو ڈرامہ ختم ہونے کے بعد بھی لوگوں کی زبانیں پر رہے گا۔ یہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرے گا، اور لوگ اسے اپنے جذبات کا اظہار سمجھ کر بار بار سنیں گے۔
وقت کی آزمائش پر پورا اترے گا: جس طرح “من آئے نا” کا “دل ہی تو ہے”، “ہم سفر” کا “ہم سفر ہوں تمھارے”، یا “زندگی گلزار ہے” کا “تو ہی تو ہے” آج بھی زندہ ہے، اسی طرح “میری بہوئیں” کا یہ نغمہ بھی پاکستانی ڈرامہ نگاری کی تاریخ میں ایک سنہری حرف بن کر روشن ہوگا۔























