
اعتصام الحق
پاکستان اور چین نے حال ہی میں بیجنگ میں چودہویں جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کے اجلاس میں پاک چین اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کا باضابطہ آغاز کیا۔ اس موقع پر کئی اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے جنہیں ایک نئے ترقیاتی باب کی شروعات قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مرحلے کا بنیادی مقصد نوجوانوں کی شمولیت، جدید ٹیکنالوجی کا فروغ اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔؎
سی پیک کا پہلا مرحلہ زیادہ تر توانائی منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے پر مرکوز رہا۔ اس کے نتیجے میں بجلی کی قلت پر قابو پانے اور شاہراہوں و بندرگاہوں کی تعمیر میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ تاہم دوسرا مرحلہ بنیادی ڈھانچے سے آگے بڑھتے ہوئے انسانی وسائل کی ترقی اور معاشرتی پہلوؤں پر موکوز ہے۔ یہ مرحلہ پاکستان کے پانچ “ایز ” کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جس میں ایکسپورٹ ،ای پاکستان ،انرجی ،انوائرمنٹ اور ایکوٹی شامل ہیں۔ اسی کے ساتھ پانچ نئی راہداریوں کا تصور پیش کیا گیا ہے جن میں ترقی، جدت، سبز توانائی، روزگار اور علاقائی روابط شامل ہیں ۔
نئے معاہدوں کے مطابق دونوں ممالک ڈیجیٹل شعبے میں قریبی تعاون کریں گے ۔فائیو جی ، مصنوعی ذہانت اور فائبر آپٹک نیٹ ورک جیسے منصوبے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا تاکہ برآمدات بڑھائی جا سکیں۔
توانائی کے شعبے میں پاکستان نے 2030 تک 60 فیصد بجلی صاف ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اسی مقصد کے لیے سبز توانائی کے منصوبے، بشمول شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے اقدامات، فیز ٹو کا اہم حصہ ہیں۔ زراعت کے میدان میں بھی اسمارٹ ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے طریقوں کے ذریعے پیداوار بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
پاکستانی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے حال ہی میں چین پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو آسیان ممالک کی طرز پر منڈیوں تک ترجیحی رسائی فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی چین کو برآمدات محض 3 ارب ڈالر ہیں جبکہ چین کی درآمدات کا حجم 2 کھرب ڈالر تک پہنچتا ہے۔ اس فرق کو کم کرنے کے لیے تجارتی تعلقات میں توازن ضروری ہے۔
رابطے کے منصوبوں میں ریلوے کی مین لائن 1 (ML-1) کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور قراقرم ہائی وے کی ازسرنو تعمیر پر زور دیا گیا تاکہ تجارتی روابط مزید مستحکم ہوں۔ یہ منصوبے خطے میں پاکستان کے جغرافیائی فوائد کو بہتر طور پر استعمال کرنے میں مدد کریں گے۔
سی پیک فیز ٹو کا سب سے اہم پہلو نوجوانوں کی ترقی ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک نے 10 ہزار پی ایچ ڈی اسکالرشپس دینے اور پاکستانی طلبہ کے لیے چینی اداروں میں انٹرن شپس اور ووکیشنل ٹریننگ کے مواقع فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ چین کے کامیاب انسداد غربت ماڈل کو پاکستان کے پسماندہ اضلاع میں آزمایا جائے تاکہ وہاں کے لوگ پائیدار ترقی سے مستفید ہو سکیں۔
پہلے مرحلے میں گوادر کو ایک سمندری دروازے کے طور پر ترقی دی گئی۔ بندرگاہ، ہوائی اڈہ اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تکمیل کے بعد اب دوسرا مرحلہ گوادر کو ایک علاقائی لاجسٹک حب بنانے پر توجہ دے گا۔ اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کو تجارتی فوائد حاصل ہوں گے اور گوادر بین الاقوامی تجارت میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔
پاکستانی وزیر احسن اقبال نےسی پیک کے دوسرے مرحلے کو “صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی اور مشترکہ خوشحالی کی راہداری” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب سرکاری منصوبوں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے درمیان کاروباری شراکت داری پر بھی زور دیا جائے گا تاکہ معاشی ترقی زیادہ وسیع اور پائیدار ہو۔
دونوں ممالک نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ منصوبوں کی کامیابی کے لیے چین کے کارکنوں اور انجینئرز کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جو معاشی اور سماجی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔
سی پیک کا دوسرا مرحلہ محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک نئے وژن کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ وژن پاکستان کے نوجوانوں کو جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، سبز توانائی کے ذریعے ماحول دوست معیشت قائم کرنے، اور تجارتی روابط کو مضبوط بنانے پر مبنی ہے۔ اگر ان منصوبوں پر بروقت اور شفاف عملدرآمد کیا گیا تو پاکستان نہ صرف اپنی معیشت کو مستحکم کر سکتا ہے بلکہ پورے خطے میں ترقی اور تعاون کا محور بھی بن سکتا ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا دوسرا مرحلہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع ہے جو آنے والے برسوں میں ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔























