مقبرہ شہنشاہ جہانگیر شاھدرہ لاھور مغلیہ فن تعمیر کا ایک شاہکار

تحریر ۔۔شہزاد بھٹہ ۔۔۔۔۔
راقم شہزاد بھٹہ، عابد ھاشمی اور چیرمین فاروق نے 30 ستمبر 2016 میں شہنشاہ ہند جہانگیر کے مقبرہ واقع شاہدرہ لاھور کا وزٹ کیا مغلیہ فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار جو صدیوں کے بعد بھی اپنے جاہ وجلال کے ساتھ قائم و دائم ھے
یہ برصغیر پاک وہند کے موسمی اعتبار اور مسلم فن تعمیر کا ایک انمول نمونہ ھے چاروں طرف سے خوبصورت ، پھل دار اور سایہ دار درختوں سے گھیری شاندار عمارت جو اج بھی ایک عجیب خوب اور منظر پیش کر رھی ھے
اگر یہ خوبصورت تاریخی شاہکار کسی اور ملک میں ھوتا وہ ملک اس تاریخی عمارت سے ماھانہ لاکھوں کروڑوں کما رھا ھوتا اور اپنی عوام کو زبردست تفریح فراہم کرتا
مگر کیا کریں ھمارے سسٹم نے اس طرح کی کئی تاریخی اور خوبصورت ورثہ کو تباہ و برباد کر رکھا ھے جبکہ دیگر ممالک اسں قسم تاریخی ورثہ سے اپنے بجٹ بنا رھے ھیں
بھارت ھمارے ساتھ ازاد ھوا تھا وھاں بھی مسلم و مغلیہ دور کی سینکڑوں خوبصورت اور تاریخی مقامات/ قلعے موجود ھے بھارتی حکومت نے ان تاریخی مقامات کو مختلف نجی کمپنیوں کے حوالے کر رکھا جو ان کی دیکھ بھال کرتی ہیں بھارتی حکومت ھر سال کڑوروں روپے زرمبادلہ کماتا ھے اور یہ انٹرنشینل کمپنیاں ان کی دیکھ بھال کی ذمہ دار اور لاکھوں سیاح بھارت اتے ھیں اور ر ان تاریخی مقامات کو دیکھتے ھیں
دنیا کے تقربیا ھر ملک نے اپنی تاریخ کو سنبھال رکھا ھے اور سیاحت سے کروڑوں روپے کماتے ھیں مگر ھم نے اپنی تاریخ کو تباہ کر رکھا ھے
حالانکہ پاکستان ایک خوش قسمت ملک ھے جو دنیا کے چار بڑے مذاہب کی جنم بھومی ھے اور ان کے مقدس مقامات ھیں جن کی زیارت کرنا ان کی مذہبی رسوم کا حصہ ھے سکھ مت۔ بدھ مت ہندو مت اور جین مت اگر ان چاروں مذاہب کے کروڑوں ماننے والوں کو مواقع فراھم کیے جاہیں تو ھم صرف سیاحت سے اربوں روپے کما سکتے ھیں ۔۔
ھمیں کسی عالمی بنک ۔ائی ایم ایف چین جاپان سعودی عرب کے سامنے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں رھے گیئں۔۔۔
تحریر شہزاد بھٹہ ۔۔2016….