جب کوئی ڈرامہ انہی بکھرتے رشتوں کی داستان، ان کی پیچیدگیوں، ان کی تقسیم کے دکھ، اور پھر ازسرِنو تعمیر کی امید کو اس طرح سامنے لائے کہ عین حقیقت کا گمان ہو، تو وہ نہ صرف عوام بلکہ ناقدین کی توجہ کا مرکز بھی بن جاتا ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں ہم ٹی کے معرکتہ الآرا ڈرامے “جماع تقسیم” کی، جس نے نہ صرف پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی بلکہ سماج کے ایک ایسے نازک پہلو کو چھوا جسے عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
خاندان کا المیہ: وراثت کی جنگ
“جماع تقسیم” دراصل ایک ایسے خاندان کی کہانی ہے جو وراثت کی تقسیم کے نام پر بکھر جاتا ہے۔ ڈرامے کا مرکزی خیال جائیداد اور ورثے کی اس لالچی جنگ کو عیاں کرنا ہے جو خون کے رشتوں کو بھی بیڑی غرق کر دیتی ہے۔ یہ وہ المیہ ہے جو ہمارے معاشرے میں ہر دوسرے گھر میں دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں ماں باپ کی زندگی میں ہی ان کی جائیداد پر قبضے کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے، جہاں بہن بھائی محض اس لیے ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں کہ کسی کو زیادہ حصہ مل گیا اور کسی کو کم۔
ڈرامے کا مرکزی کردار، شازیہ (جو عظمیٰ خان نے نبھایا)، اسی وراثتی جنگ کا شکار ہے۔ وہ ایک ایسی بیٹی ہے جو اپنے والد کی زندگی بھر ان کی خدمت کرتی ہے، لیکن جب والد کا انتقال ہوتا ہے تو اسے اس کی محنت کا صلہ بجائے احسان کے محرومی اور حق تلفی کی صورت میں ملتا ہے۔ اس کے بھائی، جو معاشرے میں مرد ہونے کے ناتے اپنے آپ کو حق بہ جانے والا سمجھتے ہیں، شازیہ کے حصے کی جائیداد پر بھی قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔ یہیں سے شروع ہوتی ہے شازیہ کی اپنے حقوق کی جنگ، جو محض زمین یا جائیداد کی جنگ نہیں بلکہ اس انصاف کی جنگ ہے جو اسے معاشرے اور اس کے اپنے خون سے نہیں مل رہا۔
کرداروں کی نفسیاتی گہرائی: حقیقت کا عکس
“جماع تقسیم” کی سب سے بڑی طاقت اس کے کرداروں کی نفسیاتی گہرائی ہے۔ یہ ڈراما محض ایک کہانی سنانے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ ہر کردار کے ذہن کے دریچے کھولتا چلا جاتا ہے۔
شازیہ (عظمیٰ خان): شازیہ صرف ایک مظلوم ہیروئن نہیں ہے۔ وہ غصہ بھی ہے، کمزور بھی ہے، ٹوٹتی بھی ہے اور اٹھتی بھی ہے۔ اس کے اندر کی جدوجہد، اس کی بے چینی، اور اس کا عزم اس کردار کو حقیقی بنا دیتا ہے۔ عظمیٰ خان نے اپنے جذباتی ایکٹنگ کے ذریعے شازیہ کے درد، اس کی بے بسی اور اس کی لگن کو اس قدر believable بنا دیا کہ ناظر خود کو اس کے ساتھ کھڑا محسوس کرتا ہے۔
سلیم (جمیل خان): شازیہ کا بڑا بھائی، سلیم، وہ کردار ہے جو روایتی طور پر “خاندان کا سربراہ” بننے کا دعویدار ہے لیکن درحقیقت وہی سب سے بڑا لالچی اور مفاد پرست ہے۔ جمیل خان نے اس کردار میں ایسی جان ڈالی کہ ناظرین کا غصہ اس پر برس پڑا۔ سلیم کی آنکھوں میں چمکتی ہوئی لالچ، اس کی بہن کے ساتھ کیے گئے رویے، اور اپنے حق کو سب سے بڑا سمجھنے کا زعم دراصل ہمارے معاشرے کے ان لاکھوں سلیموں کا آئینہ ہے جو خواتین کو ان کے جائز حقوق دینے سے انکاری ہیں۔
نعمان (عبداللہ خالد): اگر سلیم ایک کھلا ہوا villain ہے تو نعمان وہ بھائی ہے جو اندر سے کمزور ہے۔ وہ جانتا ہے کہ شازیہ کا حق مارا جا رہا ہے لیکن وہ اپنے بڑے بھائی کے غلبے یا خاندانی دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔ یہ کردار ان لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے جو نیکی اور برائی کے درمیان کشمکش کا شکار ہیں لیکن خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، اور یہی خاموشی دراصل ظلم کو فروغ دیتی ہے۔
=================

سکینہ (نayyra احمد): شازیہ کی بھابھی کا کردار بھی اہم ہے جو ایک طرف تو اپنے شوہر کی لالچ میں اس کا ساتھ دیتی ہے، لیکن دوسری طرف اس کے اندر کی عورت کبھی کبھار شازیہ کے درد کو بھی محسوس کرتی ہے۔ یہ تضاد اس کردار کو بھی حقیقی بناتا ہے۔
معاشرتی شعور: خواتین کے وراثتی حقوق کا احیا
“جماع تقسیم” کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ صرف ایک ڈرامہ نہیں رہا بلکہ ایک سماجی تحریک بن گیا۔ پاکستانی معاشرے میں خواتین کو ان کے وراثتی حقوق سے محروم رکھنا ایک عام سی بات ہے۔ کئی خواتین یا تو معاشی مجبوریوں کے باعث، یا پھر خاندانی دباؤ کے تحت، یا پھر قانونی پیچیدگیوں کے ڈر سے اپنا حق مانگنے سے گریز کرتی ہیں۔ یہ ڈرامہ دراصل انہی تمام خواتین کی آواز بنا۔
اس ڈرامے نے نہ صرف خواتین کو ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی ترغیب دی بلکہ یہ بھی بتایا کہ اسلام میں عورت کا وراثت میں حصہ اس کا شرعی اور قانونی حق ہے اور اسے چھیننا ناانصافی ہے۔ ڈرامے نے اس بات پر زور دیا کہ لالچ انسان کو اس قدر اندھا کر سکتا ہے کہ وہ اپنے ہی خون کے رشتوں کو بھول جاتا ہے۔ شازیہ کا کردار اس بات کی علامت ہے کہ اگر عورت میں ہمت اور عزم ہو تو وہ ہر طاقت سے ٹکرا کر اپنا حق حاصل کر سکتی ہے۔
ہدایت کاری اور اسکرین پلے: کہانی کو جادو بنانا
کسی بھی ڈرامے کی کامیابی میں ہدایت کار اور مصنف کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتا ہے۔ “جماع تقسیم” کی ہدایت کاری سید عثمان مختار نے کی جنہوں نے نہ صرف کہانی کو خوبصورتی سے پرویا بلکہ ہر منظر کو اس طرح پیش کیا کہ وہ ناظر کے دل و دماغ پر نقش ہو جائے۔ ان کی ہدایت کاری میں واقعیت تھی، جذبات تھے، اور وہ تڑپ تھی جو پورے ڈرامے میں ایک لڑی کی مانند پروئی گئی تھی۔\
============

==================
اسی طرح مصنفہ ثانیہ جبار کا اسکرین پلے بے مثال تھا۔ انہوں نے محض ڈائیلاگ نہیں لکھے بلکہ ہر کردار کی سوچ، اس کے محرکات، اور اس کی نفسیات کو الفاظ کا لباس پہنایا۔ ڈائیلاگ اس قدر طاقتور تھے کہ وہ ناظرین کے دلوں میں اتر جاتے تھے۔ مثال کے طور پر شازیہ کے وہ ڈائیلاگ جہاں وہ کہتی ہے، “یہ میرا حق ہے، اور میں اس کے لیے لڑوں گی،” یا پھر وہ منظر جہاں وہ اپنے بھائیوں کے سامنے کھڑی ہو کر کہتی ہے، “تم نے مجھے صرف جائیداد نہیں دی، تم نے مجھے میری شنبح چھین لی ہے،” ایسے جملے تھے جنہوں نے ڈرامے کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا۔
================


نتیجہ: ایک سبق آموز داستان
“جماع تقسیم” دراصل ایک ایسی داستان ہے جو ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مادی دولت اور جائیداد کی محبت انسان کو کس قدر پست بنا سکتی ہے۔ یہ ڈرامہ رشتوں کی اہمیت، انسانی تعلقات کی نزاکت، اور انصاف کے تقاضے کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ صرف ایک ڈرامہ نہیں تھا جو ٹی آر پیز کے لیے بنایا گیا ہو، بلکہ یہ ایک سماجی پیغام تھا جو ہر اس شخص کے لیے تھا جو رشتوں کی قدر کو بھول چکا ہے۔
اس ڈرامے نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ تقسیم اگر انصاف کے ساتھ ہو تو وہ “جماع” کا باعث بن سکتی ہے، اور اگر ناانصافی کے ساتھ ہو تو وہ تباہی اور بربادی لے کر آتی ہے۔ آخر میں، شازیہ کی کامیابی محض ایک کردار کی کامیابی نہیں، بلکہ ہر اس عورت کی کامیابی ہے جو اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہونے کی ہمت رکھتی ہے۔ “جماع تقسیم” ہم ٹی کے ان شاہکار ڈراموں میں سے ایک ہے جنہوں نے تفریح کے ساتھ ساتھ سوچنے پر بھی مجبور کیا، اور یہی کسی بھی فن پارے کی حقیقی کامیابی ہوتی ہے























