میں منٹو نہیں ہوں کہانی ایک دلچسپ موڈ پر

ڈرامہ میں منٹو نہیں ہوں

ایک مرتبہ کسی انٹرویو میں فرمایا کرتے تھے کہ “میں نے کبھی بھی اپنے قارئین کو وہ نہیں دیا جو وہ چاہتے تھے، بلکہ وہ دیا جو میں چاہتا تھا کہ انہیں پڑھنا چاہیے۔” یہ جملہ آج کے دور کے ٹیلی وژن ڈرامہ نگاروں کے لیے شاید کوئی معنی نہ رکھتا ہو، لیکن یہی وہ بنیادی فرق ہے جو “ادب” اور “صرف تفریح” کے درمیان ایک واضح خط کھینچ دیتا ہے۔ آج کا مقبول ڈرامہ نگار، جو ہر جمعرات اور جمعے کو کروڑوں افراد کے گھر میں داخل ہوتا ہے، اگر یہ کہے کہ “پاپولر ڈرامہ میں منٹو نہیں ہوں”، تو اس کے پیچھے معاشرتی، فنی اور اخلاقی کیفیات کا ایک پورا سمندر موجیں مار رہا ہوتا ہے

=============

===========

منٹو کا مقصد “سچ” کو اس کی مکمل بے باکی اور بے رحمی کے ساتھ پیش کرنا تھا۔ وہ قاری کو چونکانا، اسے بے چین کرنا، اسے سوچنے پر مجبور کرنا چاہتے تھے۔ ان کی کہانی کا اختتام اکثر ایک سوالیہ نشان ہوتا تھا جو قاری کے ذہن میں کھٹکتا رہ جاتا۔ آج کے مقبول ڈرامے کا مقصد بالکل مختلف ہے۔ اس کا بنیادی ہدف “ٹی آر پیز” (Television Rating Points) حاصل کرنا ہے۔ یہ ایک ایسی مارکیٹنگ کی مصنوعات ہے جسے جتنا زیادہ فروغ کیا جائے، اتنا ہی زیادہ منافع ہو۔ اس مقصد کے تحت ڈرامہ نگار کو وہی کچھ لکھنا ہوتا ہے جو عوام “دیکھنا” چاہتی ہے، یا پھر وہ جو پروڈیوسر اور چینلز “دکھانا” چاہتے ہیں۔ یہاں سچ کی نہیں، بلکہ ڈرامہ پن اور جذباتیت کی بھرمار کی ضرورت ہوتی ہے

==================

===============

شاید سب سے اہم وجہ ہے۔ منٹو کے پاس چھپنے کے لیے رسالے تھے۔ ان کا تعلق براہِ راست منافع سے نہیں تھا۔ آج کا ڈرامہ نگار ایک بہت بڑی تجارتی مشین کا ایک چھوٹا سا پرزہ ہے۔ اس پر پروڈیوسر، ڈائریکٹر، چینل، اور یہاں تک کہ اشتہارات دینے والی کمپنیوں کا دباؤ ہوتا ہے۔ ہر فریق چاہتا ہے کہ ڈرامہ اس کے مفاد کے مطابق ہو۔ اس ماحول میں “فن برائے فن” کا کوئی تصور زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہاں “فن برائے کاروبار” ہی واحد حقیقت ہے

==============

==============

کردار “انسان” تھے۔ وہ مکمل، پیچیدہ اور حقیقی تھے۔ ‘ٹوبہ ٹیک سنگھ’ کا بیشان سنگھ ہو، ‘کھول دو’ کی ثلمیٰ ہو یا ‘ٹھنڈا گوشت’ کا اسلم، یہ کردار اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ زندگی کی سانس لیتے ہیں۔ وہ کسی کے ہیرو نہیں ہیں، نہ ہی ولن۔ وہ محض حالات کے دھارے میں بہتے ہوئے انسان ہیں۔

اس کے برعکس، آج کے مقبول ڈراموں کے کردار اکثر “آرکی ٹائپس” (نمونوں) میں قید ہیں۔ ایک مظلوم، صابر، پاکیزہ ہیروئن ہے جو ہر ظلم سہتی ہے۔ ایک ظالم، دولت مند، خوبصورت ہیرو ہے جو کبھی ظلم کرتا ہے تو کبھی محبت۔ ایک ساس ہے جو شیطان کی طرح ہر وقت سازشوں میں مصروف ہے۔ یہ کردار اپنی اس یک رخی کیفیت میں اس قدر محدود ہیں کہ ان میں زندگی کی حقیقی پیچیدگیاں نظر نہیں آتیں۔ وہ کردار نہیں، بلکہ ایک “فارمولا” کے پرزے ہیں