
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور محکمہ ثقافت سندھ کے مشترکہ تعاون سے 13روزہ ”حیدرآباد تھیٹر فیسٹول “ کا آغاز۔۔۔
صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچیکا فیسٹیول سے خطاب
سندھ کا دل اور اس کی دھڑکن حیدر آباد تھا ۔
یہ ایک حیدرآباد تھا جہاں ہندوستان سے لوگ آئے۔۔۔
ہمیں لسانی نفرت اور سیاست کا نشانہ بنایا گیا۔
یہاں اردو، سندھی، بلوچی پنجابی بولنے والوں کی آپس میں شادیاں ہوتی تھیں
اس ایک شہر میں خون کی لکیر کھینچ دی گئی۔۔
حیدرآباد بٹ گیا۔۔

یہ تھیٹر صرف تھیٹر فیسٹیول نہیں۔۔۔
یہ ہماری ثقافت ہے جو سب کو جوڑتی ہے۔۔
بنیادی طور پر ہم اچھے لوگ ہیں۔
یہ نفرتیں ایک خاص مائنڈ سیٹ کے لوگ ہیں جو ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔۔
جب میں نے صورت حال دیکھی تو میں نے کلچر میں پناہ ڈھونڈی۔۔
کیونکہ کلچر ہی سب کو جوڑتا ہے۔۔
میں نفرتوں کے سفیروں سے بات نہیں کر رہا تھا۔۔
ہمارے معرکہ حق کے پروگرامز میں پورا حیدرآباد شریک تھ
سندھ کی ثقافت ہزاروں سال پرانی ہے۔۔
سب سے موثر ہتھیار محبت کا ہے۔۔
ہماری قوت برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے۔۔
ہمارے تخلیقی لوگوں کے لیے مسائل شروع ہو گئے ہیں۔
سوشل میڈیا کا صحیح استعمال کرنا سیکھیں۔
ہم حیدرآباد میں انٹرنیشنل فنکاروں کو بھی پرفارم کرنا چاہتے ہیں۔
سندھ کی تمام آرٹس کونسلز کو ہم نے فعال کیا۔۔
لاڑکانہ اور سکھر آرٹس کونسل زبردست کام کر رہے ہیں۔۔
حیدرآباد کی مہران آرٹس کونسل کو بھی فعال کر رہے ہیں
نفرت کے سفیروں کو آرٹ اور کلچر کے ذریعے شکست دیں۔۔
ہمارے سینے ساری زبانوں کے لیے کشادہ ہونا چاہیے ۔۔
حکومت سندھ کی ہمیں بھرپور سپورٹ حاصل ہے۔۔
ہم میوزک کا فیسٹیول بھی کریں گے۔۔
ادارے کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔۔
میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر کوئی سنجیدہ کوشش کرے گا آرٹ اور کلچر کے فروغ کے لیے میں ان کے ساتھ ہوں۔۔
ہماری عورتیں مردوں سے کہیں زیادہ تخلیقی ہیں۔۔
خواتین ڈائریکٹرز زیادہ ہونی چاہیے۔۔
میں آپ سب کے لیے فری ٹریننگ ورکشاپس کا انعقاد کرانے کا اعلان کرتا ہوں۔۔
ڈائریکٹرز کی ٹریننگ ہونا بہت ضروری
صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور ڈپٹی کمشنر
حیدرآباد زین العابدین میمن نے حیدرآباد تھیٹر فیسٹیول کا افتتاح کردیا
تھیٹر فیسٹیول میں حبیب اللہ میمن ،سید امجد حسین شاہ، لوک ورثہ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر ایوب شیخ سمیت فنکار برادری کے علاوہ عوام کی بڑی تعداد میں شرکت ۔
فیسٹیول کا افتتاح “ہوشو” تھیٹر سے کیا گیا۔
فیسٹیول میں 150 سے زائد فنکار پرفارم کر رہے ہیں۔
سندھ میوزیم حیدرآباد میں منعقدہ تھیٹر فیسٹیول 8 اکتوبر 2025 تک جاری رہے گا۔۔
ممتاز مرزا آڈیٹوریم میں ہونے والے ”حیدرآباد تھیٹر فیسٹیول“ میں عوام کا داخلہ مفت ہے۔
تھیٹر فیسٹیول میں روزانہ کی بنیاد پر ایک ڈرامہ پیش کیا جائے گا جس میں اردو اور سندھی زبان میں ڈرامے شامل ہیں۔
فیسٹیول میں روزانہ کی بنیاد پر “زندگی کے رنگ ہزار” ( سندھی ) ڈائریکٹر رمیش کمار ، “تجھ پہ قربان میری جان” ( اردو)ڈائریکٹر اسحاق راجو ، “قیدی جذبہ”(سندھی )ڈائریکٹر عقیل قریشی ، “مفت میں مہنگا”( اردو ) دائریکٹر سلیم گڈو ، “روشنی”(سندھی) ڈائریکٹر اسرار لغاری ، “چراغ جل اٹھا”(اردو) ڈائریکٹر اکرم نوید ، واتایو فقیر ( سندھی) ڈائریکٹر رفیق عیسانی ، “سمج کہاں باہر” ( سندھی) ڈائریکٹرشہباز بلوچ، “آندھیوں میں چراغ” ڈائریکٹرخالد عمران ، “سیارن میں اک چاریو” ڈائریکٹر کزبانو آصف پیش کیے جائیں گے ۔























