ج کل پاکستانی ڈراموں کے دائرے میں اگر کوئی نام نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے تو وہ ہے اے آر وائی ڈیجیٹل کا ڈراما “رسم و وفا”۔ یہ ڈراما نہ صرف اپنے منفرد اور پرکشش عنوان کی وجہ سے بلکہ اپنی پیچیدہ کہانی، گہرے کرداروں اور معاشرتی مسائل کے بے لاگ اظہار کی وجہ سے ناظرین میں مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ “رسم و وفا” دراصل دو الفاظ کا مرکب ہے جو زندگی کے ایک اہم تضاد کو پیش کرتا ہے: ایک طرف “رسم” یعنی وہ سماجی قوانین، روایات اور دکھاوے جو انسان کو جکڑے رہتے ہیں، اور دوسری طرف “وفا” یعنی ایثار، محبت اور خلوص کی وہ پاکیزہ قدر جو انسانی رشتوں کو مضبوط بناتی ہے۔ یہ ڈراما انہی دو قوتوں کے درمیان کشمکش اور ان کے ٹکراؤ کو نہایت مہارت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
کہانی کا خلاصہ اور مرکزی خیال
“رسم و وفا” کی کہانی دراصل دو خاندانوں کے گرد گھومتی ہے، جن کی تقدیر ایک ایسے راز سے جڑی ہوئی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ مرکزی کردار زویا (جسے عالیہ بختیار جیسے کامیاب فنکارہ نے اپنے جاندار اداکاری کے جوہر سے نبھایا ہے) ایک ایسی لڑکی ہے جو اپنے خاندان کی مجبوریوں اور رسومات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ اس کے برعکس، مرکزی مرد کردار (جس کی ذمہ داری کامیاب اداکار سلمان سعید نے سنبھالی ہے) ایک ایسا نوجوان ہے جو اپنے ماضی کے سائے سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے اور جو وفا کی اصل قیمت کو جانتا ہے۔
کہانی کا آغاز ہی ایک ایسے واقعے سے ہوتا ہے جو زویا کی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیتا ہے۔ خاندانی دباؤ، معاشی مجبوریاں اور سماجی رسومات کی پابندی اسے ایسے فیصلے پر مجبور کر دیتی ہیں جو اس کی اپنی خواہشات کے برعکس ہوتے ہیں۔ یہیں سے “رسم” کا وہ طوفان شروع ہوتا ہے جو اس کی زندگی کی کشتی کو ڈگمگا دیتا ہے۔ دوسری طرف، وفا کا جذبہ رکھنے والے کردار اپنی محبت، اپنے وعدوں اور اپنے رشتوں کے لیے قربانیاں دینے کو تیار ہیں۔ ڈراما انہی کے درمیان ہونے والے ٹکراؤ، ان کی جدوجہد اور ان کے جذباتی سفر کو دکھاتا ہے۔
کردار نگاری: گہرائی اور حقیقت پسندی
“رسم و وفا” کی سب سے بڑی طاقت اس کے سوچے سمجھے اور حقیقی کردار ہیں۔ ہر کردار اپنی ایک الگ پہچان، اپنی خواہشات، اپنے خدشات اور اپنے تضادات کا حامل ہے۔
زویا: زویا کا کردار جدید دور کی اس پاکستانی لڑکی کی عکاس ہے جو روایت اور جدت کے درمیان پسی ہوئی ہے۔ وہ اپنے خاندان سے محبت کرتی ہے لیکن ساتھ ہی وہ اپنی آزادی اور اپنی پسند کی زندگی بھی جینا چاہتی ہے۔ اس کے اندر کی کشمکش ناظرین کو باآسانی اپنے ساتھ جوڑ لیتی ہے۔ عالیہ بختیار نے زویا کے جذبات، اس کے درد اور اس کی خاموش بغاوت کو نہایت خلوص کے ساتھ پیش کیا ہے۔
مرکزی مرد کردار (سلمان سعید): یہ کردار وفا کی علامت ہے۔ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتا ہے اور اپنے پیار کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہے۔ اس کے کردار میں طاقت اور نرمی کا ایک حسین امتزاج ہے۔ سلمان سعید کی پراثر آواز اور پراعتماد اداکاری نے اس کردار کو ایک الگ ہی وقار بخشا ہے۔
معاون کردار: ڈرامے کے معاون کردار، خاص طور پر خاندان کے بزرگوں کے کردار، کہانی کو گہرائی اور وسعت دیتے ہیں۔ وہ کبھی رسم کے محافظ بن کر سامنے آتے ہیں تو کبھی وفا کے سفیر بن کر۔ ان کرداروں کے ذریعے ڈراما نگار نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ سماج میں ہر شخص اپنے نقطہ نظر سے درست ہے، مسئلہ صرف تنگ نظری اور بات چیت کے فقدان کا ہے۔
معاشرتی مسائل کا احاطہ
“رسم و وفا” صرف ایک محبت کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے معاشرے کے ان گہرے زخموں کو بے نقاب کرتا ہے جو ہم نے رسم و رواج کے نام پر خود اپنے سینے پر سجا رکھے ہیں۔ ڈراما درج ذیل مسائل کو چھوتا ہے:
خاندانی دباؤ اور جبری شادیاں: ڈراما اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ کس طرح والدین اپنی اولاد کی خوشی کو نظر انداز کر کے صرف خاندانی رسومات یا معاشی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ زویا کی مجبوری ہمارے معاشرے کی ان لاکھوں لڑکیوں کی کہانی ہے جنہیں ان کی مرضی کے بغیر زندگی کے فیصلے کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
==========

=============
طبقاتی تقسیم: کہانی میں خاندانوں کے درمیان معاشی اور سماجی فرق بھی واضح طور پر دکھایا گیا ہے۔ یہ تقسیم اکثر رشتوں میں رکاوٹ بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔
عورت کی حیثیت: ڈراما عورت کے کردار پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ کیا عورت صرف خاندان کی “عزت” کا نشان ہے؟ کیا اسے اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق حاصل نہیں؟ زویا کا کردار ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔
رحم اور ہمدردی کا فقدان: ڈراما اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہمارا معاشرہ رسمیں نبھانے میں تو آگے آگے ہے، لیکن جہاں بات کسی انسان کی نفسیاتی یا جذباتی حالت کو سمجھنے کی آتی ہے، وہاں ہم میں سے اکثر قاصر رہتے ہیں۔
ہدایت کاری اور تکنیکی پہلو
“رسم و وفا” کی کامیابی میں اس کے ہدایت کار کا کلیدی کردار ہے۔ ہدایت کار نے نہ صرف کہانی کو خوبصورتی کے ساتھ اسکرین پر منتقل کیا ہے بلکہ ہر منظر کو جذباتی طور پر پر اثر بنایا ہے۔ ڈرامے کی فوٹوگرافی، کیمرہ اینجلز اور لوکیشنز بھی قابل تعریف ہیں۔ شہر کے مصروف علاقوں کی چکاچوند کے برعکس، ڈراما کچھ مناظر میں پر سکون اور فطری ماحول بھی پیش کرتا ہے جو کرداروں کے اندرونی جذبات کے عکس کے لیے موزوں ہیں۔
موسیقی ڈرامے کی جان ہے۔ “رسم و وفا” کا ٹائٹل سانگ نہ صرف سریلا ہے بلکہ اس کے بول ڈرامے کی تھیم کو مکمل طور پر پیش کرتے ہیں۔ جذباتی مناظر میں پس منظر کی موسیقی ناظر کو کہانی میں پوری طرح غرق کر دیتی ہے۔
==========


==============
اختتامیہ: رسم کے بندھنوں سے وفا کی آزادی تک کا سفر
“رسم و وفا” درحقیقت ناظرین کے لیے ایک آئینہ ہے۔ یہ ہمیں ہمارے اپنے معاشرے کی ان خامیوں سے روبرو کراتا ہے جنہیں ہم نظر انداز کرتے آئے ہیں۔ یہ ڈراما یہ پیغام دینے کی کوشش کرتا ہے کہ اگرچہ رسومات اور روایات معاشرے کے لیے ضروری ہیں، لیکن جب یہی رسمیں انسانیت، محبت اور وفا کے جذبے کو مارنے لگیں تو ان پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
====================

===============
زویا اور اس جیسے دیگر کرداروں کا سفر دراصل ہر اس فرد کا سفر ہے جو ان بندھنوں سے آزادی چاہتا ہے جو اسے سماج نے پہنا رکھے ہیں۔ یہ ڈراما اس امید پر ختم ہوتا ہے کہ آخرکار وفا کا جذبہ، خلوص اور سچی محبت رسم کے تمام بندھنوں کو توڑ کر ہی صحیح معنوں میں انسان کو آزاد کر سکتی ہے۔
آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ “رسم و وفا” پاکستانی ڈرامہ صنعت کے شاندار مستقبل کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ یہ ڈراما نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ فکر و بحث کے لیے ایک وسیع میدان بھی مہیا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ہفتے لاکھوں ناظرین اپنی مصروف زندگی میں سے وقت نکال کر “رسم و وفا” کے اگلے ایپی سوڈ کا انتظار کرتے ہیں، کیونکہ یہ ڈراما ان کے دلوں کی دھڑکن بن چکا ہے























