فتنہ الخوارج کی غیر ملکی فنڈنگ،مالیاتی مجرمانہ سرگرمیاں کا جائزہ

قادر خان یوسف زئی

فتنہ الخوارج اپنے پیچیدہ اور متنوع مالیاتی نیٹ ورک کے ذریعے ملک کی معاشی اور سلامتی کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی مسلسل سازش کررہی ہے۔ 2007 میں اس کالعدم تنظیم کی تشکیل کے بعد سے یہ گروپ اپنے فنڈنگ کے ذرائع کو مسلسل پھیلاتا اور جدید بناتا چلا جا رہا ہے۔فتنہ الخوارج کی آمدنی کے بنیادی ذرائع میں بھتہ خوری اور ٹیکسیشن سب سے اہم ہیں۔ وہ ان علاقوں میں جہاں ان کا اثر ہے، مقامی کاروباروں، ٹھیکیداروں اور تاجروں سے ایک مقررہ فیصد وصول کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، تعمیراتی ٹھیکیداروں کو اپنی کمائی کا تقریباً پانچ فیصد ادا کرنا پڑتا ہے تاکہ ان کے کام میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ موسمی تبدیلیوں کے ساتھ یہ شرحیں بھی تبدیل ہوتی رہتی ہیں، جیسے سرحدی علاقوں میں چلغوزے کی فصل کے موسم میں یہ 20 فیصد تک پہنچ جاتی ہیں۔ تاریخی طور پر، انہوں نے ٹرانسپورٹ کے کاروباروں پر ٹیکس لگائے، امریکی قافلوں سے حفاظتی رقم وصول کی، اور پیٹرول پمپوں سے مفت ایندھن حاصل کیا۔ یہ سرگرمیاں نہ صرف فوری آمدنی فراہم کرتی ہیں بلکہ خوف کا ماحول بھی پیدا کرتی ہیں جو ان کی دیگر کارروائیوں کو تقویت دیتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بھتہ خوری فتنہ الخوارج کی مالیاتی طاقت کا بنیادی ستون ہے، جو مقامی معیشت کو کمزور کرتی ہے اور ریاست کی گرفت کو چیلنج کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، کاؤنٹر ایکسٹریمزم پروجیکٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فتنہ الخوارج کی فنڈنگ کے چار اہم ذرائع میں بھتہ خوری اور مقامی ٹیکسیشن سرفہرست ہیں، جو تنظیم کو مستحکم آمدنی فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح، گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 کی رپورٹ، جو انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی جانب سے جاری کی گئی، میں واضح کیا گیا ہے کہ فتنہ الخوارج کی کارروائیوں میں 91 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو اس کی مالیاتی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
اس کے علاوہ، مجرمانہ سرگرمیاں فتنہ الخوارج کی مالیاتی طاقت کا ایک کلیدی ستون ہیں۔ بینک ڈکیتیاں، اغوا برائے تاوان، لکڑی اور نوادرات کی اسمگلنگ، اور منشیات کا کاروبار ان کی بنیادی کمائی کا حصہ ہیں۔ اغوا کے واقعات خاص طور پر منافع بخش ثابت ہوئے ہیں۔ 2007 میں ہی انہوں نے ایک ہزار سے زائد افراد کو اغوا کیا، جن میں شہباز تاثیر جیسے نمایاں لوگ شامل تھے جن کے لیے اربوں روپے کا تاوان مانگا گیا۔ ایک اور مثال پاکستان کے افغان سفیر طارق عزیز الدین کا اغوا ہے، جنہیں 25 لاکھ ڈالر تاوان کے بعد رہا کیا گیا۔ یہ واقعات نہ صرف پیسہ دیتے ہیں بلکہ علاقے میں دہشت کا ماحول قائم کرتے ہیں۔ منشیات کی اسمگلنگ فتنہ الخوارج کے لیے ایک بڑا ذریعہ ہے۔ وہ کراچی کو برآمدی راستے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جو انہیں نہ صرف مالی فائدہ دیتا ہے بلکہ دیگر مجرمانہ گروپوں کے ساتھ روابط بھی قائم کرتا ہے۔ افیون اور ہیروئن کا یہ کاروبار براہ راست ان کی عسکری ضروریات جیسے ہتھیاروں کی خریداری کو پورا کرتا ہے۔ اسی طرح، ہتھیاروں کی اسمگلنگ نہ صرف ان کی عملی ضرورت ہے بلکہ ایک منافع بخش کاروبار بھی، جو انہیں جدید ٹیکنالوجی اور سامان مہیا کرتا ہے۔ پاکستانی ماہرین جیسے خادم حسین، جو کاؤنٹر ٹیررازم کے ماہر ہیں، کا کہنا ہے کہ مجرمانہ سرگرمیوں جیسے اغوا اور بھتہ خوری سے تقریباً 40 فیصد فنڈز آتے ہیں، جو تنظیم کو طاقتور بناتے ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ”یہ نہ صرف پیسہ دیتے ہیں بلکہ خوف کا نیٹ ورک بھی قائم کرتے ہیں جو جنوبی ایشیا کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے“۔ اسی طرح، ڈائنامکس آف اسائمیٹرک کنفلکٹ جرنل کی 2023 کی رپورٹ میں سعید اختر اور زاہد احمد، جو پاکستانی ماہرین ہیں، نے لکھا کہ فتنہ الخوارج کی بحالی میں مجرمانہ فنڈنگ کا کردار مرکزی ہے، جو افغانستان کی صورتحال سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔
حالیہ برسوں میں، ٹی ٹی پی نے ڈیجیٹل فنانسنگ کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ وہ ٹیلیگرام جیسے پلیٹ فارمز پر کرپٹو کرنسی میں عطیات کی اپیل کرتے ہیں، جو ان کی فنڈنگ کو مزید خفیہ بناتا ہے کیونکہ کرپٹو والٹس کو ٹریس کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ ارتقاء یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے سیکورٹی فورسز سے آگے رہنے کی کوشش کر رہے ہیں، اگرچہ اس کی حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔ غیر ملکی فنڈنگ ٹی ٹی پی کی حکمت عملی کا ایک اہم جزو ہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ بھارت نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے فنڈز منتقل کیے، جو قانونی لین دین کی آڑ میں دہشت گرد گروپوں تک پہنچتے ہیں۔ 2020 میں پاکستان کی جانب سے جاری ڈوزیئر میں یہ تفصیلات سامنے آئیں، جن میں 22 ارب روپے کی تقسیم کا ذکر ہے۔ افغانستان میں فتنہ الخوارج کو پناہ ملتی ہے، جو مقامی یا ریاستی سطح کی حمایت کی نشاندہی کرتی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، افغان طالبان فتنہ الخوارج کو ماہانہ مالی امداد فراہم کر رہے ہیں، جس میں نور ولی محسود کی فیملی کو تقریباً 43 ہزار ڈالر کی منتقلی شامل ہے۔ یہ حمایت نہ صرف مالی ہے بلکہ لاجسٹکس، تربیت اور تعلیمی مراکز کی صورت میں بھی ہے، جو علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی 2025 کی رپورٹ میں، جو ISIL اور القاعدہ کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کی جانب سے جاری کی گئی، واضح کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کی مدد سے فتنہ الخوارج کی مالی اور لاجسٹک صلاحیت بڑھ رہی ہے، جو پاکستان پر حملوں کی شدت کو بڑھا رہی ہے۔ عالمی ماہرین جیسے امرا جدون، جو یو ایس آئی پی (یوائنائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس) کی سینیئر ایکسپیرٹ ہیں، نے اپنی 2021 کی رپورٹ میں لکھا کہ ”فتنہ الخوارج کی بحالی میں افغان طالبان کی مالی اور آپریشنل مدد مرکزی ہے، جو جنوبی ایشیا کی سلامتی کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے“۔ اسی طرح، بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی مادیہ افضل، جو جنوبی ایشیا کی ماہر ہیں، نے 2022 کی تجزیہ میں کہا کہ ”فتنہ الخوارج کی غیر ملکی فنڈنگ، خاص طور پر افغان حمایت، پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کو ناکام بنا رہی ہے، اور اسے ایک واضح پالیسی کی ضرورت ہے“۔
فلاحی ادارے اور این جی اوز کو فرنٹ کے طور پر استعمال کرنا فتنہ الخوارج کی ایک اور حکمت عملی ہے۔ معاشی پیمانے پر، پاکستانی اندازوں کے مطابق فتنہ الخوارج سرحدی علاقوں میں 20 ارب روپے کی غیر قانونی معیشت چلا رہی ہے، جو تقریباً 70 ملین امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ یہ حجم ان کی مالی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے اور مقامی معیشت پر اثرات بھی واضح کرتا ہے۔ ان کے ضابطے کے تحت، چھوٹے منسلک گروپ اپنی آمدنی کا نصف مرکزی خزانے میں جمع کراتے ہیں، جو عسکری کارروائیوں کو فنڈ کرتا ہے۔ کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کی 2021 کی رپورٹ میں، جو 2025 تک اپ ڈیٹ ہوئی، میں ماہرین نے بتایا کہ ”ٹی ٹی پی کی فلاحی نیٹ ورکس اور غیر قانونی معیشت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کو مستحکم کر رہی ہے، جو پاکستان کی معاشی ترقی کو روک رہی ہے“۔ اسی طرح، ایسٹیسٹ انسٹی ٹیوٹ آف پیس کی 2024 کی رپورٹ میں، جو کاؤنٹر ٹیررازم پر ہے، میں سینئر سٹڈی گروپ نے لکھا کہ ”فتنہ الخوارج کی فلاحی اور مجرمانہ فنڈنگ کا نیٹ ورک، افغان حمایت کے ساتھ، علاقائی خطرے کو بڑھا رہا ہے“۔
پاکستان نے ان فنڈنگ کو روکنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں شمولیت کے بعد، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ کو روکنے کے قوانین سخت کیے گئے۔ 1997 کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 79 گروپوں کو کالعدم قرار دیا گیا، اور ہزاروں بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن فلاحی اداروں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاکستان نے انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کے ذریعے ٹی ٹی پی کی انفراسٹرکچر کو کافی نقصان پہنچایا ہے، اور ماہانہ تقریباً 100 جنگجوؤں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔ نور ولی محسود کی قیادت میں ٹی ٹی پی نے خود کو دوبارہ منظم کیا ہے، اور 2025 میں ایک نئی ایڈمنسٹریٹو اور آپریشنل سٹرکچر کا اعلان کیا گیا، جو راہبری شورا کے اجلاس کے بعد سامنے آیا۔ یہ تنظیم اب پاکستان کے تمام صوبوں اور گلگت بلتستان میں پھیل چکی ہے، جس کا ڈھانچہ وزارتوں اور ولایات پر مشتمل ہے۔ یہ روایتی مجرمانہ طریقوں کو ممکنہ ڈیجیٹل فنڈنگ کے ساتھ ملا کر اپنی بقا یقینی بنا رہی ہے، جو علاقائی سلامتی کے لیے ایک مستقل چیلنج ہے۔ اس کے مالیاتی نیٹ ورک کو سمجھنا اور کمزور کرنا ہی اس خطرے سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے۔
جنوبی ایشیائی ماہرین جیسے سعید علی اور راکش ورما، جو مڈل ایسٹ پالیسی جرنل کے لیے لکھتے ہیں، نے 2025 کی ایک آرٹیکل میں کہا کہ ”افغان طالبان-ٹی ٹی پی نیکسس پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے، اور مالیاتی نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے علاقائی تعاون ضروری ہے“۔ اسی طرح، انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) کی 2024 کی رپورٹ میں، جو 2025 تک جاری ہے، میں ماہرین نے وارننگ دی کہ فتنہ الخوارج کی افغان پناہ گاہیں اور فنڈنگ جنوبی ایشیا کی استحکام کو کمزور کر رہی ہیں، اور پاکستان کو فوجی حل سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ یہ رائے ظاہر کرتی ہیں کہ ٹی ٹی پی کی مالیاتی بنیاد نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک گہرا خطرہ ہے، جسے عالمی سطح پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔