آخری قسط کا راز کھل گیا شیر ڈرامہ فجر اور شیر زمان مستقبل؟

آخری قسط کا راز کھل گیا شیر ڈرامہ فجر اور شیر زمان مستقبل؟

ڈراما اسٹوری لائن: “عہد وفا”
تعارف:
“عہد وفا” ایک ایسے خاندان کی کہانی ہے جو ظاہری طور پر ہر نعمت سے مالا مال ہے، لیکن اندر ہی اندر انا، ضد، خودغرضی اور ماضی کے سائے سے بری طرح جکڑا ہوا ہے۔ یہ کہانی محبت کے جذبوں، وفا کے عہدوں، اور ان مصلحتوں کے درمیان کشمکش ہے جو انسان کو مجبوراً اپنے دل کی آواز کو دبانے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ یہ ڈراما نہ صرف رشتوں کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرے گا بلکہ معاشرے میں موجود طبقاتی تفاوت اور خاندانی دباؤ کے انسانی جذبات پر مرتب ہونے والے اثرات کو بھی بے نقاب کرے گا۔

مرکزی کردار:

فاطمہ (ہیروئن): ایک متوسط گھرانے کی خوبصورت، تعلیم یافتہ اور باعمل لڑکی۔ وہ آرٹس کی لیکچرار ہے۔ اس کی شخصیت میں حیا، قناعت اور اپنے اصولوں پر ڈٹ جانے کی ہمت ہے۔ وہ اپنے چھوٹے سے خاندان کی کفیل ہے، جس میں اس کی بیوہ ماں اور چھوٹا بھائی شامل ہے۔

شایان (ہیرو): ایک امیر تاجر اور کامیاب بزنس مین کا بیٹا۔ وہ اپنے خاندان کی شان و شوکت کے برعکس، سادہ مزاج، حساس اور فن کا دلدادہ ہے۔ وہ اپنے والد کی مرضی کے خلاف جاکر ایک آرٹ گیلری چلاتا ہے۔ اس کی زندگی میں سب کچھ ہے، سوائے حقیقی محبت اور آزادی کے۔

زینب (ولن/اینٹی ہیروئن): شایان کی کزن اور اس سے شادی کی خواہش مند۔ وہ دولت اور طاقت کی دیوانی ہے۔ اس کی شخصیت میں چالبازی، انا اور جذباتی جارحیت ہے۔ وہ فاطمہ کو ہر قیمت پر شایان کی زندگی سے نکال باہر کرنا چاہتی ہے۔

نائلہ بیگم (شایان کی والدہ): ایک روایتی امیر خاتون جو خاندان کی “شان” کو سب سے بالا تر سمجھتی ہے۔ وہ زینب کو اپنی بہو کے طور پر دیکھنے کی خواہش مند ہے۔

سلیمان صاحب (شایان کے والد): ایک سخت گیر لیکن دوراندیش businessman. وہ بیٹے کی خوشی چاہتے ہیں لیکن خاندانی مفادات ان کے لیے اولین ترجیح ہیں۔

کہانی کا آغاز:

کہانی کا آغاز ایک آرٹ نمائش سے ہوتا ہے جہاں شایان اپنی آرٹ گیلری کی جانب سے ایک بڑا ایونٹ منعقد کر رہا ہوتا ہے۔ اتفاق سے، فاطمہ اپنی یونیورسٹی کے طلباء کو اس نمائش میں لے کر آتی ہے۔ فاطمہ کی آرٹ کے بارے میں گہری نظر اور شایان کے پسندیدہ مصور پر کی گئی اس کی ایک تنقیدی رائے شایان کے کان تک پہنچتی ہے۔ شایان اس بات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا کہ ایک متوسط طبقے کی لڑکی نے فن کے بارے میں اتنی گہری سمجھ رکھی ہے۔ وہ اس سے ملتا ہے اور دونوں کے درمیان آرٹ اور فلسفہ پر ایک پرلطف گفتگو ہوتی ہے۔ یہ پہلا ملنا رسمی سا ہوتا ہے، لیکن دونوں ایک دوسرے کے ذہن پر اچھا تاثر چھوڑ جاتے ہیں۔

قربت کے مراحل:

ایک ہفتے بعد، فاطمہ کی یونیورسٹی میں ایک سیمینار ہوتا ہے جس میں شایان کو مہمان خصوصی کے طور پر بلایا جاتا ہے۔ یہاں پر دونوں دوبارہ ملتے ہیں۔ اس کے بعد، دونوں کا آنا جانا بڑھنے لگتا ہے۔ شایان فاطمہ کی سادگی، اس کے problems کے باوجود مثبت سوچ اور خودداری سے متاثر ہوتا ہے۔ دوسری طرف، فاطمہ شایان کی اس نفاست اور شرافت سے متاثر ہوتی ہے جو عام طور پر امیر گھرانوں کے لوگوں میں نظر نہیں آتی۔ وہ اسے اپنے خیالات کا احترام کرتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ دوستی گہری ہوتی جاتی ہے اور دونوں کے دل میں ایک دوسرے کے لیے محبت کے جذبات جنم لینے لگتے ہیں۔

رکاوٹوں کا ابھرنا:

شایان کی کزن زینب، جو ہمیشہ سے اسے اپنا حق سمجھتی ہے، اس قربت پر مشکوک ہو جاتی ہے۔ وہ نائلہ بیگم کے کان بھرنا شروع کر دیتی ہے۔ نائلہ بیگم فوراً اپنے بیٹے پر دباؤ ڈالتی ہیں کہ وہ “ان لوگوں” سے دور رہے۔ شایان اپنی ماں کی باتوں کو نظر انداز کرتا ہے، لیکن جب سلیمان صاحب کو پتہ چلتا ہے، تو وہ شایان کو سمجھاتے ہیں کہ خاندانی مفادات اور اس کی ذمہ داریاں اس کی ذاتی پسند ناپسند سے بالا تر ہیں۔

ایک دن زینب نے منصوبہ بندی کر کے فاطمہ کو اس کے گھر پر جا کر ذلیل کیا اور اسے شایان سے دور رہنے کی دھمکی دی۔ فاطمہ، جو اپنی خودداری کو سب سے بڑا زیور سمجھتی ہے، نے شایان سے ملنا کم کر دیا۔ شایان اس کی وجہ سمجھ جاتا ہے اور وہ فاطمہ کے گھر جاکر اسے منانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اسے یقین دلاتا ہے کہ وہ اس کی خودداری کا احترام کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ شایان کے اس عہد وفا پر فاطمہ راضی ہو جاتی ہے۔

=========

خاندانی کشمکش اور جدائی:

شایان اپنے والدین کے سامنے فاطمہ سے شادی کا اعلان کرتا ہے۔ اس اعلان پر گھر میں جنگ چھڑ جاتی ہے۔ نائلہ بیگم اس شادی کو ماننے سے انکار کر دیتی ہیں۔ زینب اور اس کی ماں (سلیمان صاحب کی بہن) اس موقعے کو بھڑکا کر ایک بڑا فیملی ڈرامہ کھڑا کر دیتی ہیں۔ سلیمان صاحب شایان پر کاروباری دباؤ ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر اس نے فاطمہ سے شادی کی تو وہ اسے اپنا وارث تسلیم نہیں کریں گے۔

شایان اپنے عزم پر قائم رہتا ہے اور گھر چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ وہ فاطمہ کے پاس آتا ہے۔ فاطمہ اسے دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے۔ شایان اسے سب کچھ بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اپنی محبت کے لیے سب کچھ چھوڑ کر آیا ہے۔ فاطمہ اس کی قربانی سے متاثر ہوتی ہے لیکن وہ نہیں چاہتی کہ شایان اپنے خاندان سے قطع تعلق کرے۔ وہ اسے واپس جانے کے لیے کہتی ہے، لیکن شایان ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔

منفی قوتوں کی چالیں اور المیہ:

زینب ایک اور شیطانی چال چلتی ہے۔ وہ فاطمہ کے چھوٹے بھائی، احمد، کو پھنسانے کی کوشش کرتی ہے۔ احمد، جو ایک نوجوان اور جذباتی لڑکا ہے، کو ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ فاطمہ اور اس کی ماں کے لیے یہ ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔ شایان احمد کو بچانے کی پوری کوشش کرتا ہے، لیکن زینب کے اثر و رسوخ کے آگے اس کی ایک نہیں چلتی۔

اس المیے کے دوران، فاطمہ کی ماں کی طبیعت بگڑ جاتی ہے اور وہ انتقال کر جاتی ہیں۔ ماں کے انتقال اور بھائی کے قید ہونے کا صدمہ فاطمہ برداشت نہیں کر پاتی۔ وہ یہ سب شایان سے جوڑ کر دیکھنے لگتی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اگر شایان اس کی زندگی میں نہ آیا ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ غم اور مایوسی کے عالم میں، وہ شایان سے کہہ دیتی ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر چلا جائے اور ہمیشہ کے لیے اسے بھول جائے۔ شکستہ دل شایان، بے بسی کے عالم میں وہاں سے چلا جاتا ہے۔

وقت کا گذرنا اور تبدیلی:

==================

=============

تین سال گزر جاتے ہیں۔ شایان نے مجبوراً اپنے خاندان کی شرائط مان لی ہیں اور زینب سے شادی کر لی ہے، لیکن وہ اندر سے مردہ دل ہے۔ وہ فاطمہ کو نہیں بھولا۔ اس کی شادی محض ایک ڈھونگ ہے۔ زینب کو اس بات کا احساس ہے کہ شایان کا دل اب بھی فاطمہ کے پاس ہے، جس سے اس کی جلن اور بڑھ جاتی ہے۔

دوسری طرف، فاطمہ نے اپنی زندگی دوبارہ سنبھال لی ہے۔ وہ ایک نامور آرٹسٹ بن چکی ہے اور اپنے پیروں پر کھڑی ہے۔ اس کا بھائی احمد بالآخر بے گناہ ثابت ہو کر رہا ہو چکا ہے۔ فاطمہ نے اپنے غم کو طاقت میں بدل لیا ہے، لیکن اس کا دل اب بھی شایان کے زخم سے چور ہے۔

دوبارہ ملاقات اور انکشاف:

ایک بین الاقوامی آرٹ نمائش میں، مقدر دونوں کو دوبارہ آمنے سامنے لے آتا ہے۔ شایان وہاں ایک بزنس ٹائی اپ کے سلسلے میں موجود ہوتا ہے، جبکہ فاطمہ اپنی پینٹنگز نمائش کے لیے پیش کر رہی ہوتی ہے۔ دونوں کی نظریں ملتی ہیں اور ماضی کے تمام زخم تازہ ہو جاتے ہیں۔

اس ملاقات کے بعد، شایان کو پتہ چلتا ہے کہ احمد کے مقدمے کے پیچھے زینب کا ہاتھ تھا۔ وہ غصے اور احساسِ جرم سے بھر جاتا ہے۔ وہ تمام ثبوت اکٹھا کرتا ہے اور اپنے والدین کے سامنے پیش کرتا ہے۔ زینب کے تمام کرتوت بے نقاب ہو جاتے ہیں۔ نائلہ بیگم اور سلیمان صاحب اپنی غلطی کا احساس کرتے ہیں۔ انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی ضد اور انا نے ان کے بیٹے کی زندگی تباہ کر دی۔

اختتام: عہد وفا کی تکمیل

شایان زینب کو چھوڑ دیتا ہے۔ وہ فاطمہ کے پاس جاتا ہے اور معافی مانگتا ہے۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ اس کے بغیر گزارے گئے ہر دن اس کے لیے عذاب تھے۔ ابتدا میں، فاطمہ hesitation کا شکار ہوتی ہے۔ وہ ماضی کے زخموں سے ڈرتی ہے۔ لیکن شایان اسے یقین دلاتا ہے کہ اب وہ اس کی حفاظت کرنے کے لیے کافی مضبوط ہے۔ وہ اسے وہی عہد وفا دہراتا ہے جو اس نے سالوں پہلے کیا تھا۔

فاطمہ شایان کی آنکھوں میں سچی محبت اور پچھتاوہ دیکھتی ہے۔ وہ سمجھ جاتی ہے کہ ماضی کی غلطیاں دونوں نے کی تھیں، لیکن محبت ان سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ وہ شایان کا ہاتھ تھام لیتی ہے۔

=======================

=============

آخری منظر میں، دونوں کی شادی ہوتی ہے، لیکن یہ شادی محض ایک رسم نہیں ہوتی۔ یہ دراصل ان کے درمیان ہونے والے عہد وفا کی تکمیل ہوتی ہے۔ دونوں خاندان، جو پہلے منقسم تھے، اب صلح کر لیتے ہیں۔ سلیمان صاحب فاطمہ کو اپنی بہو کے طور پر قبول کرتے ہیں، اور فاطمہ اپنے art کے ذریعے نہ صرف شایان کے گھر بلکہ پورے خاندان میں رنگ بھر دیتی ہے۔ کہانی اس نکتے پر ختم ہوتی ہے کہ حقیقی محبت ہمیشہ اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے، چاہے راستے میں کتنے ہی کانٹے کیوں نہ ہوں۔

نتیجہ:
“عہد وفا” کی کہانی محبت، قربانی، ہمت اور معافی کے جذبات سے بھرپور ہے۔ یہ ڈراما ناظرین کو جذباتی اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ یہ سبق بھی دے گا کہ خاندانی روایات اور انا کی بلندیوں کے درمیان محبت کی قدر کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو ہر عمر کے ناظرین کے دل کو چھو لے گی۔