یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کرکٹ نے ہمیشہ سے ہی خطے کی ثقافت اور جذبات کو متاثر کیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے کرکٹ میچز صرف کھیل کے میدان تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ دونوں ممالک کے عوام کے دلوں کی دھڑکن بن جاتے ہیں۔ انہی یادگار مقابلوں میں سے ایک رشتہ ہے دو عظیم کرکٹ شخصیات کا: راوی شاستری اور عمران خان۔ راوی شاستری، بھارت کا وہ طاقتور بلے باز اور مفید بولر، جنہوں نے اپنی پرعزم قیادت سے بھارت کو کئی تاریخی فتوحات دلائیں۔ اور دوسری طرف عمران خان، پاکستان کے شاہین، وہ کپتان جن کی قیادت میں پاکستان نے 1992 کا ورلڈ کپ جیت کر تاریخ رقم کی۔
ان دو دیوہیکل شخصیات کے درمیان ہونے والے مقابلے ہمیشہ سے ہی شائقین کے لیے خصوصی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ راوی شاستری نے اپنے انٹرویوز اور گفتگو میں عمران خان کے خلاف کھیلنے کے تجربات کو بارہا بیان کیا ہے۔ یہ محض ایک کھلاڑی کا دوسرے کھلاڑی کے بارے میں بیان نہیں، بلکہ ایک دور کا احوال ہے، جب کرکٹ میں حریفانہ جذبہ ہوتا تھا، مگر احترام کی گہری چادر بھی بچھی ہوتی تھی۔
راوی شاستری نے اپنے ابتدائی دور میں ہی عمران خان جیسے بولر کا سامنا کیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب وہ پہلی بار بین الاقوامی کرکٹ میں آئے، تو عمران خان اپنے عروج پر تھے۔ ان کی رفتار، سوئنگ، اور خاص طور پر ریورس سوئنگ کے بارے میں شاستری کہتے ہیں، *”عمران خان اس وقت دنیا کے بہترین تیز رفتار بولروں میں سے ایک تھے۔ ان کی بولنگ میں ایک دہشت تھی، مگر ساتھ ہی ایک شان بھی تھی۔ وہ صرف گیند کو تیز نہیں پھینکتے تھے، بلکہ وہ اسے بولر کی طرح سوچتے تھے۔ ہر گیند کا ایک مقصد ہوتا تھا۔”*
شاستری کے مطابق، عمران خان سے مقابلہ کرنا صرف ان کی تیز رفتار گیندوں کا سامنا کرنا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ذہنی معرکہ تھا۔ *”عمران بہت ذہین کپتان اور بولر تھے۔ وہ بلے باز کی کمزوری کو فوری بھانپ لیتے تھے۔ وہ آپ کو مسلسل ایک ہی جگہ پر گیندیں کر کے پریشان کرتے، پھر اچانک سے کوئی ایسی گیند پھینکتے جو آپ کی توقع کے بالکل برعکس ہوتی۔ ان کی باؤنسرز بہت مؤثر تھیں اور وہ یارکر بھی بہت درستی سے پھینکتے تھے۔”*

1980 کی دہائی وہ وقت تھا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان میچز نسبتاً کم ہوتے تھے، لیکن جب بھی ہوتے، وہ انتہائی جذباتی اور سخت مقابلے پر مبنی ہوتے۔ شاستری اسی دور کی ایک سیریز کا ذکر کرتے ہیں، جب بھارت کی ٹیم پاکستان کے دورے پر گئی تھی۔
*”پاکستان میں کھیلنا ہمیشہ ایک چیلنج تھا،”* شاستری کہتے ہیں۔ *”اور جب آپ کے سامنے عمران خان، وسیم اکرم، عبدالقادر جیسے بولر ہوں، تو یہ چیلنج دگنا ہو جاتا تھا۔ عمران اس وقت کپتان تھے اور ان کی ٹیم ان کے ساتھ پوری طرح سے کھڑی ہوتی تھی۔ وہ میدان میں ایک جنرل کی طرح حکمت عملی بناتے تھے۔”*
شاستری نے ایک خاص واقعہ کا ذکر کیا جب انہیں عمران خان کے خلاف ایک اہم اننگز کھیلنی تھی۔ *”یہ لاہور کا میچ تھا اور پچ تیز بولروں کے لیے موزوں تھی۔ عمران نے خود اوپننگ کی بولنگ کی۔ پہلی ہی گیند میں میں نے ان کی رفتار اور سوئنگ کا اندازہ لگا لیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں ان کی گیندوں کا دفاعی انداز میں جواب دوں گا اور غلطی کا انتظار کروں گا۔ لیکن عمران خان غلطیاں کم ہی کرتے تھے۔ وہ مسلسل آؤٹ سوئنگ کر رہے تھے، میرے ٹانگ سٹمپ کے قریب گیندیں پھینک رہے تھے۔ یہ ایک سخت امتحان تھا۔”*
شاستری کے مطابق، انہوں نے اس موقع پر صبر اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا۔ *”میں نے اپنی اننگز کی بنیاد محفوظ کرکے رکھی۔ میں جانتا تھا کہ اگر میں عمران کے اس سپیل میں ٹکا رہا، تو بعد میں دوسرے بولروں پر اسکور کرنے کے مواقع ملیں گے۔ آخرکار، میں نے ایک سنچری اسکور کی، جو میرے کیرئیر کی اہم اننگز میں سے ایک تھی۔ میچ کے بعد عمران نے مجھ سے آ کر کہا، ‘شاباش، تم نے بہت حوصلے سے کھیلا۔’ یہ ایک چھوٹا جملہ تھا، لیکن ایک عظیم حریف کی طرف سے تعریف کا یہ جملہ میرے لیے بہت معنی رکھتا تھا۔”*

جب راوی شاستری نے بھارت کی کپتانی سنبھالی، تو عمران خان کے خلاف مقابلہ ایک نئی جہت میں بدل گیا۔ اب یہ صرف بلے باز اور بولر کا مقابلہ نہیں تھا، بلکہ دو کپتانوں کی ذہنی جنگ تھی۔
شاستری اس دور کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، *”عمران خان کو بطور کپتان پڑھنا بہت مشکل تھا۔ وہ بہت غیر متوقع تھے۔ وہ اپنے بولروں کو ایسی فیلڈنگ دے سکتے تھے جو آپ کی توقع کے برعکس ہو۔ ان کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم بہت جارحانہ اور پراعتماد تھی۔”*
شاستری نے ایک اور دلچسپ واقعہ شیئر کیا جب ان کی کپتانی میں بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک میچ جیتا تھا۔ *”یہ ایک محدود اوورز کا میچ تھا۔ ہمارے سامنے ہدف معمولی سا تھا، لیکن عمران نے اپنے بہترین بولروں کو ابتدا میں ہی لگا دیا۔ وسیم اکرم اور عمران خود بولنگ کر رہے تھے۔ میں نے اپنی ٹیم سے کہا کہ ہمیں ان کے ابتدائی حملے کو جھیلنا ہوگا۔ میں نے خود اوپننگ کی اور ہم نے پہلے چند اوورز میں کوئی خطرہ مول لئے بغیر رنز بنائے۔ جب عمران نے دیکھا کہ ہم ان کے باؤلرز پر قابو پا رہے ہیں، تو انہوں نے فیلڈ میں تبدیلیاں کیں، بولروں کو بدلا، لیکن اس روز ہماری حکمت عملی کام آئی۔ میچ جیتنے کے بعد عمران نے کہا، ‘آج تمہاری ٹیم نے بہتر کھیلا۔’ یہ ان کی کھیل کے احترام کی عکاسی تھی۔”*
راوی شاستری نے عمران خان کی بولنگ کی چند انوکھی خصوصیات کی طرف نشاندہی کی، جو انہیں دوسرے بولروں سے ممتاز کرتی تھیں۔
1. **ریورس سوئنگ کا ہنر:** شاستری کے مطابق، عمران خان ریورس سوئنگ کے بانیوں میں سے تھے۔ *”وہ اس فن کے ماہر تھے۔ نیچے پرانی ہونے والی گیند کو وہ ایسے سوئنگ کراتے تھے کہ بلے باز کے لیے اس کا اندازہ لگانا ناممکن ہو جاتا تھا۔ انہوں نے وسیم اکرم جیسے نوجوان بولر کو بھی یہی ہنر سکھایا، جس نے بعد میں دنیا بھر کے بلے بازوں کو پریشان کیا۔”*
2. **ذہنی دباؤ:** شاستری کا کہنا ہے کہ عمران خان صرف اپنی بولنگ سے ہی نہیں، بلکہ اپنی شخصیت کے دباؤ سے بھی وکٹیں لیتے تھے۔ *”جب وہ رن اپ پر آتے تو ان کے چہرے پر ایک خاص طرح کی جھنجھلاہٹ ہوتی تھی۔ وہ آپ کو گھور کر دیکھتے تھے۔ یہ سب ایک نفسیاتی جنگ کا حصہ تھا۔ ان کا قد اور ان کا اعتماد بلے باز پر دباؤ ڈالنے کے لیے کافی تھا۔”*
3. **کپتانی میں مہارت:** بطور کپتان، عمران خان اپنے بولروں کو ہدایات دینے میں ماہر تھے۔ *”وہ جانتے تھے کہ کس بلے باز کو کس طرح آؤٹ کیا جا سکتا ہے۔ وہ اپنے بولروں سے کہتے، ‘اسے باہر والی گیند پر ڈرائیو کھیلنے پر مجبور کرو، وہ ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا۔’ اور پھر وہی ہوتا۔ ان کی قیادت میں پاکستانی بولنگ اٹیک ایک مہلک یونٹ کی طرح کام کرتا تھا۔”*
راوی شاستری اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگرچہ میدان میں دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کو شکست دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی تھیں، لیکن میدان کے باہر دونوں ممالک کے کھلاڑیوں کے درمیان باہمی احترام اور دوستانہ تعلقات تھے۔
*”عمران خان ایک شریف النفس انسان تھے،”* شاستری کہتے ہیں۔ *”میدان میں وہ سخت حریف تھے، لیکن اس کے باوجود وہ کھیل کے اصولوں کی پابندی کرتے تھے۔ میچ کے بعد وہ آپ سے ملتے، بات چیت کرتے۔ ان میں ایک شاہانہ انداز تھا۔ میں نے انہیں ہمیشہ ایک پراعتماد اور بااصول شخص کے طور پر پایا۔”*
شاستری نے ایک اور واقعہ بیان کیا جب دونوں کھلاڑی ایک ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ *”یہ آسٹریلیا کا دورہ تھا۔ ہم دونوں ٹیمیں ایک ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھیں۔ رات کے کھانے پر میں نے عمران سے پاکستانی بولنگ اٹیک کے بارے میں بات کی۔ وہ بہت کھلے ذہن کے ساتھ بات کر رہے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے نوجوان بولروں کو کس طرح تربیت دیتے ہیں۔ یہ باتچیت محض ایک کھلاڑی سے دوسرے کھلاڑی کی گفتگو تھی، جس میں حب الوطنی یا حریفانہ جذبہ شامل نہیں تھا۔ یہی تو کرکٹ کی خوبصورتی ہے۔”*

1992 کے ورلڈ کپ تک آتے آتے، راوی شاستری کا کیرئیر اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہا تھا، جبکہ عمران خان اپنی آخری جیت کی کہانی لکھنے جا رہے تھے۔ شاستری اس ورلڈ کپ کے دوران عمران خان کی کارکردگی اور قیادت کے معترف ہیں۔
*”عمران اس ورلڈ کپ میں زخمی تھے، لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی،”* شاستری یاد کرتے ہیں۔ *”انہوں نے اپنی ٹیم کو حوصلہ دیا اور مشکل حالات میں بھی ان کی رہنمائی کی۔ سیمی فائنل میں ہمارا میچ پاکستان سے نہیں ہوا، لیکن میں فائنل میں ان کی کارکردگی دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے انگلینڈ کے خلاف وہ تاریخی فتح دلائی۔ یہ ان کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ایک کپتان کے طور پر، میں ان کی صلاحیتوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔”*
راوی شاستری کا ماننا ہے کہ عمران خان جیسے کھلاڑیوں سے مقابلہ کرنے کے تجربات نے انہیں بہتر کھلاڑی بننے میں مدد دی۔ *”جب آپ کے سامنے عمران خان جیسا بولر ہو، تو آپ کو اپنی ہر اننگز کی قدر آتی ہے۔ آپ سیکھتے ہیں کہ صبر کرنا، موقع کا انتظار کرنا، اور پھر اسے غنیمت جاننا کیا ہوتا ہے۔ آج کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے یہ سبق بہت اہم ہیں۔”*
وہ کہتے ہیں کہ آج کی کرکٹ میں رفتار تو ہے، لیکن عمران خان جیسی شخصیتوں کا جادو کم نظر آتا ہے۔ *”عمران صرف ایک کھلاڑی ہی نہیں تھے، وہ ایک لیجنڈ تھے۔ ان میں ایک چارزمہ تھا، ایک رعب تھا۔ وہ کرکٹ کے میدان کے بادشاہ تھے۔ آج بھی جب میں ان کی بات کرتا ہوں، تو مجھے فخر ہوتا ہے کہ میں نے ان جیسے عظیم کھلاڑی کے خلاف کھیلنے کا موقع پایا۔”*
راوی شاستری کے الفاظ میں عمران خان کے خلاف کھیلنے کا تجربہ محض کرکٹ کے ایک میچ کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی داستان ہے جو کھیلوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام، حریفانہ جذبے اور انسانی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔ شاستری کی زبانی یہ بیانیہ ہمیں بتاتا ہے کہ حقیقی کھیل وہی ہے جہاں جیت اور ہار کے پیچھے ایک دوسرے کے لیے عزت اور قدر کا جذبہ کارفرما ہو۔
عمران خان اور راوی شاستری کے درمیان یہ مقابلے کرکٹ کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہیں، جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ یہ کہانی نہ صرف کرکٹ کے شائقین کے لیے ایک سبق ہے، بلکہ ان نوجوانوں کے لیے بھی مشعل راہ ہے جو کھیلوں کو ایک مثبت سوچ کے ساتھ اپنانا چاہتے ہیں۔ آخر میں، راوی شاستری کے انہی الفاظ کے ساتھ، *”عمران خان صرف پاکستان کے ہیرو نہیں ہیں، بلکہ وہ پوری دنیا کی کرکٹ کے لیے ایک عظیم سرمایہ ہیں۔ ان کے خلاف کھیلنا میرے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔”*
یہی وہ جذبہ ہے جو کرکٹ کو صرف ایک کھیل نہیں، بلکہ زندگی کا ایک حسین باب بناتا ہے۔























