آئی سی سی کا کردار اور بھارت کی بڑھتی ہوئی من مانیاں

آئی سی سی کا کردار
اور
بھارت کی بڑھتی ہوئی من مانیاں
(تحریر: نوید انجم فاروقی)
مختلف بین الاقوامی کرکٹ اسٹارز نے کھیل میں بھارتی کرکٹ بورڈ(بی سی سی آئی) کی بڑھتی ہوئی من مانیاں اور آئی سی سی کے کردار کی کمزوری پر آواز اُٹھانا شروع کر دی ہے۔ کچھ عرصہ سے بھارتی کرکٹ بورڈ نے بین الاقوامی کرکٹ کو اپنی مرضی ومنشاء کے مطابق چلانے کی کوشش کر رکھی ہے۔ خاص طور پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے خلاف اُن کا رویہ انتہائی متعصبانہ ہے اور وہ کرکٹ میں بھی سیاست کو دھکیل لائے ہیں۔ کئی بار اُنھوں نے پاکستان میں اپنی ٹیم بھیجنے سے انکار کیا ہے اور اپنی ٹیم کیلئے کسی تیسرے ملک میں کھیلنے کی شرط لگائی ہے۔ اُن کا یہ متعصبانہ ر ویہ آئی سی سی پر بھی اثر انداز ہوتا نظر آتا ہے جہاں اکثر ایمپائرز بھارتی ٹیم کے حق میں غلط فیصلے دیتے ہوئے نظر آتے جس کی حالیہ مثال ایشیاء کپ 2025 میں ایمپائرنگ کا گھٹیا معیار ہے جس کے باعث آئی سی سی پر بھی اُنگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔
اِسی ٹورنامنٹ کے پاک بھارت میچ میں کپتانوں کے ہاتھ نہ ملانے کا تنازعہ پیدا ہوا جس میں آئی سی سی ریفری پائی کرافٹ قصور وار ٹھہرے تو پاکستان نے اُن کی برطرفی کا مطالبہ کیا جو پائی کرافٹ کے معافی مانگنے پر ختم ہوا۔ اَب ایشیاء کپ کے سپرفور مرحلے کے پاک بھارت میچ میں تھرڈ ایمپائر نے فخر زمان کو غلط آؤٹ دیا جس پر ایک مرتبہ پھر تنازعے نے جنم لیا اور اِس کے پیچھے بھی بھارت ہی ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے انگلینڈ کے سابق کپتان اور کمنٹیٹر ناصر حسین نے اپنے بیان میں آئی سی سی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور بھارت پر الزام لگایا ہے کہ وہ کھیل میں سیاست کو لا کر کرکٹ جیسے کھیل کی خوبصورتی کو گہنا رہے ہیں۔ دوسری طرف سری لنکا کے سابق کپتان اور عظیم بلے باز نے بھی اِن واقعات کو کرکٹ کے لئے
خطرناک قرار دیا ہے۔


اِس کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے فخر زمان کے آؤٹ کو بھی مشکوک قرار دیا ہے اُن کے علاوہ بھی دیگر کئی کرکٹرز کا کہنا ہے کہ جب کھلاڑی واضح آؤٹ نہ ہو تو شک کا فائدہ ہمیشہ بلے باز کو دیا جاتا ہے لیکن یہاں تھرڈ ایمپائر نے باؤلنگ سائیڈ کے حق میں فیصلہ دیا کیونکہ وہ بھارت کی ٹیم تھی۔ پاکستان کے اکثر سابق کرکٹرز جن میں وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر شامل ہیں نے فخر زمان کے آؤٹ کو مشکوک قرار دیا۔ اُس مرحلے پر فخر زمان پوری فارم میں کھیل رہے تھے اور بھارت کیلئے خطرناک ثابت ہو رہے تھے تو اُن کے آؤٹ کے غلط فیصلے نے میچ کی صورتحال کو بدل کر رکھ دیا۔ آئی سی سی کو اِس جانب غور کرنا ہوگا اور تمام ٹیموں کو برابری کے حقوق دینے کے ساتھ ایمپائرنگ کے معیار کو بھی بہتر بنانے کی طرف توجہ دی جائے۔آئی سی سی کو مختلف تنازعات میں قصور وار کو سخت سزا دینی چاہیے تاکہ اِس سلسلے کو ختم کیا جا سکے۔