
چینی کی قیمتیں اور شوگر مافیا
ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ
22 ستمبر ، 2025
پاکستان میں ہر چند سالوں بعد چینی کا بحران پیدا کیا جاتا ہے جسکے پیچھے بارسوخ اور طاقتور شوگر مافیا ہوتا ہے جو ذخیرہ اندوزی کے ذریعے چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرکے اسکی قیمتیں بڑھا دیتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت 99فیصد چینی گنے سے تیار کی جاتی ہے جسکا ملکی جی ڈی پی میں حصہ 0.7فیصد، زرعی سیکٹر میں 2.9فیصد اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں4.2فیصد ہے۔ پاکستان میں مجموعی 90شوگر ملز ہیں جس میں 77ملز آپریشنل ہیں۔ ان ملوں میں پنجاب میں 46، سندھ میں 38اور خیبرپختونخوا میں 6شوگر ملز شامل ہیں۔ ملک میں گنے کی مجموعی پیداوار 85سے 88ملین میٹرک ٹن ہے جس سے 5.5سے 7 ملین میٹرک ٹن چینی تیار کی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں چینی کی سالانہ کھپت 6.5ملین میٹرک ٹن ہے۔ چینی کی مجموعی پیداوار کا 20فیصد گھریلو صارفین اور 80فیصد بیوریجز اور کنفکشنری کی صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے۔
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (psma) کے 2023-24ءکے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں چینی کا فی کس استعمال 25 سے 27 کلو گرام سالانہ ہے جبکہ بھارت میں چینی کا فی کس استعمال 17.5کلو گرام اور دنیا میں چینی کا اوسطاً فی کس استعمال 20کلو گرام سالانہ ہے۔ میری تحقیق کے مطابق 2008ءمیں جب چینی کا بحران پیدا ہوا تو ڈیوٹی اور ٹیکسز ختم کرکے 7لاکھ 50ہزار ٹن چینی امپورٹ کی گئی۔ 2015-16ء میں 2لاکھ 73 ہزار ٹن چینی ایکسپورٹ کی گئی اور پھر مقامی مارکیٹ میں چینی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے 10ہزار ٹن چینی امپورٹ کی گئی۔ 2020ءمیں 6لاکھ 92زار ٹن چینی ایکسپورٹ کی گئی جس پر 5 روپے 35 پیسے فی کلو (2.5 ارب روپے) فریٹ سبسڈی دی گئی۔ رواں سال 2025ءمیں بھی یہی سب کچھ شوگر مافیا نے دہرایا۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (psma) نے شوگر ایڈوائزری بورڈ جسکے ممبرز اعلیٰ حکومتی افسران ہیں ، کو اضافی اسٹاک دکھاکر 7لاکھ 50 ہزار ٹن چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت لی جو جنوری 2024ءسے جنوری 2025ءکے دوران ایکسپورٹ کی گئی لیکن حقیقی اعداد و شمار حاصل ہونے کے بعد چینی کی پیداوار 6.6 ملین میٹرک ٹن سے کم ہوکر 5.8ملین میٹرک ٹن بتائی گئی جس کی وجہ psma نے خراب موسمی حالات بتائے۔ ایک ملین میٹرک ٹن چینی کی کمی نے سٹے بازوں کو چینی کی قیمتوں سے کھیلنے کا موقع فراہم کیا جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں چینی کا مصنوعی بحران پیدا ہوا اور چینی کی قیمت 140 روپے فی کلو سے 200 روپے فی کلو سے تجاوز کرگئی۔ اس دوران وفاقی حکومت نے چینی کی سرکاری قیمت 165روپے فی کلو مقرر کی لیکن چینی کی قیمتوں میںاضافے کا سلسلہ جاری رہا اور بالآخر حکومت کو زیادہ قیمتوں پر 5لاکھ میٹرک ٹن چینی امپورٹ کرنا پڑی جس پر حکومت نے مجموعی47 فیصد کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور دیگر محصولات کی مد میں 46ارب روپے معاف کردیئے تاکہ مقامی مارکیٹ میں چینی کم نرخوں 175روپے فی کلو پر سپلائی کی جاسکے لیکن شوگر مافیا نے اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ سوشل میڈیا پر عوام کو یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ چینی کے استعمال میں کمی کی جائے کیونکہ شوگر کے مریضوں کیلئے چینی نقصان دہ ہے اور ملک میں ذیابیطس کے مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ دنوں چینی کے بحران کا معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت میں لایا گیا جس نے اس سلسلے میں 4اراکین قومی اسمبلی پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جس کا حالیہ اجلاس میری صدارت میں 2 ستمبر کو پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ اجلاس میں تمام متعلقہ وزارتوں بالخصوص وزارت انڈسٹریز اور پروڈکشن، وزارت فوڈ سیکورٹی، ایف بی آر، secp، کمپی ٹیشن کمیشن آف پاکستان (ccp) اور دیگر متعلقہ محکموں کے سربراہان نے اپنی رپورٹس اور سفارشات پیش کیں جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ چینی کے کاروبار کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے تاکہ حکومتی خزانے کو نقصان نہ پہنچایا جاسکے۔ چینی کے شعبے کی ڈی ریگولیشن کیلئے وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر توانائی اویس لغاری کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی اب تک کی پیشرفت پر قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے آئندہ اجلاس میں بریفنگ لی جائے گی۔ ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن (secp) کے چیئرمین نے 81شوگر ملوں کے شیئر ہولڈرز کا ڈیٹا فراہم کیا جن میں کئی بڑی شخصیات کے نام بھی شامل تھے۔ میں نے شوگر ایڈوائزری بورڈ میں پرائیویٹ سیکٹر ، fpcci اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے نمائندوں کو بھی شامل کرنے پر زور دیا۔ میرے پوچھنے پر مسابقتی کمیشن آف پاکستان (ccp) کے نمائندے نے بتایا کہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (psma) اور شوگر ملوں نے ملی بھگت کرکے چینی کی قیمتیں بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا اور شواہد کی بنیاد پر مسابقتی کمیشن نے ان ملوں پر کروڑوں روپے کے جرمانے عائد کئے۔ اس سے قبل 2021 میں ccp نے چینی بحران پر شوگر ملز ایسوسی ایشن اور ملز مالکان پر 44 ار ب روپے کے جرمانے عائد کئے تھے جسے مختلف فورمز میں چیلنج کیا گیا ہے۔ ذیلی کمیٹی نے تجویز پیش کی کہ چینی ایکسپورٹ کرنے سے پہلے کم از کم ایک مہینے کی چینی کا بفر اسٹاک رکھا جائے اور چینی کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت انتظامی آپریشنز کئے جائیں تاکہ سٹے بازی اور چینی کا مصنوعی بحران پیدا کرکے قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جاسکے۔
https://e.jang.com.pk/detail/961318
آئی بی اے کراچی پر منی لانڈرنگ کا الزام، FIA نے ریکارڈ طلب کرلیا
22 ستمبر ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
کراچی( سید محمد عسکری ) وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن( آئی بی اے) کراچی سے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے سیکشن 25 کے تحت 22ستمبر کو معلومات اور ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون نے آئی بی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر فنانس سے ایک خط میں کہا ہے کہ یہ ایجنسی انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی کی ایک فوجداری انکوائری کر رہی ہے تاکہ مبینہ منی لانڈرنگ کے الزامات کی جانچ پڑتال کی جا سکے، جو کہ مختلف بنیادی جرائم بشمول فوجداری بدعنوانی، کرپشن اور عوامی اداروں کے فنڈز (خصوصاً وفاقی و صوبائی ایچ ای سی کے گرانٹس اور انڈومنٹ فنڈز \[FIBAT وغیرہ]) میں کرپٹ پریکٹسز کے ذریعے حاصل کی گئی رقوم سے منسلک ہیں۔الزام یہ ہے کہ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی میں آئی ٹی اور انفراسٹرکچر کے کنٹریکٹس اور پروکیورمنٹس منتخب اور مخصوص ٹھیکیداروں و وینڈرز کو دیے گئے، اور ان سے حاصل ہونے والے مجرمانہ منافع کو ایگزیکٹو بینیفشریز نے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کی شکل میں منی لانڈر کیا ہے۔ یہ صورتِ حال انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی متعلقہ دفعات کے تحت انکوائری کارروائی کی متقاضی ہے۔آئی بی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اکبر زیدی نے FIA کے خط ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہم مکمل تعاون کریں گے FIA کو جو بھی ریکارڈ اور چیزیں مانگی ہیں ہم دیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم مطمعین ہیں ہمارا باقاعدگی سے آڈٹ ہوتا ہے لیکن ہم حیران ہیں کہ اس کے پیچھے کون ہے اور ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2020 سے آج تک کی مدت کے لیے IBA اور اس سے وابستہ اداروں اور ٹرسٹ سے متعلق تصدیق شدہ ریکارڈ فراہم کرنے کی ضرورت ہے خط میںمالی سال 2020-2024 کے لیے فرینڈز آف IBA ٹرسٹ (FIBAT) سمیت IBA اور اس سے وابستہ ٹرسٹ کے سالانہ آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے، گرانٹس اور انڈوومنٹس کا مکمل ریکارڈ مانگا گیا ہے جب کہ وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (سندھ ایچ ای سی) تمام قومی اور بین الاقوامی نجی عطیہ دہندگان اور تنظیمیں ان کی گرانٹس اور عطیات (بجٹ بمقابلہ حقیقی) کے تفصیلی استعمال کے بیانات، بشمول معاون واؤچر، منظوری، اور بینک کی تقسیم کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں خط میں IBA اور تمام ملحقہ ٹرسٹوں کے مکمل بینک اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹس، ٹرسٹ ڈیڈز، رجسٹریشن دستاویزات، گورننس کا ڈھانچہ، اور آڈٹ شدہ اکاؤنٹس، عطیہ دہندگان کے حساب سے موصول ہونے والے فنڈز اور ان کا استعمال سے متعلق چیزیں بھی مانگی گئی ہیں۔ خط میں تمام ٹرسٹیز اور دستخط کنندگان کے نام اور CNICs، مالی سال 2020-2024 کی اندرونی آڈٹ رپورٹس اور انتظامی خطوط۔IBA اور اس سے منسلک ٹرسٹ کے لیے بیرونی آڈیٹرز کی رپورٹس، جنوری 2020 سے دیے گئے تمام پروکیورمنٹ/ڈیولپمنٹ/آئی ٹی انفراسٹرکچر کنٹریکٹس کی فہرست، بشمول ٹھیکیداروں/وینڈرز کے نام، معاہدوں کی گنجائش اور قیمت اور ایوارڈ اور تکمیل کی تاریخیں، مکمل پروکیورمنٹ فائلیں بشمول ٹینڈر نوٹس، موصول ہونے والی بولیاں، تشخیصی رپورٹس، پروکیورمنٹ کمیٹی منٹس، اور ایوارڈ لیٹر، وینڈر بینک کی تفصیلات، ادائیگی کے واؤچرز، اور ڈیلیوری کی تصدیق کے ساتھ بالا معاہدوں کے لیے ادائیگی کے ریکارڈ، IBA کے ایگزیکٹوز کے تمام غیر ملکی دوروں کی تفصیلات جو IBA فنڈز اور/یا اس کے ٹرسٹ وغیرہ کے ذریعے ادا کیے گئے ہوں کی بھی تفصیلات طلب کی گئی ہیں، خط میں آئی بی اے کا ضابطہ اخلاق، مفادات کے تصادم کی پالیسی، اور اثاثہ جات کے اعلانات (IBA کے انتظام کے) سے متعلق SOP، کی پروکیورمنٹ، فنانس، اور HR SOPs/ دستورالعمل بھی مانگا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مطلوبہ ریکارڈ ڈائریکٹر (فنانس) 22 ستمبر 2025 کو صبح 10 بجے ایف آئی اے کے انکوائری آفیسر/ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے سامنے ذاتی طور پر پیش کرے۔
وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے صوبوں سے مدد مانگ لی
22 ستمبر ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
اسلام آباد(عاطف شیرازی )وفاقی حکومت نےپیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے صوبوں سے مدد مانگ لی،وفاق نے پیٹرولیم ترمیمی ایکٹ دوہزار پچیس پر سختی سے عمل درآمد کے لیے صوبائی حکومتوں کو خط لکھ دیا -حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے تمام صوبوں سے کہا ہے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ کی روک تھام اور سپلائی چین کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے پٹرولیم ترمیمی ایکٹ 2025 پر سختی سے عملدرآمد کرائیں۔ذرائع کے مطابق صوبوں کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ حال ہی میں پیٹرولیم ایکٹ 1934 میں کی جانے والی ترمیم پٹرولیم ترمیمی ایکٹ 2025 نے پیٹرولیم شعبے کے ریگولیٹری فریم ورک میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں تاکہ اسمگلنگ کو روکا جا سکے اور سپلائی چین کی سالمیت کو یقینی بنایا جا سکے، اور اس سلسلے میں صوبوں کا کردار نہایت اہم ہے۔























